امر بالمعرف اور نہی عن المنکر کے مقاصد
امر بالمعرف اور نہی عن المنکر کے مقاصد
امر بالمعروف کا مطلب ہے” نیکی کا حکم دینا” اور نہی عن المنکر کا مطلب ہے” برائی سے روکنا”.
امر با المعروف اور نہی عن المنکر کے بہت سے مقاصد اور اہداف ہیں:
پہلا مقصد
اصلاح نفس ہے یعنی خود اپنی اصلاح کرنا اور سیدھے راستے پر قائم رہنا ہے جیسا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے۔
وَمَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَمَا جَاءَنَا مِنَ الْحَقِّ وَنَطْمَعُ أَن يُدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصَّالِحِينَ (المائدة _(84)
اور ہم اللہ پر اور اس حق پر کیوں نہ ایمان لائیں جو ہمارے پاس آیا ہے؟ اور ہم امید رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں نیک بندوں کی صف میں شامل کر لے گا۔
دوسرا مقصد
دعوت الی اللہ کے سلسلے میں قول و فعل کے ذریعے لوگون کو اچھائی کی طرف دعوت دینا۔ اللہ تعالی نے اس دعوت کو واجب قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ المنكر وأولئك هُمُ الْمُفْلِحُونَ (آل عمران – 104)
اور تم میں ایک جماعت ایسی ضرور ہونی چاہیے جو نیکی کی دعوت اور بھلائی کا حکم دے اور برائیوں سے روکے اور یہی لوگ نجات پانے والے ہیں۔
تیسرا مقصد
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر انسانی زندگی کو سنوارنے کا ایک بہترین زریعہ ہے۔ یہ دونوں (امر بالمعروف و نہی عن المنکر ) انسانی زندگی کے ہر پہلو، اعتقادی، اخلاقی اور اجتماعی کو شامل کرتا ہے، اور یہ در حقیقت انسانیت کی فلاح کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ دونوں اسلام کی بنیادی خصوصیات میں سے ہیں اور اس فریضہ کو انجام دے کر ہم انسانیت کی اعلیٰ منزل تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔
چوتھا مقصد
بنی نوع انسان کی روح کو گناہوں کی آلودگی سے بچانا۔ ارشاد باری تعالی ہے :
إِنَّ ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوْا۟ إِذَا مَسَّهُمْ طَـٰٓئِفٌۭ مِّنَ ٱلشَّيْطَـٰنِ تَذَكَّرُوا۟ فَإِذَا هُم مُّبْصِرُونَ (الأعراف _201)
بے شک جو لوگ اہل تقویٰ ہیں انہیں جب کبھی شیطان کی طرف سے کسی خطرے کا احساس ہوتا ہے تو وہ چوکنے ہو جاتے ہیں اور انہیں اسی وقت سوجھ آجاتی ہے۔
امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا آخری مقصد امت اسلامی کی اخلاقی تربیت کرنا تا کہ اس دین مبین جو آخری دین ہے کی تبلیغ کے ساتھ ساتھ پیغام الہی کو لوگوں تک پہنچایا جاسکے۔
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ضرورت
پہلی بات:
یہ کہ بنی نوع انسان ہر وقت نفس امارہ کی پیروی کرتا ہے جس کی طرف اللہ تعالی نے بھی قرآن مجید میں اشارہ فرمایا ہے:
وَمَا أُبَرِءُ نَفْسِي إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّي إِنَّ رَبِّي غَفُورٌ رَحِيمٌ( يوسف – 53)
”اور میں اپنے نفس کی صفائی پیش نہیں کرتا، کیونکہ (انسانی) نفس تو برائی پر اکساتا ہے مگر یہ کہ میرا رب رحم کرے، بیشک میرا رب بڑا بخشنے ، رحم کرنے والا ہے۔“
انسان کے لئے اللہ نے حق و باطل کے دونوں راستے واضح کر کے دکھادیا لیکن ان راستوں کو انتخاب کرنے کا اختیار خود انسان کے ہاتھ میں رکھا ہے۔ اس لئے راستے کی انتخاب میں ہر انسان کو رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ لھذا برے اور گمراہ لوگوں کو وعظ و نصیحت کے زریعہ اچھی راہ کی طرف دعوت دینا ہماری اخلاقی اور شرعی فریضہ ۔ جیسا کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں :
أدْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلُهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ (النحل – 125)
(اے رسول ) حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ اپنے رب کی راہ کی طرف دعوت دیں اور ان سے بہتر انداز میں بحث کریں ، یقینا آپ کا رب بہتر جانتا ہے کہ کون اس کی راہ سے بھٹک گیا ہے اور وہ ہدایت پانے والوں کو بھی خوب جانتا ہے۔
اور تاکہ اس وعظ و نصیحت کے زریعے صحیح راستے کی انتخاب میں مدد فراہم کر سکے۔ اور یہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر سے ہی ممکن ہوتا ہے۔
دوسری بات:
امر بالمعروف صراط مستقیم سے غافل افراد کے لئے ایک تنبیہ ہے۔ نرمی اور شفقت سے ان کو دوبارہ صحیح راستے کی طرف لا سکتے ہیں جن سے یہ لوگ غافل ہیں۔
تیسری بات:
بدعت اور باطل کی طرف آواز دی جائے تو اس راستے پر چلنے والوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالی فرماتے ہیں :
وَلَكِنْ قَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (الأنعام (43)
اور لیکن ان کے دل اور سخت ہو گئے اور شیطان نے ان کے اعمال انہیں آراستہ کر کے دکھائے.
لوگ اس طرح اندھے ہو جاتے ہیں کہ ان کو باطل بھی حق نظر آنے لگتا ہے لھذا امر بالمعروف و نہی عن المنکرکے زریعہ سے شیطانی صفت لوگوں کے دھوکے میں پھسنے والوں کو نجات مل سکتی ہے ۔ اسی لئے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو اللہ تعالی نے واجب قرار دیا۔
چوتھی بات:
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا عمل ہر صاحب استطاعت شخص پر اخلاقا اور شرعا واجب ہے۔ کیونکہ یہ اصلاح نفس اور اصلاح معاشرے کا ایک بہتریں ذریعہ ہے اور دنیا اور آخرت میں کامیابی اور رحمت الھی کے نزول کا باعث بنتا ہے۔ اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں :
وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَى آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِم بَرَكَاتٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ (الأعراف 96)
اور اگر ان بستیوں کے لوگ ایمان لے آتے اور تقوی اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔”
پانچویں بات:
جب تک حیات انسانی کا وجود باقی رہے گا اس وقت تک امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا محتاج رہے گا کیونکہ انسان سے غلطیاں سرزد ہو جاتی ہیں تو ان کی اصلاح اور راہ راست کی طرف دعوت اور رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔
لا خَيْرَ فِي كَثِيرٍ مِن نَّجْوَاهُمْ إِلَّا مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَوْ مَعْرُوفٍ أَوْ إِصْلَاحِ بَيْنَ النَّاسِ وَمَن يَفْعَلُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا (النساء – (114)
ان لوگوں کی بیشتر سرگوشیوں میں کوئی خیر نہیں ہے مگر یہ کہ کوئی صدقہ، نیکی یا لوگوں میں اصلاح کی تلقین کرے اور جو شخص اللہ کی خوشنودی کے لیے ایسا کرے تو اسے عنقریب ہم اجر عظیم عطا کریں گے۔