غزوہ بدر ( رمضان المبارک ٢ھجری)
غزوہ بدر ( رمضان المبارک ٢ھجری)
قریش کے رؤسا کو اپنی قوم میں اشتعال پھیلانے کا جو موقع ملا انہوں نے اسے ضائع نہ کیا اور مسلمانوں کے خلاف بڑے پیمانے پر جنگ کی تیاری شروع کر دی، جنگ کے لیے سب سے اہم چیز عسکری اخراجات تھے۔ قریش نے اپنا سارا سرمایہ دے کر ابوسفیان کی قیادت میں ایک بڑا تجارتی قافلہ شام کی طرف روانہ کیا تا کہ اس کے منافع سے سامان جنگ تیار کیا جائے ۔
یہ قافلہ جاتے ہوئے مسلمانوں کی دسترس سے بچ کر نکل گیا تھا۔ واپسی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپاہی اسکی گھات میں تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بر وقت اطلاع مل گئی اور آپ ۸/ رمضان المبارک سن ۲ ہجری کو مہاجرین وانصار کے ان حضرات کو جو فوری طور پر میسر آسکے ، ساتھ لے کر اس قافلے کو روکنے کے لیے بذات خود روانہ ہو گئے ۔
مسلمانوں کی تعداد تین سو تیرہ تھی لشکر میں گھوڑے صرف دو اور اونٹ ستر تھے۔ ایک، ایک اونٹ پر تین ، تین افراد باری باری سوار ہوتے۔
قافلے کی جگہ مکہ کے لشکر سے سامنا
ادھر قریشی قافلے کے سردار ابوسفیان بن حرب کو مسلمانوں کی آمد کی خبر ہوگئی تھی، اس لئے وہ عام راستہ چھوڑ کر سمندر کے کنارے کنارے قافلے کو تیزی سے لے چلے اور ساتھ ہی ایک سوار کو مکہ کی طرف دوڑایا تا کہ قریش مدد کو پہنچیں اور اپنے تجارتی قافلے کی حفاظت کریں۔ قریش پہلے ہی مدینہ پر حملے کا بہانہ ڈھونڈ رہے تھے، اس خبر کا مکہ میں پہنچنا تھا کہ فورا نوسو پچاس مسلح افراد کا ایک لشکر جن میں دو سو گھڑ سوار اور سات سو اونٹ سوار تھے، مقابلے کے لیے نکل کھڑا ہوا۔ لشکر میں قریش کے بڑے بڑے سردار شریک تھے۔ چھ سو افراد زرہ پوش تھے ۔
رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کواطلاع پہنچی کہ تجارتی قافلہ بچ کر نکل گیا ہے اور قریش کا مسلح لشکر مقابلے کے لیے آیا چاہتا ہے تو آپ نے صحابہ سے مشورہ کیا، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ اور دوسرے مہاجرین نے اپنی جان نچھاور کرنے کا عزم ظاہر کیا، مگر آپ انصار کا جذبہ دیکھنا چاہتے تھے۔ انصار آپ کو اس وعدے پر لائے تھے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کریں گے جس کا مفہوم مدینہ کی حدود میں تحفظ فراہم کرنا تھا۔ کھلے لفظوں میں یہ معاہدہ نہیں تھا کہ اگر مدینہ سے باہر قریش سے جنگ ہوئی تو انصار اس وقت بھی مدد کے پابند ہوں گے، اس لیے آپ انصار کی رائے کے منتظر رہے۔ قبیلہ اوس کے سردار سعد بن معاذ رضی اللہ آپ کی منشا سمجھ گئے اور اُٹھ کر کہنے لگے :
آپ شاید ہماری رائے جاننا چاہتے ہیں۔ اللہ کے رسول ! آپ جس سے چاہیں صلح کریں، جس سے چاہیں لڑیں ۔ ہم آپ پر ایمان لا چکے ہیں۔ اللہ کی قسم! آپ فرمائیں تو ہم سمندر میں کود پڑیں۔“
قریش کا لشکر بدر کی طرف بڑھ رہا تھا جو مدینہ سے ۷۰ میل (۱۲۰ کلومیٹر ) جنوب میں ایک وادی ہے۔ مسلمان بھی اسی طرف روانہ ہوگئے۔ لشکر اسلام کا جنگی پرچم سفید رنگ کا تھا جو حضرت مصعب بن عمیر رض نے تھاما ہوا تھا۔ نبی اکرم ﷺ کے آگے آگے دو سیاہ رنگ کے جھنڈے تھے، ایک حضرت علی رض کے ہاتھ میں تھا اور دوسرا حضرت سعد بن معاذ رض کے پاس۔
رسول اکرم ﷺمسلمانوں کی صفیں درست کر رہے تھے ، حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ کے مشورے سے آپ کے لیے ایک ٹیلے پر کھجور کی شاخوں اور پتوں سے ایک سائبان بنادیا گیا تا کہ آپ وہاں تشریف رکھیں اور پورے میدان کا معائنہ کر کے احکامات دیتے رہیں۔ پچھے تیز رفتار سواریاں بھی رکھی گئیں کہ خدانخواستہ شکست ہوجائے تو دوسری طرف بیچ نکلنے کی صورت باقی رہے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ نبی اکرم ﷺکے محافظ مقرر ہوئے۔
اسلام اور کفر کا پہلا فیصلہ کن معرکہ
صبح سویرے قریش کا لشکر سامنے آگیا اور کچھ فاصلہ چھوڑ کر صف آرا ہوا۔ یہ اسلام اور کفر کا پہلا اورفیصلہ کن معرکہ تھا، ایک طرف تین سو تیرہ مسلمان تھے جن کا سامان جنگ بھی کم تھا۔ دوسری طرف تین گنا کفار بہترین اسلحے کے ساتھ موجود تھے۔ اس موقع پر نبی کریمﷺ گڑ گڑا کر اللہ سے دعائیں کر رہے تھے، آپ فرما رہے تھے: اے اللہ اگر آج مومنوں کی یہ جماعت ہلاک ہوگئی تو پھر تا قیامت روئے زمین پر تیری عبادت کرنے والا کوئی نہیں رہے گا۔
آپ اتنی بے تابی سے دعا فرما رہے تھے کہ آپ کی چادر شانہ مبارک سے بار بار سرک جاتی تھی۔ حضرت ابوبکر صدیق رض چادر درست کرتے اور تسلی دیتے: اللہ کے رسول ! آپ اپنے رب سے خوب مانگ چکے، اس نے جو وعدہ فرمایا ہے، وہ ضرور پورا ہوگا، اللہ آپ کی ضرور مدد کرے گا اور آپ کو فتحمند فرمائے گا۔
انفرادی مقابلے
جنگ اس طرح شروع ہوئی کہ کفار کی صفوں سے عمر رسیدہ عتبہ بن ربیعہ جو لشکر کا سردار تھا، اپنے بھائی شعبہ اور بیٹے ولید کے ساتھ میدان میں نکلا، تینوں نامور سپاہی تھے۔ انہوں نے آتے ہی للکارا : اے مسلمانو! کوئی ہم سے مقابلہ کرنے والا ہے تو آ جائے ۔ یہ سنتے ہی تین انصاری نو جوان معو ذ، عوف اور عبداللہ بن رواحہ آگے بڑھے۔ عتبہ نے پوچھا: ”تم کون ہو؟“ انہوں نے تعارف کرایا تو عتبہ نے کہا: ” ہمیں تم سے کوئی غرض نہیں، ہماری ٹکر کے لوگ مقابلے پر بھیجو۔“
رسول اللہﷺ خود ٹیلے سے جنگ کی کمان کر رہے تھے ، آپ نے ان تینوں کو واپس آنے کا حکم دیا اور آواز لگائی: اے عبیدہ بن حارث ! اٹھو، اے حمزہ! اُٹھو، اے علی ! اٹھو۔“ یہ تینوں قریشی تھے اور جنگجوئی میں نامور – عبیدہ بن حارث رض پینسٹھ سال کے تھے حمزہ رضی اللہ ستاون برس کے اور علی رض صرف پچیس سال کے۔ اب مقابلہ بالکل کانٹے کا تھا؛ کیوں کہ ادھر عقبہ بوڑھا تھا، شیبہ اس سے کچھ کم عمر اور والید بالکل جوان ۔ تینوں صحابی اپنی صف سے نکل کر ان کے سامنے پہنچے۔ انہوں نے چہرے اور سر ڈھانپے ہوئے تھے اس لیے عتبہ نے پوچھا۔ ” تم کون ہو؟ انہوں نے اپنے نام بتائے تو وہ بولا: ہاں تم لوگ ہمارے برابر کے ہو ۔ حضرت عبیدہ بن حارث رض عتتبہ بن ربیعہ سے نبرد آزما ہوئے ، حضرت حمزہ رضی اللہ اپنے ہم عمر شیبہ پر پل پڑے اور حضرت علی رض نے اپنے نو جوان مقابل ولید پر حملہ کیا۔ حضرت حمزہ رضی اللہ نے شیبہ کو وار کرنے کا موقع بھی نہ دیا اور ایک ہی ضرب سے اس کو قتل کر دیا۔ حضرت علی رضی اللہ کے سامنے ولید نہ ٹک سکا اور مارا گیا، مگر حضرت عبیدہ بن حارث رض اور عتبہ دونوں بہت پرانے شمشیر زن تھے، اس لیے دیر تک لڑتے رہے۔ دونوں کی تلوار میں دیر تک ٹکراتی ہیں، آخر حضرت عبیدہ رض اللہ لڑتے لڑتے زخمی ہو کر گر گئے ۔ حضرت حمزہ اور حضرت علی رضی الہنما نے انہیں گرتے دیکھا تو عتبہ کی طرف لپکے اوراس کا کام تمام کر دیا۔ پھروہ عبیدہ رض کو اٹھا کرآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے۔
حضرت عبیدہ رض نے آپ کے قدموں پر رخسار رکھتے ہوئے سوال کیا: “یا رسول اللہ ! کیا میں شہید ہوں؟
رحمت عالمﷺ نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ تم شہید ہو ۔ وہ کہنے لگے: ” آج ابو طالب زندہ ہوتے تو مانتے کہ ان کے اشعار کا پورا مستحق میں ہوں:
وَنُسْلِمُه حتى نُصْرَعُ حَوْلَهُ وَنَذْهَلُ عَنْ أَبْنَائِنَا وَ الْحَلَائِل
ہم محمد صلی اللہ علم کو کسی کے حوالے نہیں کریں گے، چاہے ہمیں موت کے گھاٹ اتار دیا جائے، ہم ان کے لیے اپنے بیٹوں اور بیویوں کو بھول جائیں گے۔
گھمسان کی جنگ
عتبہ ، شیبہ اور ولید کے مارے جانے کے بعد گھمسان کی جنگ شروع ہوئی۔ ۔ ادھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو جوش دلانے ہوئے فرمایا: ” اُس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے جو شخص بھی آج ان مشرکوں کے مقابلے میں صبر اور حو صلے سے لڑے گا اور پیٹھ نہیں پھیرے گا، اسے اللہ تعالیٰ جنت میں جگہ عطا فرمائیں گے۔
ابو جہل واصل جہنم
جنگ میں انصاری نو جوانوں کا جوش و خروش قابل دید تھا، دو انصاری بھائیوں معاذ بن عفراء اور معوذ بن عفراءنے جو حضرت عبدالرحمن بن عوف رض کے پاس کھڑے تھے، ان سے پوچھا: ” چچا! کیا آپ ابو جہل کو پہچانتے ہیں؟ انہوں نے جواب میں کہا: ہاں ! خوب پہچانتا ہوں تمہیں اس سے کیا کام؟
اس وقت ابو جبل گھوڑے پرسوار اپنے ساتھیوں کو جوش دلاتا اُدھر سے گزراعبدالرحمن بن عوف رض نے کہا ” وہ دیکھو، وہ رہا ابو جهل “ یہ سنتے ہی دونوں لڑکے پیدل ابوجهل کی طرف لپکے۔ اس دوران ایک اور انصاری معاذ بن عمرو جو پہلے سے ابو جہل کی تاک میں تجھے، اس پر جھپٹ پڑے اور اس کی پنڈلی پر تلوار کا ایسا وار کیا کہ وہ کٹ کر گر گئی۔ عکرمہ نے باپ کو زخمی ہوتے دیکھا تو معاذ بن عفراء رضی اللہ کے کندھے پر تلوار کا وار کیا جس سے ان کا بازو کٹ گیا لیکن تھوڑی سی کھال اس سے جڑی رہ گئی جس سے باز و لٹکنے لگا۔ حضرت معاذ رضی اللہ کو اس بازو کی وجہ سے لڑنے میں مشکل ہوئی تو اس پر اپنا پاؤں رکھ کر جھٹکا دیا جس سے وہ کھال بھی الگ ہو گئی اور انہوں نے بازو کو پھینک دیا، ادھر معوذ رضی اللہ نے ابو جہل پر دوسرا حملہ کر کے اسے شدید زخمی کر دیا اور خود بھی لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔
ابوجہل خون میں لت پت ہو کر گھوڑے سے نیچے گر چکا تھا۔ معاذ بن عفراء اور معاذ بن عمرو نے خیال کیا کہ ابوجہل مر چکا۔ دونوں دوڑے دوڑے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے اور ماجرا سنایا۔ آپ ص نے ان سے پوچھا تم میں سے کس نے اسے مارا ہے؟“ دونوں میں سے ہر ایک نے بیک آواز کہا: میں نے ” آپ ص نے پوچھا : کیا تم نے تلواریں صاف کر لیں ۔ جواب دیا: ” جی نہیں ۔“ آپ ص نے ان دونوں کی تلواروں پر لگا خون دیکھا تو معاذ بن عمرو رض کی تلوار پر لگا خون گواہی دے رہا تھا کہ مہلک وارانہوں نے کیا ہے۔ تاہم آپ ص نے حوصلہ افزائی کے لیے فرمایا: ” تم دونوں نے اسے مارا ہے ۔“ پھر آپ نے فیصلہ دیا کہ ابو جہل کے جسم کے کپڑے اور زرہ بکتر معاذ بن عمرو رضی اللہ کو دیے جائیں۔
مشرکین کو شکست فاش
جنگ کے انتہائی مرحلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر صدیق رض پہاڑی سے اُتر کر معرکے میں شریک ہو گئے حضرت علی رضی اللہ کہتے ہیں کہ جنگ بدر کے شدید لمحات میں ہم نبی اکرم صلی اللہ وسلم کی اوٹ لے رہے تھے۔ جب جنگ کے شعلے انتہائی حدت کو پہنچے تب نبی اکرم صلی اللہ علیہ نے مٹھی میں کچھ مٹی اٹھائی اور دشمن کی طرف پھینکتے ہوئے کہا: یہ چہرے خوار ہو جائیں ، اے اللہ ! ان کے دلوں کو خوف سے بھر دے، ان کے قدم اکھاڑ دے “ اس کے ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو فیصلہ کن حملے کا حکم دیا۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:
وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَمَى
اور آپ نے (خاک کی جو مٹھی ) پھینکی تھی ، وہ آپ نے نہیں اللہ نے پھینکی تھی ۔ (سورہ انفال)
مجزانہ طور پر کفار میں سے ہر ایک کی آنکھ میں یہ مٹی جاپڑی ، ان میں کھلبلی مچ گئی۔ ادھر صحابہ کرام نے زور دار حملہ کردیا ، مشرکین شکست کھا کر بھاگ نکلے۔ مسلمانوں نے پیچھا کرتے ہوئے بھی بہت سوں کو قتل اور گرفتار کیا ۔
فرشتوں کے ذریعے امداد – صحابہ کی کرامات
اس جنگ میں اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ذریعے مسلمانوں کی مدد فرمائی ۔ سورۃ الانفال میں ارشاد ہے: اس وقت کو یاد کیجئے جب آپ اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے پھر اللہ نے آپ کی سن لی اور کہا کہ میں آپ کی ایک ہزار فرشتوں سے مدد کروں گا جو سلسلے وار چلے آئیں گے۔
فرشتوں کی آمد سے کفار کے دلوں پر ہیبت طاری ہوگی اور وہ یہ کجھ گئے کہ مسلمانوں کے ساتھ اللہ کی مد ہے۔ فرشتوں نے ایک آدھ مشرک کو قتل بھی وقت بھی کیا مگر عملی طورپر جنگ میں حصہ نہیں لیاور نہ ای ہی فرشتہ پوری دنیا کے کافروں ک پاک کر سکتا ہے۔ انکا مقصد بس مسلمانوں کے حو صلے بڑھانا اور کفر کو رعوب کرنا تھا۔
شہدائے بدر اور کفار کے مقتولین کی تعداد
غزوۂ بدر میں صرف چودہ مسلمان شہید ہوئے ، ان میں سے چھ مہاجر اور آٹھ انصاری تھے۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ کے کم سن بھائی عمیر بن ابی وقاص رضی اللہ بھی اسی لڑائی میں شہید ہوئے۔ عبیدہ بن الحارث رضی اللہ نے جو عتبہ سے لڑتے ہوئے شدید زخمی ہوئے تھے، جنگ کے اختتام پر واپسی کے سفر میں جام شہادت نوش کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے ہاتھوں سے قبر میں اُتارا۔
قریش کے ستر افراد مارے گئے جن میں ان کے نامور سردار اور سپہ سالار شامل تھے۔ اتنے ہی کفار گرفتار ہوئے ۔ان میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس ، داماد ابو العاص ، اور حضرت بڑے بھائی عقیل بھی شامل تھے۔ یہ سب بعد میں مسلمان ہو گئے تھے۔
غزوہ بدر
بدر کی فتح نے پورے عرب میں مدینے والوں کی دھاک بٹھا دی، اس فتح نے ثابت کر دیا تھا کہ دنیا میں دین اسلام اپنے قدم جما چکا ہے اور اس کے علم بردار نہ صرف اپنا دفاع کر سکتے ہیں بلکہ اپنے مخالفین کو منہ توڑ جواب بھی دے سکتے ہیں ۔ مٹھی بھر مسلمانوں کا میدانِ بدر میں تین گنا دشمنوں پر غالب آنا اس بات کا ثبوت تھا کہ آسمانی مدد ان کے ساتھ ہے۔ ہیں۔ اس واقعے نے عرب میں ایک بڑے انقلاب کا نقارہ بجادیا تھا جس کی آواز دور دور تک سنی گئی۔
ادھر مسلمان شاداں و فرحاں تھے اور اُدھر مکہ کے گھر گھر ماتم بر پا تھا، ابولہب اس شکست کی خبر سنے کے نو دن بعد مر گیا۔ قریش نے بدر کے مقتولین کا انتقام لینے کی قسمیں کھائیں۔