ماہ شعبان کے فضائل اور احکام

ماہ شعبان کے فضائل اور احکام

ماہ شعبان کے فضائل اور احکام

ماہ شعبان ہجری سال کا آٹھواں مہینہ ہے۔ شعبان کا معنی بکھرنا اور پھیلنا” ہے۔ اس نام کی وجہ تسمیہ کے حوالہ سے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”وسمي شعبان لتشعبهم في طلب المياه أو في الغارات بعد أن يخرج شهر رجب الحرام“

اس مہینے کا نام شعبان اس لئے پڑا کیونکہ اہل عرب اس مہینے میں پانی کی تلاش میں ادھر ادھر بکھر جاتے تھے یا حرمت والے مہینے یعنی رجب کے بعد جنگ وجدال کے لئے منتشر ہو جاتے تھے۔ فتح الباري (213/4)

ماہ شعبان کی فضیلت

شعبان روزہ کی وجہ سے فضیلت و امتیاز والا مہینہ ہے ، اس ماہ میں کثرت سے روزہ رکھنے پر متعدد صحیح احادیث مروی ہیں جن میں بخاری ومسلم کی روایات بھی ہیں ۔ بخاری شریف میں سیدہ عائشہ ﷺ کی روایت ہے :

لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرًا أَكْثَرَ مِنْ شَعْبَانَ، فَإِنَّهُ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شعبان سے زیادہ کسی مہینے میں روزہ نہیں رکھا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے مہینے کا تقریبا پورا روزہ رکھا کرتے تھے۔ (صحيح البخاري : 1970)
حضرت ام سلمہ رض سے مروی ہے :

سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، عَنْ صِيَامِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ : كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ : قَدْ صَامَ وَيُفْطِرُ حَتَّى نقُولَ : قَدْ أَفْطَرَ، وَلَمْ أَرَهُ صَائِمًا مِنْ شَهْرٍ قَطُّ، أَكْثَرَ مِنْ صِيَامِهِ مِنْ شَعْبَانَ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ، كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ إِلَّا قَلِيلًا۔

میں نے عائشہ رض سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے بارے میں دریافت کیا تو وہ کہنے لگیں : آپ روزے رکھنے لگتے تو ہم کہتیں کہ آپ تو روزے ہی رکھتے ہیں، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ چھوڑتے تو ہم کہتے کہ اب نہیں رکھیں گے، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شعبان کے مہینہ سے زیادہ کسی اور مہینہ میں زیادہ روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا ، آپ سارا شعبان ہی روزہ رکھتے تھے ، آپ شعبان میں اکثر ایام روزہ رکھا کرتے تھے۔ (1156 صحیح مسلم)
ام سلمہ رض سے روایت ہے:

مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ إِلَّا شَعْبَانَ وَرَمَضَانَ

میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لگا تار دو مہینوں کے روزے رکھتے نہیں دیکھا سوائے شعبان اور رمضان کے۔ صحيح الترمذي : 736
ان ساری احادیث سے صرف روزہ رکھنے کا ثبوت ملتا ہے یعنی شعبان کا اکثر روزہ رکھنا اور جن روایتوں میں پورا شعبان روزہ رکھنے کا ذکر ہے ان سے بھی مراد شعبان کا اکثر روزہ رکھنا ہے۔

نصف شعبان کے بعد روزہ رکھنا

پہلے بیان کردہ احادیث سے معلوم ہوا کہ شعبان کا اکثر روزہ رکھنا مسنون ہے مگر کچھ ایسی روایات بھی ہیں جن میں نصف شعبان کے بعد روزہ رکھنے کی ممانعت آئی ہے۔ چنانچہ سیدنا ابو ہریرہ رض فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

إِذَا بَقِيَ نِصْفُ مِنْ شَعْبَانَ فَلَا تَصُومُوا

“جب نصف شعبان باقی رہ جائے ( یعنی نصف شعبان گزر جائے ) تو روزہ نہ رکھو۔” سنن الترمذي : 738 ،
اس روایت کی حجت کی بابت اگر چہ علمائے کرام کے مابین اختلاف ہے، اگر اسے صحیح بھی مان لیا جائے تو پھر بھی چند احباب اس سے مستثنی ہیں :
جسے روزے رکھنے کی عادت ہو ، مثلا کوئی شخص پیر اور جمعرات کا روزہ رکھنے کا عادی ہو تو وہ نصف شعبان کے بعد بھی روزے رکھے گا۔
جس نے نصف شعبان سے قبل روزے رکھنے شروع کر دئے اور نصف شعبان سے پہلے کو بعد والے سے ملا دیا۔
اس سے رمضان کی قضاء اور نذر میں روزے رکھنے والا بھی مستثنی ہوگا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں شعبان کا اکثر روزہ رکھنا چاہے ،لیکن انسان رکھ سکتا ہے اس حال میں کہ رمضان کے روزے کے لئے کمزور نہ ہو جائے۔

چھوٹے ہوئے روزوں کو پورا کریں

ہم میں سے بہت سے لوگوں کے خصوصاً خواتین کے کچھ نہ کچھ روزے رہ جاتے ہیں، تو کوشش کر کے ان ایام میں ان کی قضا کر لینی چاہیے، جیسا کہ سیدہ عائشہ رض فرماتی ہیں:

كَانَ يَكُونُ عَلَيَّ الصَّوْمُ مِنْ رَمَضَانَ، فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقْضِيَ إِلَّا فِي شَعْبَانَ

رمضان کے جو روزے مجھ سے چھوٹ جاتے تھے ، شعبان سے پہلے مجھے ان کی قضاء کی استطاعت نہ ہوتی۔ صحيح بخاري 1950، صحیح مسلم: 1146

نصف شعبان کا روزہ

ایسی کوئی صحیح حدیث نہیں ہے جس سے پندرہویں شعبان کو روزہ رکھنے کی دلیل بنتی ہو، صحیح احادیث سے شعبان کا اکثر روزہ رکھنے کی دلیل ملتی ہے جیسا کہ او پر متعدد احادیث گزری ہیں ۔ جو لوگ روزہ رکھنے کے لئے شعبان کی پندرہویں تاریخ متعین کرتے ہیں وہ دین میں بدعت کا ارتکاب کرتے ہیں اور بدعت موجب جہنم ہے۔ اگر کوئی کہے کہ پندرہویں شعبان کو روزہ رکھنے سے متعلق حدیث ملتی ہے تو میں کہوں گا کہ ایسی روایت گھڑی ہوئی اور بناوٹی ہے۔ جو گھڑی ہوئی روایت کو نبی صلی علیم کی طرف منسوب کرے اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔

نصف شعبان کی رات قیام

جھوٹی اور من گھڑت روایتوں کو بنیاد بنا کر نصف شعبان کی رات مختلف قسم کی مخصوص عبادتیں انجام دی جاتی ہیں ۔ ابن ماجہ کی روایت ہے:

”إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَقُومُوا لَيْلَهَا وَصُومُوا نَهَارَهَا.“

جب نصف شعبان کی رات آئے تو اس قیام کرو اور دن کا روزہ رکھو۔ ”سنن ابن ماجه : 1388“
اس رات صلاۃ الفیہ یعنی ایک ہزار رکعت والی مخصوص طریقے کی نماز پڑھی جاتی ہے، کچھ لوگ سو رکعات اور کچھ لوگ چودہ اور کچھ بارہ رکعات بھی پڑھتے ہیں۔ اس قسم کی کوئی مخصوص عبادت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب رض سے منقول نہیں ہے ۔ اسی طرح اس رات اجتماعی ذکر ، اجتماعی دعا، اجتماعی قرآن خوانی اور اجتماعی عمل کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔

ماہ شعبان میں کرنے کے کچھ کام:-

رمضان کی تیاری شعبان میں

معزز مہمان کے لیے تیاری کا سب سے پہلا طریقہ یہ ہے کہ ماہِ شعبان میں ہی روزے شروع کر دیے جائیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق روایات میں ہے کہ یوں تو آپ ہر مہینے کچھ نہ کچھ روزے رکھتے تھے ، لیکن خصوصیت سے شعبان میں بہت روزے رکھتے تھے بلکہ کبھی کبھی پورے مہینہ کے روزے رکھتے تھے :

عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ رضى الله عنها، حَدَّثَتْهُ قَالَتْ: لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ ﷺ يَصُومُ شَهْرًا أَكْثَرَ مِنْ شَعْبَانَ، فَإِنَّهُ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ !

رسول الله صلى الله علیہ وسلم رمضان کے علاوہ جس مہینہ میں سب سے زیادہ روزے رکھتے وہ شعبان ہے ، کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پورا شعبان روزے رکھتے تھے۔
ہمیں نفل نمازوں کی طرح نفلی روزوں کا شوق بھی پیدا کرنا چاہیے۔ کم از کم ہر مہینے میں 14،13، 15 کا روزہ رکھنا چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول بھی تھا ، لہذا مستحب یہی ہے کہ ہر مہینہ کے تین روزے رکھ لیے جائیں۔ ان روزوں کی وجہ سے رمضان کے روزے رکھنے بھی آسان ہو جاتے ہیں۔

ماہ شعبان ، ماہ رمضان کے لیے مقدمہ

ماہ شعبان ، ماہ رمضان کے لیے مقدمہ کی مانند ہے لہذا اس میں وہی اعمال بجالانے چاہیں جن کی کثرت رمضان المبارک میں کی جاتی ہے یعنی روزے اور تلاوت قرآن حکیم۔
علامہ ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ لطائف المعارف میں لکھتے ہیں کہ : ”ماہ شعبان میں روزوں اور تلاوت قرآن حکیم کی کثرت اس لیے کی جاتی ہے تا کہ ماہ رمضان کی برکات حاصل کرنے کے لیے مکمل تیاری ہو جائے اور نفس، رحمن کی اطاعت پر خوش دلی اور خوب اطمینان سے راضی ہو جائے۔

رمضان سے اظہار محبت اور اس کے لیے دعائیں

رمضان کا مہینہ اللہ رب العزت کی طرف سے عظیم نعمت ہے ، اللہ تعالیٰ جن لوگوں پر اپنے فضل اور انوار و برکات کے دروازے کھولتے ہیں وہ اس سے محبت کرتے ہیں ، اس کی قدر بھی پہچانتے ہیں اور اس میں نازل ہونے والے انوار و برکات کا نہ صرف مشاہدہ کرتے ہیں بلکہ سمیٹتے بھی ہیں۔
نبی کریم صلی علیم کا معمول تھا کہ آپ رمضان المبارک کی آمد سے پہلے اللہ تعالیٰ سے یوں دعا کرتے تھے

: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي رَجَبٍ وَشَعْبَانَ، وَبَارِكْ لَنَا فِي رَمَضَانَ .

اے اللہ ! رجب اور شعبان میں ہمیں برکت عطا فرما اور ہمیں رمضان تک پہنچا۔🤲

اپنا تبصرہ بھیجیں