سورۃ العلق کا خلاصہ

سورۃ العلق کا خلاصہ

سورۃ العلق کا خلاصہ

سورۃ العلق؛

پہلی وحی میں نازل ہونے والی پانچ آیتیں، اس سورت کی ابتداء میں شامل ہیں جن میں قرآنی نصاب تعلیم کے خدو خال واضح کر کے انسان کی سرکشی کے اسباب سے پردہ اٹھایا گیا ہے اور ابو جہل ملعون کی بدترین حرکت کی مذمت کی گئی ہے۔ اللہ کو اور اپنی حقیقت کو فراموش نہ کر نا قرآنی نصاب تعلیم کی بنیاد ہے اور مجہولات کو معلومات کی شکل میں تبدیل کرنا اس کے مقاصد میں شامل ہے۔ فرعون ہذہ الامۃ ” ابو جہل کی سرکشی اور تکبر کی انتہاء کو بیان کیا کہ محمد علیہ السلام کو نماز جیسے عظیم الشان عمل کی ادائیگی سے روکنے اور آپ کا مبارک سر اپنے ناپاک قدموں کے نیچے کچلنے کی پلانٹنگ کرتا تھا۔ نازیبا حرکت سے باز نہ آنے کی صورت میں اسے جہنمی فوج کے ہاتھوں گرفتار کرائے اس کی جھوٹی اور گناہوں سے آلودہ پیشانی کے بالوں سے گھسیٹ کر جہنم رسید کرنے کی دھمکی دی گئی ہے اور ساتھ ہی نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے سرکش و نافرمانوں کی اطاعت کی بجائے اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہو کر اس کا تقرب حاصل کرتے رہنے کی تلقین ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں