فتح مکه (رمضان ۸ هجری)

فتح مکه (رمضان ۸ هجری)

فتح مکه (رمضان ۸ هجری)

صلح حدیبیہ کے معاہدے کے خاتمے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی سرعت سے جنگ کی تیاری شروع کر دی اور پوری کوشش کی کہ یہ خبر مکہ والوں کو ملنے نہ پائے ۔
حضور اکرم کی یہ چاہتے تھے کہ ایک دم مکہ والوں کے سروں پر جا پہنچیں تاکہ وہ مقابلہ نہ کرسکیں اور یوں مکہ کی مقدس سرزمین کسی خون ریزی کے بغیر اپنے اصل وارثوں کو واپس مل جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں خصوصی دعائیں کیں اور فرمایا: یا اللہ قریش کا کوئی فرد اپنا کام نہ کر پائے اور ہم اچانک ان تک پہنچ جائیں۔ جب سفر کی تیاری مکمل ہوگئی تب آپ نے صحابہ کو بتایا کس طرف جانے والے ہیں ۔

مکہ کی سمت یلغار

آخر کار حضور صلی اللہ علیہ نے دس ہزار سر فروشوں کے لشکر جرار کے ساتھ ، رمضان المبارک میں ۸ ہجری کو مدینہ سے کوچ فرمایا ،سفر شدید گرمی کے موسم میں تھا۔ سفر کی رفتار بھی دوگنی رکھی گئی تھی۔ چونکہ مسافر کو روزہ نہ رکھنے کی شرعی رُخصت ہے اس لیے رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے صحابہ کرام کو حکم دیا کہ وہ روزے نہ رکھیں ۔ آپ نے فرمایا: ” اپنے دشمن کے مقابلے میں قوی رہو۔ مگر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود عزیمت پر عمل پیرا ہو کر روزہ دار تھے۔
جب العرج کے مقام پر پڑاؤ ڈالا گیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم پیاس کی شدت کی وجہ سے سر پر پانی ڈالنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مشقت دیکھ کر بعض صحابہ نے چاہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم افطار کر لیں۔
انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! آپ نے روزہ رکھا ہے تو بعض لوگوں نے بھی روزہ رکھا ہوا ہے ۔“

تا ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے رہے مگر جب مکہ ۹۰ کلو میٹر دور رہ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کرید کے نخلستان میں پڑاؤ ڈالا اور سب کے سامنے ایک پیالہ پانی منگوا کر نوش فرمایا۔ یہ دیکھ کر سب لوگوں نے روزے رکھنا چھوڑ دیے۔

حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے ملاقات

لشکر کی نقل و حرکت اتنی خاموش اور تیز تھی کہ قریش کو آخر تک کچھ پتا نہ چلا اور مسلمانوں نے دو ہفتوں کی مسافت صرف ایک ہفتے میں لے کر لی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس رض بھی آپ کی روانگی سے بے خبر تھے اور اپنے اہل و عیال کو لے کر ہجرت کے ارادے سے نکل پڑے تھے۔ مکہ سے ۸۲ میل دور نخلہ کے مقام پر انہیں مسلمانوں کا عظیم لشکر آتا دکھائی دیا تو حیران رہ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں دیکھ کر بے حد خوش ہوئے اور انہیں ہم رکاب فرمالیا۔

ابو سفیان بن الحارث مسلمان ہو گئے

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے قریب ”مر الظہران” پہنچ کر پڑاؤ ڈالا ۔ تب قریش کو ہوش آیا اور وہ مکہ کے دروازوں پر اتنی بڑی فوج دیکھ کر سراسیمہ ہو گئے۔ یہاں ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ قریش کے متعصب اور سرکردہ لوگوں میں سے دو افراد نے اسلام قبول کر لیا، دونوں ابو سفیان تھے۔ ایک ابوسفیان بن حرب ، دوسرے ابوسفیان بن الحارث۔
ابوسفیان بن الحارث بنو ہاشم کے ممتاز رکن اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچازاد تھے۔ بچپن اور جوانی کے دوست تھے۔ شاعری میں بھی انہیں کمال حاصل تھا مگر انہوں نے شانِ رسالت میں نازیبا اشعار کہ کہہ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو بڑا دکھ پہنچایا تھا۔ تاہم اب ان کے دل میں اسلام کی سچائی کا یقین گھر کر گیا تھا۔ انہیں اپنے ماضی پر اتنی ندامت ہوئی کہ دل بھر آیا اور وہ اپنے ایک کم سن بچے کو ساتھ لیے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خیمہ گاہ میں حاضر ہوئے۔ آپ کو ان کی آمد کی اطلاع ملی تو ان کے دیے ہوئے زخم یاد آ گئے، آپ نے فرمایا: میں ملنا نہیں چاہتا۔
انہیں معلوم ہوا تو بے تاب ہو کر کہنے گے۔ اللہ کی قسم! اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ملنے کی اجازت نہ دی تو میں اپنے چھوٹے بچے کا ہاتھ تھام کر کسی صحرا میں نکل جاؤں گا اور ہم وہیں بھوکے پیاسے مر جائیں گے۔“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی گئی تو تڑپ اٹھے، انہیں بلایا اور مشرف بہ اسلام فرمایا۔

ابوسفیان بن حرب کا قبول اسلام

ادھر ابو سفیان بن حرب جو قریش کے سب سے جری اور نامور سردار تھے، دو ساتھیوں کے ہمراہ لشکر اسلام کا جائزہ لینے کے لیے نکلے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے مسلمانوں نے اپنے خیموں کے سامنے الاؤ روشن کر رکھے تھے، مکہ والے دور سے سینکڑوں روشنیاں جگمگاتی دیکھ کر مرعوب ہو رہے تھے۔ ابو سفیان بن حرب بھی یہ منظر دیکھ کر بے ساختہ پکار اٹھے: ایا لشکر اور ایسی روشنیاں میں نے زندگی بھر نہیں دیکھیں۔ ان کی بلند آواز رات کے سنائے میں دور تک گئی ۔
حضرت عباس رض نے تاریکی میں آواز پہچان لی اور بولے : “ارے اللہ کے بندے ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس ہزار مسلمانوں کے ساتھ آچکے ہیں۔ آج تم ان سے مقابلے کی تاب نہیں رکھتے ۔ ابوسفیان بولے: ” بچنے کی کوئی صورت ؟
حضرت عباس رضی اللہ جانتے تھے کہ اگر کسی مسلمان نے ابو سفیان کو دیکھ لیا تو ان کا بچنا مشکل ہو جائے گا۔ اس لیے فورا ابو سفیان کو اپنے خچر پر ساتھ بٹھا لیا اور اسے سرپٹ دوڑا کر لشکر کے مختلف حصوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے سید ھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گئے۔ اور حضرت عمر فاروق رض بھی پیچھے دوڑے آئے اور اجازت مانگے لگے کہ دشمنوں کے سردار کا سر قلم کر دیا جائے مگر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ابوسفیان جسے دشمن کو بھی کامیاب دیکھنا چاہے تھے۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دعوت اسلام دیتے ہوئے فرمایا:
ابو سفیان ! کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں؟“
ابوسفیان یہ سلوک دیکھ کر پینچ گئے ۔ بولے: ” میرے ماں باپ آپ پر قربان ، آپ کیسے مہربان ، کتنے دریادل اور کتنے با مروت ہیں۔ اللہ کی قسم ! میں سمجھ گیا ہوں کہ اگر اللہ کے سوا کوئی اور معبود ہوتا تو آج میرے کام ضرور آتا ”
گویا ابوسفیان کو مسئلہ توحید سمجھ آ گیا تھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ اب وہ اپنی زبان سے کلمہ شہادت پڑھ لیں اور توحید ورسالت دونوں کا اقرار کریں۔ اسی لیے فرمایا:
اور کیا اب تک اس بات کا وقت نہیں آیا کہ تم مان لو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟
ابوسفیان بولے: بلا شبہ آپ رحیم و کریم ہیں مگر اس معاملے میں ابھی تک مجھے کچھ تردد ہے۔“
حضرت عباس رض ساتھ کھڑے یہ سب دیکھ رہے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ ابوسفیان پر حقیقت واضح ہو چکی ہے مگر صرف ایک رئیسا نہ نخوت انہیں اللہ کی غلامی اور بارگاہ رسالت کی حلقہ بگوشی سے روک رہی ہے، انہوں نے فورا اس شیطانی وسوسے کو دور کرنے کے لیے کہا: اللہ کے بندے! اس سے پہلے کہ تمہاری گردن اڑا دی جائے اسلام قبول کر لو۔ یہ نسخہ کارگر ثابت ہوا۔ ابوسفیان تمام وسوسوں کو ذہن سے جھٹک کر اسلام لے آئے ۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ابو سفیان کے گھر میں پناہ لے وہ مامون ہے، جو حرم شریف میں پناہ لے وہ بھی مامون ہے اور جو اپنے گھر کا دروازہ بند کر لے وہ بھی مامون ہے ۔“

رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پیش کش اس لیے فرمائی تا کہ مکہ کے لوگ عدم تحفظ کا شکار ہو کرلڑنے بھڑنے کی کوشش نہ کریں؛ کیوں کہ بعض اوقات خوف بھی انسان کو حملے پر مجبور کر دیتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کے لیے امن کی عملی صورتیں مہیا فرما کراس کا انتظام کردیا کہ مسلمان کسی مزاحمت کا سامنا کیے بغیر مکہ میں داخل ہو جائیں اور مقدس زمین خونریزی سے پاک رہے۔

لشکر اسلام کا نظارہ

جب اسلامی لشکر مکہ میں داخل ہونے کے لیے تیار ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے حضرت عباس رض ابو سفیان بن حرب کو لے کر لشکر کے راستے میں ایک پہاڑ کی گھائی پر کھڑے ہو گئے تاکہ وہ انہیں پورے لشکر کا نظارہ کر اسکیں۔
تھوڑی دیر بعد اسلامی لشکر کے مختلف دستے اپنے اپنے قبائل کے پرچموں کے ساتھ ان کے سامنے سے گزرنے لگے۔

ابوسفیان ہر دستے کو دیکھ کر پوچھتے: ” یہ کن کا دستہ ہے؟“
حضرت عباس قبیلے کا نام بتاتے تو ابو سفیان کہتے: ” ان سے کیا غرض ؟
آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مهاجرین و انصار کے آہن پوش لشکر کے ساتھ تشریف لائے۔
حضرت عباس رضی اللہ نے ابو سفیان رضی اللہ کو بتایا تو وہ بولے:
بھلا ان کا کون مقابلہ کر سکتا ہے؟ عباس ! تمہارا بھتیجا تو بہت بڑا بادشاہ بن گیا ہے۔“

حضرت عباس رضی اللہ بولے: اللہ کے بندے ! یہ بادشاہت نہیں ، نبوت ہے۔“

تاہم صفوان بن امیہ اور کچھ لوگوں نے اپنے طور پر مکہ میں داخل ہونے والے اس دستے سے مزاحمت کی جو حضرت خالد بن ولید رض اللہ کی قیادت میں تھا، حضرت خالد رضی اللہ نے جوابی حملہ کیا تو چند لوگ مارے ۔ گئے اور باقی بھاگ کھڑے ہوئے ۔ اس جھڑپ کے سوا امن وامان کے خلاف کوئی بات نہ ہوئی۔

مکہ میں فاتحانہ داخلہ

حضوری اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ معظمہ میں داخل ہوئے تو گزشتہ زمانے کا ایک ایک منظر آپ کے سامنے تھا۔ یہی وہ سرزمین تھی جاں آپ پیدا ہوئے، پلے بڑھے، عزت و احترام کے ساتھ جوانی گزاری، پھر منصب نبوت ملنے پر اس ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے اُٹھے اور پورے شہر کی دشمنی مول لی۔ قریش کا ایک ایک ظلم و ستم آپکو یاد تھا جسکی انتہا یہ ہوئی کہ آپ کو اپنے پیروکاروں کے ساتھ جلاوطنی پر مجور ہونا پڑا۔ آج وہی شہر آپ کے سامنے سرنگوںتھا مگر آپ کی کیا اتنی بڑی فتح کے باوجود دنیا کے دوسرے کسی فاتح کی طرح سرشاری اور فخر کی کیفیت میں نہیں تھے۔ آپ اللہ کے حضور میں عجز و نیاز کی تصویر بنے ہوئے تھے، احساس شکر سے آپ کا سر مبارک سواری کی زمین سے لگا جاتا تھا۔

رحمت عالم سید ھے حرم میں تشریف لائے اور سواری پر ہی اس کا طواف کیا۔ آپ کے ہاتھ مبارک میں ایک چھڑی تھی ، طواف کے دوران آپ صلی اللہ وسلم کعبہ کے صحن میں نصب بتوں کی طرف چھڑی سے اشارہ کرتے گئے اور بت زمین بوس ہوتے چلے گئے۔
اس وقت آپ کی زبان مبارک پر یہ آیت تھی:

جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا

حق آگیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل مٹنے کے لیے ہی ہے ۔

اس کے بعد کعبہ کے کلید بردار عثمان بن طلحہ سے چابیاں لے کر کعبہ کا دروزہ کھلوایا۔ اندر دیواروں پرمشرکین کی بنائی ہوئی حضرت ابراہیم علیہ السلام اور فرشتوں کی تصاویر نظر آئیں ۔ آپ کے حکم سے صحابہ نے تصاویر کو آپ نے کعبہ کے اندر نماز ادا فرمائی۔

دروازے پر کھڑے ہو کر سرداران سے مخاطب ہوئے

اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، اپنے بندے کی مدد کی اور تمام لشکروں کو تنہا شکست دی۔ آج زمانہ جاہلیت کا ہر فخر اور خونریزی میرے قدموں تلے ہے۔ قریش کے لوگو! اللہ نے تمہارے جاہلیت پر مبنی غرور و پندار کوتوڑ دیا۔ سب لوگ آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی
سے بنے تھے۔“

مختصر سے خطبے کے بعد آپ نے قریش کے سرداروں سے دریافت کیا: ” بتاؤ، آج میں تم سے کیا سلوک کروں ؟ سرداران قریش کو اپنا ایک ایک جرم یاد تھا مگر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے رحم کی امید کر سکتے تھے، وہ التجا کے انداز میں
بولے: ” بھلائی کا سلوک فرمائیے ۔ آپ ایک مہربان بھائی اور مہربان بھائی کے فرزند ہیں۔“ اور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی کشادہ دلی سے فرمایا: جاؤ ! تم سب آزاد ہو ۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حد سے زیادہ فیاضانہ سلوک بھی ان کے سامنے تھا، اس لیے زیادہ دن نہیں گزرنے پائے تھے کہ تقریبا سب ہی ایمان لے آئے۔

کعبہ کا بتوں سے پاک ہونا

اللہ کا گھر شرک کی علامات سے پاک ہو چکا تھا، حرم و تو حید کا مرکز ہونے کا اعزاز واپس مل چکا تھا۔ قریش کے بڑے بڑے دشمن اور اسلام کی مخالفت میں پیش پیش رہنے والے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو ہو کر اسلام
قبول کر رہے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اب اپنے وطن مکہ والوں کے بھی سردار تھے۔ ایسے میں اگر یہ خیال کیا جاتا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اب مکہ مکرمہ ہی میں قیام فرمالیں گے اور اس کو اسلامی ریاست کا مرکز قرار دیں گے تو کوئی عجیب بات نہ تھی۔ انصار کے کچھ لوگ یہی باتیں کر رہے تھے؛ کیوں کہ ان کو مسلسل یہ دھڑکا لگا ہوا تھا۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑی پر دعاؤں میں مصروف تھےاور انصار کی نگاہیں آپ پر جمی ہوئی تھیں کہ دیکھیے آپ اس معاملے میں کیا فیصلہ فرماتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعے ان کے خدشات کی خبرمل گئی تھی ، اس لیے دعا سے فارغ ہو کر ان سے دریافت فرمایا: ” تم کیا کہہ رہے تھے؟ وہ بولے : ” کچھ نہیں یا رسول اللہ !“

مگر آپ نے اصرار کیا تو انہوں نے دھڑکتے دلوں کے ساتھ اپنی تشویش سے آپ کو آگاہ کر دیا۔ آپ کا ااپنے ان جانثاروں کی حوصلہ شکنی کیسے کر سکتے تھے ، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے محبت کی گرم جوشی کے ساتھ فرمایا: اللہ کی پناہ ، ایسا نہیں ہو سکتا الْمَحْيَا مَحْيَاكُمْ وَالْمَمَاتُ مَمَاتُكُم جینا مرنا تمہار نے ساتھ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں