کسب حرام

تعمیر مساجد کی اہمیت

تعمیر مساجد کی اہمیت

اسلام کی پوری تاریخ مسجد سے وابستہ ہے تمام انبیاء کرام نے اللہ کی عبادت کے لیے مساجد کی تعمیر کا اہتمام کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو اپنا گھر بنانے سے پہلے مسجد قبا پھر مسجد نبوی تعمیر کرائی اور حقیقت تو یہ ہے کہ مسجد نبوی اسلامی حکومت کا مرکز تھی اور وہ اس دور کی سب سے بڑی اسلامی طاقت تھی سارے فیصلے مسجد نبوی ہی میں صادر ہوتے تھے مساجد ہی بچوں اور خواتین تمام مسلمانوں کی تربیت گاہیں تھی انہی میں اسلامی فوج کو بھی تربیت دی جاتی تھی ان میں ہر نسل اور ہر رنگ کا انسان چھوٹے اور بڑے کی تفریق اور بھید بھاؤ سے دور رہ کر جمع ہوتا تھا اور محبت کا پیغام ساری دنیا میں عام کرتا تھا.
قران کریم کی وہ ایات جن میں مسجد نبوی اور اس کی بنیادی اہداف و مقاصد کے بیان سے تعلق ہے وہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ مساجد توحید خداوندی اور اس سلام کی دعوت کے مراکز ہیں اور دین میں اخلاص پیدا کرنے کا سرچشمہ ہے نیز ان کی ابادی اللہ کے ذکر نماز اور عبادت سے ہوتی ہے باری جل شانہ کا ارشاد ہے.
اور یہ مسجدیں اللہ کی یاد کے واسطے ہیں سو مت پکارو اللہ کے ساتھ کسی کو۔
یہ آیت مسجد میں توحید کا پرچار کرنے اور مساجد کو ہر نوع کے شرک سے دور رکھنے کی ہدایت کرتی ہے باری جل شانہ کا ایک اور فرمان ہے:
اور سیدھے کرو اپنے منہ ہر نماز کے وقت اور پکارو اس کو خالص اس کے فرمانبردار ہو کر.
یہ ارشاد مساجد میں اخلاص کے ساتھ عبادت کرنے اور اخلاص کے منافی ہر عمل سے بچنے کی ہدایت دیتا ہے۔
مسجد کی بڑی اہمیت اور عظمت اس بنا پر ہے کہ اللہ پاک کی بندگی اس کے ذکر اور قران پاک کی تلاوت کا مقام ہے اس جگہ سے بڑھ کر قیمتی اور اعلی مقام کون سا ہو سکتا ہے جہاں اللہ تعالی کو یاد کیا جائے بندے کے سجدے ادا کیے جائیں اور اللہ تعالی کو پکارا جائے جس طرح انسانوں کا نصیب ہوتا ہے اسی طرح زمین کے ٹکڑوں کا بھی نصیب ہوتا ہے ہر زمین کے ٹکڑے کا مقدر اللہ کا گھر بننا نہیں اللہ پاک زمین کے جس حصے کو چاہتا ہے اپنا گھر بنانے کے لیے چن لیتا ہے اور وہ زمین کا ٹکڑا عزت شرف اور عظمت حاصل کر لیتا ہے۔حدیث شریف میں ہے کہ جس طرح تم اسمان کے ستاروں کو چمکتا و دمکتا دیکھتے ہو اسمان والے زمین پر قائم مسجدوں کو اسی طرح روشن اور منور دیکھتے ہیں مسجد کی جگہ کا یہ مقام اور مرتبہ ہے تو اس کے بنانے والوں آباد کرنے والوں کے مقامات کس درجہ کے ہوں گے اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے مسجدوں کی تعمیر کا کام انبیاء علیہم السلام سے لیا قران پاک میں خانہ کعبہ کے بارے میں یہ بات ہے کہ حضرت ابراہیم اور اسماعیل علیہ السلام نے اس کی تعمیر فرمائی اور ارشاد ربانی ہے۔
وہ بھی کیا وقت تھا جب ابراہیم خانہ کعبہ کی بنیادیں اونچی کر رہے تھے اور ان کے ساتھ ان کے بیٹے اسماعیل بھی اور وہ دونوں ان الفاظ میں اللہ سے دعا کر رہے تھے اے ہمارے پالنے والے ہم سے اس خدمت کو قبول فرما لے بے شک تو ساری فریادیں سننے والا اور فریاد کرنے والوں انسانوں کے حالات جاننے والا ہے۔
اسی طرح حضرت سلیمان علیہ السلام کے ذریعے مسجد اقصی کی تعمیر ہوئی اور کائنات کے سب سے عظیم پیغمبر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ پہنچے پہنچنے کے بعد مسجد نبوی کی تعمیر میں صحابہ کرام کے ساتھ بنفس نفیس شریک ہوئے تعمیر کے وقت خود اپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی پتھر اٹھا کر لاتے تھے صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ اپ زحمت نہ فرمائیں مسجد کی تعمیر کے لیے ہم کافی ہیں اس پر فرمایا جس طرح تم اجر کے محتاج ہو میں بھی اللہ کے اجر کا محتاج ہوں۔
اس کے علاوہ مسجد کی تعمیر کی ترغیب کے لیے حدیث پاک میں اتا ہے :

من بنى الله مسجدا بنى الله له بيتا في الجنه.

ترجمہ؛ جو اللہ کی رضا کے لیے مسجد بنائے گا اللہ کریم اس کے لیے جنت میں گھر بنا دیں گے ایک روایت میں ہے کہ جو شخص کوئی مسجد بنائے خواہ وہ پرندے کے گھونسلے کے برابر ہو یا اس سے بھی چھوٹی ہو یعنی کتنی ہی سادہ اور چھوٹی کیوں نہ ہو اللہ تعالی اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دے گا اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مساجد کو جنت کا باغ قرار دیا مسجد جانے والے کو حج اور عمرے کے ثواب کا مستحق قرار دیا تعمیر مسجد کو صدقہ جاریہ فرمایا مساجد کو اللہ کا گھر فرمایا مسجد کے پڑوس کو باعث فضیلت قرار دیا مساجد کو پرہیزگاروں کا ٹھکانہ قرار دیا.
اسی پر اکتفا نہیں کیا گیا کہ یہ صرف ترغیب ہے بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مساجد کی تعمیر کرنے کا حکم دیا ہے اور تعمیر مسجد میں خود شریک ہو کر اس کی فضیلت کو عملی طور پر بھی بیان کیا اور اس میں کام کرنے والے صحابہ کے کپڑوں سے خود دھول جھاڑتے رہے اپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل مسجد کی خدمت کرنے والوں کا اعزاز تھا۔
مسجدوں سے محبت ایمان کی نشانی ہے مسجد کی تعمیر میں حصہ لینے پر بڑا اجر و ثواب رکھا گیا ہے موجودہ دور میں مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ مسجدوں سے اپنا اور اپنے بچوں کے تعلق کو مضبوط کریں ان کو زیادہ سے زیادہ اباد کرنے کی فکر کریں ہر علاقے کے مسلمانوں کو فکر مند ہونے اور مساجد کے اپنے رشتوں کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے اللہ پاک ہمیں تعمیر مسجد کے ساتھ ساتھ ان کی ابادی کا ذریعہ بنائیں امین یا رب العالمین۔

اپنا تبصرہ بھیجیں