امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے فریضے کی شرائط

امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے فریضے کی شرائط

امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے فریضے کی شرائط

پہلی شرط ، علم

اگر آپ اس فریضہ کو کما حقہ ادا کرنا چاہتے ہیں کہ تو سب سے پہلے آپ کو معروف اور منکر کا علم ہونا چاہیے۔ معروف وہ نہیں جسے میں یا میرا معاشرہ اچھا سمجھتا ہو بلکہ معروف وہ ہے جسے قرآن وحدیث میں اچھا کہا ہو اور منکر وہ جس سے قرآن وسنت نے منع کیا ہو یا اس سے ڈرایا ہو۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

قُلْ هَذِهِ سَبِيْلى أَدْعُوا إِلَى اللهِ عَلَى بَصِيرَةٍ أَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِي ( يوسف: 108)

آپ کہہ دیجئے کہ یہی ہے میرا راستہ، میں دلیل و برہان کی روشنی میں اللہ کی طرف دعوت دیتا ہوں اور میرا ہر پیرو کار بھی ۔“
امام بخاری رحمہ اللہ نے “ صحیح البخاری “ میں ایک باب قائم کیا ہے جس کا عنوان ہے:

بَابُ الْعِلْمِ قَبْلَ الْقَولِ وَالْعَمَل

اور اس کے تحت یہ آیت بطور دلیل ذکر کی ہے :

فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَتِ ( محمد : 19)

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے علم کا ذکر پہلے اور استغفار کا ذکر بعد میں کیا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ علم قول و عمل سے پہلے ہے۔

دوسری شرط ؛ نرم رویه

امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ سر انجام دینے والا شخص اس فریضے کی ادائیگی کے دوران نرم رویہ اختیار کرے اور سخت رویہ اپنانے سے بچے ۔ کیونکہ اللہ رب العزت نے جب موسی اور ہارون علیہما السلام کو فرعون کی طرف بھیجا تو انھیں حکم دیا:

اذْهَبَا إِلَى فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَى فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَّيْنَا لَعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَى (طه: 43 / 44)

تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ کیونکہ وہ سرکشی اختیار” کر چکا ہے۔ لہذا تم دونوں اس سے نرم بات کرنا ، شاید کہ وہ نصیحت حاصل کرے یا ڈر جائے ۔”
یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ اگر فرعون جیسے سرکش انسان سے نرم بات کرنے کا حکم ہے.
تو مسلمانوں کیلئے تو اُس سے بھی زیادہ نرمی اختیار کرنے کا حکم ہے۔
اور اللہ تعالیٰ دعوت الی اللہ کا اسلوب ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے :

ادْعُ إِلَى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ

آپ اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ دعوت دیجئے اور ان سے ایسے طریقے سے مباحثہ کیجئے جو بہترین ہو ۔

نبی کریم اس کے بہترین نمونہ تھے

آپ نے ہمیشہ دعوت کے راستے میں نرمی و تحمل سے کام لیا۔ کتب سیرت میں اس کی بے شمار مثالیں ہیں ان میں سے چند ایک مندرجہ ذیل ہیں :
سیدنا انس رض بیان کرتے ہیں کہ ہم مسجد میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک دیہاتی آیا اور اس نے مسجد میں پیشاب کرنا شروع کر دیا۔ تو آپ کے صحابہ کرام رض فوراً اس کی طرف لپکے اور کہا ٹھہر جاؤ ٹھہر جاؤ۔ تو رسول اللہﷺ نے فرمایا :

لَا تُزْرِمُوهُ دَعُ

اسے مت کا ٹو اور چھوڑ دو ۔
چنانچہ انھوں نے اسے چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ پیشاب” سے فارغ ہو گیا۔
اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر فرمایا :

إِنَّ هَذِهِ الْمَسَاجِدَ لَا تَصْلُحُ لِشَيْءٍ مِنْ هَذَا الْبَوْلِ، وَلَا الْقَذَرِ إِنَّمَا هِيَ لِذِكْرِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَالصَّلَاةِ وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ

یہ مساجد یقینا اس پیشاب اور گندگی کیلئے نہیں بنائی گئی ہیں ۔ بلکہ یہ تو صرف اللہ عز وجل کا ذکر کرنے نماز پڑھنے اور تلاوت قرآن کیلئے بنائی گئی ہیں ۔”

اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا ایک ڈول منگوا کر اس کے پیشاب پر بہا دیا۔ صحیح مسلم: 285

معاویہ بن حکم السلمی رض بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھ رہا تھا کہ ایک شخص کو چھینک آئی۔ تو میں نے کہا:

يرْحَمُكَ الله

اس پر لوگ مجھے گھور گھور کر دیکھنے لگے۔ میں نے کہا: میری ماں مجھے گم پائے ! تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ مجھے اس طرح دیکھتے ہو! چنانچہ انھوں نے اپنے ہاتھ اپنی رانوں پر مارنے شروع کر دیئے ۔ میں نے جب دیکھا کہ وہ مجھے خاموش کرا رہے ہیں تو میں خاموش ہو گیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں :

مَا رَأَيْتُ مُعَلَّمًا قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ ، فَوَ اللَّهِ مَا كَهَرَنِي وَلَا ضَرَبَنِي وَلَا شَتَمَنِي

میں نے آپ سے پہلے اور نہ آپ کے بعد آپ سے بہتر تعلیم دینے والا کبھی نہیں دیکھا، اللہ کی قسم !
نے نہ مجھے ڈانٹا ، نہ مجھے مارا اور نہ مجھے برا بھلا کہا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ، إِنَّمَا هُوَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ

بے شک یہ نماز ایسی عبادت ہے کہ اس میں لوگوں کی بات چیت درست نہیں ہے۔ اس میں تو بس تسبیح و تکبیر اور قراءت قرآن ہی ہے۔ صحیح مسلم: 537

تیسری شرط ؛ صبر

امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے نتیجے میں اگر کوئی شخص آپ کو تکلیف پہنچائے تو آپ اس پر صبر کریں اور اسے اللہ کی رضا کیلئے برداشت کریں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ (العصر)

زمانے کی قسم ! بلا شبہ انسان گھاٹے میں ہے ، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے۔ اور ایک دوسرے کو حق کی تلقین اور صبر کی تاکید کرتے رہے۔“
اور حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا:

يُبْنَى أَقِمِ الصَّلوةَ وَأَمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَاصْبِرْ عَلَى مَا أَصَابَكَ إِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ ( لقمان : 17)

” میرے پیارے بیٹے ! نماز قائم کرنا ، نیکی کا حکم دینا ، برائی سے منع کرنا اور تمھیں جو تکلیف پہنچے اس پر صبر کرنا ۔ یہ یقینا اہمیت والے کاموں میں سے ہے۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر دعوت کی ذمہ داری عائد کی تو پھر آپ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:

يَأَيُّهَا الْمُدَّثرُ قُمْ فَأَنْذِرُ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرُ ( المدثر : 1/7)

اے چادر اوڑھنے والے ! اٹھئے اور لوگوں کو ڈرائے ۔ اور اپنے رب کی بڑائی بیان کیجئے ۔ اور اپنے کپڑے پاک رکھئے۔ اور بتوں سے کنارہ کش ہو جائیے ۔ اور احسان اس لئے نہ کیجئے کہ اس سے زیادہ حاصل کیجئے۔ اور اپنے رب کیلئے صبر کیجئے ۔“
ان تمام شرائط کو مدنظر رکھتے ہوئے انسان کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ سر انجام دینا چاہیے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں