سیلاب
سیلاب
اور ہماری قومی اور شرعی ذمہ داریاں
اللہ تعالیٰ نے قدرتی آفات جیسے سیلاب ، طوفان زلزلے، تیز ہواؤں اور وباؤں کے کچھ ظاہری و عارضی اسباب اور کچھ باطنی حقیقی اسباب مقرر فرمائے ہیں ۔ ظاہری اسباب سے بحث کا تعلق ہمارے علم سے ہو سکتا ہے ہمارے عمل سے نہیں جبکہ باطنی اسباب کا تعلق ہمارے علم کے ساتھ ساتھ عمل کے ساتھ بھی ہے اس لیے کہ ظاہری اسباب بھی تبھی ظاہر ہوتے ہیں جب باطنی حقیقی اسباب پائے جاتے ہیں۔
اس وقت تک ملک پاکستان کے اکثر علاقوں میں سیلاب کی وجہ سے لاکھوں لوگ بے گھر ہو گئے، بارشوں اور سیلابوں کی وجہ سے مجموعی اموات 700 سے زائد ہو چکی ہیں۔ خیبر پختونخوا میں صرف چند دنوں میں 400 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے ، جس میں بونیر ضلع میں 200 سے زیادہ افراد شامل ہیں۔ تقریباً 150 سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔ بونیر سمیت دیگر علاقوں میں کلاؤڈ برسٹ کی وجہ سے 150 ملی میٹر سے زائد بارش صرف ایک گھنٹے میں ہوئی جس نے سیلاب اور لینڈ سلا ئیڈ کو بھڑ کایا کئی گاؤں مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ بونیر کے بعد اب صوابی کی تازہ صورتحال بھی اس سے مختلف نہیں ہے، کئی شہادتوں کی اطلاعات ہیں۔ اس سب صورتحال میں سینکڑوں کی تعداد میں اموات ہوئی ہیں۔ گھر گر گئے ہیں، مویشی اور گھر یلو سامان بہہ گیا ہے، مارکیٹ بھی تباہ ہوگئی ہیں تعلیمی ادارے منہدم ہو چکے ہیں۔ لوگوں پر گویا قیامت صغری قائم ہوگئی۔
سیلاب قدرتی آفت
سیلاب ؛ ایک آزمائش
قرآن مجید میں اللہ تعالی فرماتے ہیں :
وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ من الخوف والجوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ (البقره: 155)
اور ہم تمہیں خوف، بھوک ، مال ، جان اور پھلوں کے نقصان سے ضرور آزمائیں گے۔”
سیلاب انہی آزمائشوں میں سے ایک ہے جس کے ذریعے اللہ بندوں کو آزماتا ہے کہ کون صبر کرتا ہے اور کون ناشکری کرتا ہے۔
سیلاب قدرت الہی کی نشانی
قرآن میں ہے:
فَأَخَذَهُمُ الطوفَانَ وَهُمْ ظَالِمُونَ (العنكبوت: (14)
پس ان کو طوفان ( سیلاب ) نے آلیا حالانکہ وہ ظالم تھے۔
یہ نوح علیہ السلام کی قوم کے متعلق ہے کہ اللہ نے اپنی قدرت کے ذریعے سیلاب کو عذاب بنا یا ، مزید فرمایا:
إنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ أَنْ تَزُولا، وَلَئِنْ زَالَتا إِنْ أَمْسَكَهُمَا مِنْ أَحَدٍ من بَعْدِهِ إِنَّهُ كَانَ عَلِيمًا غَفُورًا ( سورة فاطر (41)
اللہ ہی آسمانوں اور زمین کو قائم رکھے ہوئے ہے کہ وہ اپنی جگہ سے نہ ہٹیں، اور اگر وہ ہٹ جائیں تو اس کے بعد کوئی انہیں تھام نہیں سکتا۔ یقینا وہ جاننے والا بہت بخشنے والا ہے۔
سیلاب ؛ بسا اوقات عذاب الہی
اللہ تعالی فرماتے ہیں :
فكلا أخذنا بذنبه فمنهم مَنْ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِ حَاصِبًا وَمِنْهُم مِّنْ أَخَذَتْهُ الصَّيْحَةُ ومِنْهُم مَنْ خَسَفْنَا بِهِ الْأَرْضَ وَمِنْهُم مَنْ أَعْرقنا ( العنكبوت: (40)
پس ہم نے ہر ایک کو اس کے گناہوں کی وجہ سے پکڑا: ان میں سے بعض پر ہم نے پتھر برسا دیے بعض کو چنگھاڑ نے آپکڑا بعض کو ہم نے زمین میں دھنسادیا اور بعض کو ہم نے غرق کر دیا۔
جب انسان سرکشی پر اتر آتا ہے، اور اس کے نتیجے میں مشیت الہی کارفرما ہوتی ہے، تو یہی سمندر جو ایک لمحے قبل تک اس کے لیے نفع بخش تھا، وہی بارش جسے خود اللہ تعالی سے مانگا جاتا ہے، اسے ڈبو دیتی ہے، اور اس کی ہلاکت کا باعث بن جاتی ہے۔ اس الہی پکڑ سے اس کو رحمت الہی کے علاوہ کوئی اور نجات نہیں دے سکتا:
وَإِن نَّشَأْ نُغْرِقْهُمْ فَلَا صَرِيخَ لَهُمْ وَلَا هُمْ يُنقَذُونَ • إِلَّا رَحْمَةً مِّنَّا وَمَتَـٰعًا إِلَىٰ حِينٍ (يس: 43-44)
ہم چاہیں تو ان کو غرق کر دیں، کوئی ان کی فریاد سنے والا نہ ہواور کسی طرح یہ نہ بچائے جاسکیں۔
بس ہماری رحمت ہی ہے جو انھیں پار لگاتی ہے۔ فرعون نے جب سرکشی اختیار کی تو خدائی کا دعوے دار ہوا، اور موسیٰ و ہارون علیہم السلام کی رسالت کو ماننے سے انکار کیا۔ بنی اسرائیل کو آزاد کرنے سے بھی انکار کر دیا۔ اور موسی علیہ السلام اور بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا تو اللہ تعالی نے موسی علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو بحر قلزم میں راستہ دے کر پار کرادیا، اور اس سمندر میں فرعون اور اس کے ساتھیوں کو غرق کر دیا۔ قرآن نے بنی اسرائیل کو اللہ تعالی کی یہ عظیم نعمت یاد دلاتے ہوئے بیان فرمایا ہے:
وإِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ فَأَنجَيْنَاكُمْ وَأَغْرَقْنَا آلَ فِرْعَوْنَ وَأَنْتُمْ تَنْظُرُونَ (البقرة : 50)
یاد کرو وہ وقت، جب ہم نے سمندر پھاڑ کر تمھارے لیے راستہ بنایا، پھر اس میں سے تمھیں بخیریت گز روا دیا، پھر وہیں تمھاری آنکھوں کے سامنے فرعونیوں کو غرقاب کیا۔
قوم نوح کے عذاب کا جو نقشہ قرآن نے بیان فرمایا ہے، اس سے پتا چلتا ہے کہ ان پر آسمان خوب ٹوٹ کر برسا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا گویا پورا آسمان چھلنی ہو گیا ہے، جس سے پانی برس رہا ہے۔ دوسری جانب زمین سے بھی پانی ابلنا شروع ہو گیا اور پوری سطح زمین ایک چشمہ آب میں تبدیل ہوگئی۔ پانی کی اتنی کثرت ہو گئی کہ وہ فلک بوس پہاڑوں کی چوٹیوں تک جا پہنچا۔ پوری قوم اس میں ہلاک کر دی گئی۔ نہ تو ان کے بنائے ہوئے گھر ان کے کام آئے ، نہ اونچے اونچے ٹیلے اور نہ بلند و بالا پہاڑ ۔ صرف نوح علیہ السلام اور ان پر ایمان لانے والے ایک کشتی کے ذریعے حکم الہی سے نجات پاسکے
فَفَتَحْنَا أَبْوَٰبَ ٱلسَّمَآءِ بِمَآءٍۢ مُّنْهَمِرٍۢ • وَفَجَّرْنَا ٱلۡأَرۡضَ عُيُونٗا فَٱلۡتَقَى ٱلۡمَآءُ عَلَىٰٓ أَمۡرٖ قَدۡ قُدِرَ • وَحَمَلۡنَٰهُ عَلَىٰ ذَاتِ أَلۡوَٰحٖ وَدُسُرٖ • تَجۡرِي بِأَعۡيُنِنَا جَزَآءٗ لِّمَن كَانَ كُفِرَ (القمر: 11–14)
جب ہم نے موسلا دھار بارش سے آسمان کے دروازے کھول دیئے اور زمین کو پھاڑ کر چشموں میں تبدیل کر دیا اور یہ سارا پانی اس کام کو پورا کرنے کے لیے مل گیا جو مقدر ہو چکا تھا اور نوح کو ہم نے ایک تختوں اور کیلوں والی ( کشتی پر سوار کرادیا جو ہماری نگرانی میں چل رہی تھی۔ یہ تھا بدلہ اس شخص کی خاطر جس کی ناقدری کی گئی تھی ۔
سیلاب : اہل ایمان کے لیے شہادت یا کفارہ
بسا اوقات یہی سیلاب لوگوں کے لیے عذاب نہیں بلکہ انہیں شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز کرنے کے لیے آیا کرتا ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الشَّهِيدُ خَمْسَةٌ: المطعونُ، والمبطونُ، والغَرِیقُ، وصاحبُ الهدمِ، والشهيدُ في سبيلِ اللهِ (صحیح بخاری 2829، صحیح مسلم 1914)
یعنی: “شہید پانچ قسم کے ہیں: طاعون سے مرنے والا، پیٹ کی بیماری (المبطون) سے مرنے والا، ڈوبنے والا، عمارت یا ملبہ گرنے سے دب کر مرنے والا، اور اللہ کی راہ میں شہید ہونے والا۔”
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی مومن سیلاب میں جان بحق ہو جائے تو اللہ کے ہاں اس کے لیے یہ شہادت اور اجر کا باعث ہے۔
سیلاب کے ذریعے اللہ تعالیٰ ہم سے کیا چاہتے ہیں؟؟
سیلاب انسان کو توبہ و استغفار کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَلَنُذِيقَنَّهُم مِّنَ ٱلۡعَذَابِ ٱلۡأَدۡنَىٰ دُونَ ٱلۡعَذَابِ ٱلۡأَكۡبَرِ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُونَ (السجدة: 21)
اور ہم ان کو بڑے عذاب سے پہلے دنیا کے قریب تر (چھوٹے) عذاب کا مزہ ضرور چکھائیں گے، تاکہ وہ (اپنے گناہوں سے باز آجائیں۔
سیلاب کا مقصد یہ بھی ہے کہ انسان اپنی کوتاہیوں پر غور کرے، اپنی نافرمانیوں پر اللہ تعالی سے بخشش کا سوال کرے اور اللہ کی طرف رجوع کرے۔
قدرتی آفات سے بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
شکر کرتے رہنا:-
ہم اللہ تعالی کے فضل و کرم کے سائے میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ بے شمار انعامات ہیں جن کی بدولت ہماری زندگی گز ر رہی ہے۔ انسان پر فرض ہے کہ وہ ہر لمحہ مالک حقیقی کا شکر یہ ادا کرتا رہے، کیونکہ شکر نعمتوں میں اضافے کا سبب اور زوال نعمت میں بہت بڑی رکاوٹ ہے، جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
وإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ (سورة ابراهيم (8)
اور جب تمہارے رب نے صاف اعلان کر دیا کہ بے شک اگر تم شکر کرو گے تو میں ضرور ہی تمہیں زیادہ دوں گا اور بے شک اگر تم ناشکری کرو گے تو بلا شبہ میر اعذاب یقینا بہت سخت ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ شکر کرنے سے نعمتوں میں اضافہ ہوتا ہے اور ناشکری جسے کفر سے تعبیر کیا گیا ہے سے دنیا ہی میں آدمی عذاب الیم میں مبتلا ہو جاتا ہے، چنانچہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
ذَٰلِكَ بِأَنَّ ٱللَّهَ لَمۡ يَكُ مُغَيِّرٗا نِّعۡمَةً أَنۡعَمَهَا عَلَىٰ قَوۡمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنفُسِهِمۡۙ وَأَنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٞ (الأنفال: 53)
یہ اس لیے کہ بے شک اللہ بھی وہ نعمت بدلنے والا نہیں جو اس نے کسی قوم پر کی ہوں، یہاں تک کہ وہ بدل دیں جو ان کے دلوں میں ہے اور اس لیے کہ بے شک اللہ سب کچھ سننے والا سب کچھ جاننے والاھے۔
تقویٰ اختیار کرنا:-
پریشانیوں، تکلیفوں اور قدرتی آفات سے بچاؤ کا ایک سبب تقوی بھی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَمَن يَتَّقِ ٱللَّهَ يَجۡعَل لَّهُۥ مَخۡرَجٗا • وَيَرۡزُقۡهُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَحۡتَسِبُۚ وَمَن يَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱللَّهِ فَهُوَ حَسۡبُهُۚ إِنَّ ٱللَّهَ بَٰلِغُ أَمۡرِهِۦۚ قَدۡ جَعَلَ ٱللَّهُ لِكُلِّ شَيۡءٖ قَدۡرٗا (الطلاق: 2-3)
اور جو شخص اللہ تعالی کا تقویٰ اختیار کرتا ہے، وہ اس کے لیے نجات کی راہ نکال دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے، جہاں سے اس کا گمان بھی نہ ہو۔
گنا ہوں سے معافی مانگنا:-
جس طرح گناہ مصیبتیں اور پریشانیاں لانے کا سبب ہیں ، اس طرح گنا ہوں سے معافی مانگنا اور استغفار کرنا مصائب والام کو روکنے کا زبردست ذریعہ اور سبب ہیں، اللہ تعالی کا اپنے بندوں سے وعدہ ہے:
ومَا كَانَ اللهُ لِيُعَذِّبْهُمْ وَأَنتَ فيهمْ وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ (الانفال : 33)
اور اللہ ایسا نہیں کہ انہیں عذاب دے، جب کہ آپ ( یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم)ان میں ہیں اور اللہ انہیں کبھی عذاب دینے والا نہیں جب کہ وہ بخشش مانگتے ہوں۔
🔹 فضالہ بن عبیدؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“ العبدُ آمنُ من عذابِ اللهِ ما استغفرَ اللهَ عزَّ وجلَّ”
یعنی: “بندہ اللہ کے عذاب سے اس وقت تک محفوظ رہتا ہے جب تک وہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا رہتا ہے۔” مسند أحمد (38/427)،
یعنی جب تک کسی قوم میں دو چیزیں موجود ہوں وہ عذاب سے بچی رہتی ہے: قوم میں اللہ کا نبی موجود ہو تب تک اس قوم پر اللہ کا عذاب نہیں آتا ۔
دوسری بات یہ ہے کہ وہ اس قوم پر بھی اللہ کا عذاب نہیں آتا جب تک وہ تو بہ واستغفار کرتی رہتی ہے۔ یہ اللہ کی طرف سے بندوں کے لئے امان اور تحفظ ہے۔ اب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم قوم میں موجود نہیں ہیں ۔ اب ہمارے پاس صرف عذاب سے بچاؤ کی صرف ایک امان ہے اور وہ ہے کثرت سے استغفار کرنا، لہذا اس میں بھی بھی کی اور کو تا ہی نہیں کرنی چاہیے۔
صدقہ و خیرات کرنا:-
📖 رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ صَدَقَةَ السِّرِّ تُطْفِئُ غَضَبَ الرَّبِّ (رواہ الطبراني في المعجم الكبير 10/198، والبيهقي في شعب الإيمان 3/258)
ترجمہ: “بے شک خفیہ طور پر کیا جانے والا صدقہ رب کے غضب کو ٹھنڈا کر دیتا ہے۔”
آسودگی میں کثرت سے دعا کرنا
مشکلات میں دعا کرانے کے لئے اصول یہ ہے کہ صرف تکلیف اور پریشانی ہی میں اللہ سے رابطہ نہ کیا جائے بلکہ خوش حالی اور آسانی کے دنوں میں بھی اسے یاد کرتے رہنا چاہیے ۔ روایت سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے
📖 رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَن سَرَّهُ أن يستجيبَ اللهُ له عندَ الشدائدِ والكُرَبِ، فليُكثِرِ الدعاءَ في الرَّخاءِ (رواہ الترمذي 3382، وقال الألباني: صحيح)
ترجمہ:- “جو اس بات کو پسند کرے کہ اللہ تعالیٰ اس کی دعا کو سختیوں اور مصیبتوں کے وقت قبول فرمائے، تو اسے چاہیے کہ آسودگی اور سہولت (صحت و فراغت) کے وقت دعا کثرت سے کرے۔”
جو شخص چاہتا ہے کہ تکلیف اور پریشانی میں اس کی دعا قبول ہو اسے چاہیے کہ وہ آسانی اور خوشحالی کے دنوں میں کثرت سے دعا کرتے رہا کرے، یعنی دعا والا تعلق اور رابطہ مضبوط اور تازہ دم رکھے محض تنگی میں اللہ کو یاد کرنا یہ مسلمانوں کا طریقہ نہیں، پریشانی میں تو کافر اور ملحد بھی اللہ کو پکار لیتے تھے۔ اللہ تعالی ان کی حالت بیان کرتے ہوئے فرمایا۔
وإِذَا أَنْعَمْنَا عَلَى الإِنسَانِ أَعْرَضَ ونأى بجانبهِ وَإِذَا مَسَّهُ الشَّرَ فَذُو دُعَاءِ عَرِيض قل أرأيتم إن كانَ مِنْ عِندِ اللهِ ثُمَّ كَفَرْتُم بِهِ مَنْ أَضَلَّ منْ هُوَ فِي شِقَاقٍ بَعِيدٍ (52 : فصلت)
اور جب ہم انسان پر انعام کرتے ہیں وہ منہ موڑ لیتا ہے اور اپنا پہلو دور کر لیتا ہے اور جب اسے مصیبت پہنچتی ہے تو ( لمبی چوڑی دعا والا ہوتا ہے ۔ کہہ دے کیا تم نے دیکھا اگر وہ اللہ کی طرف سے ہوا، پھر تم نے اس کا انکار کر دیا تو اس سے زیادہ کون گمراہ ہو گا جو بہت دور کی مخالفت میں پڑا ہو۔
یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ علیہ نے بھی ہمیں دعا کی تلقین کرتے ہوئے ارشاد فرمایا، چنانچہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
إنَّ الدعاء ينفع مما نزل ومما لمْ يَنزِلُ، فَعَلَيْكُمْ عِبَادَ اللَّهِ بِالدُّعَاءِ
بے شک دعا ایسی آفات کہ جو نازل ہو چکی ہیں اور ایسی جو ابھی نازل نہیں ہو ئیں سب کے لیے نفع بخش ہے، اس لیے اللہ کے بند و ادعا کو لازم پکڑو۔ رواہ الترمذي، رقم:( 3548 – وحسنه الألباني)