امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی اہمیت و فضیلت

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی اہمیت و فضیلت

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی اہمیت و فضیلت

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ امت کے ہر فرد پر حسب استطاعت فرض امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ امت کے ہر فرد پر حسب استطاعت فرض ہے خواہ وہ علماء ہوں یا عوام الناس ہوں ۔
اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو محض خود نیک بن کر رہنے اور برائی سے بچنے کا حکم ہی نہیں دیا، بلکہ ساتھ ساتھ دوسروں کو نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا بھی حکم دیا ہے۔

كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ با الله ( آل عمران: 100)

تم ایک بہترین امت ہو، جسے انسانوں ) کی ہدایت و اصلاح) کے لیے میدان عمل میں لایا گیا ہے تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو“۔
یعنی امت مسلمہ بہترین امت ہے، یہ امت تمام انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے وجود میں لائی گئی ہے، اس کا مقصد وجود یہ ہے کہ نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے۔

امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے بغیر نجات و فلاح کا حصول ممکن نہیں ، امت مسلمہ خیر امت کے مقام پر اسی وقت فائز ہو سکتی ہے جب کہ وہ انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فرائض انجام دے۔

امت مسلمہ کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ نیکیوں کو فروغ دینے اور برائیوں کو مٹانے کے لیے اپنا اثر اور اپنی قوت استعمال کرے، گھر کے اندر اور گھر کے باہر جہاں بھی اس کے لیے ممکن ہو نیکیوں کا حکم کرے اور برائیوں سے روکے۔ ارشاد باری تعالی ہے :

وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكُوةَ وَيُطِيعُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُولَئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ( التوبة: 71)

مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں، ایک دوسرے کو نیکی کا حکم کرتے ہیں برائی سے روکتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، زکوۃ ادا کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ ضرور رحمت نازل فرمائے گا بے شک اللہ تعالیٰ غالب اور حکمت والا ہے۔
اس آیت کریمہ سے دو باتیں واضح ہوئیں :
پہلی بات یہ کہ اقامت صلوۃ ، ادائے زکوۃ اللہ اور اس کے رسول نئی تعلیم کی اطاعت کے ساتھ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر بھی اہل ایمان کی لازمی اور بنیادی صفات ہیں۔
دوسری بات یہ کہ اللہ تعالیٰ نے مومن مردوں اور عورتوں دونوں کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر عمل کرنے کا مکلف ٹھہرایا ہے۔
اگر کسی وقت وہ اپنے گھر والوں کو کسی برائی یا گناہ میں مبتلا ہوتے ہوئے دیکھیں، تو انہیں چاہیے کہ وہ ان کو روکیں اور ان کی اصلاح کریں۔

اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا :

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوْا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا ( التحريم : 6)

”اے ایمان والو ! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچاؤ۔

اس آیت کریمہ سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے گھر والوں کو برائی اور گناہ سے نہ روکے اور ان کی دینی رہبری نہ کرے، تو قیامت کے دن ان کے بارے میں اس سے پوچھا جائے گا اس کی باز پرس ہوگی
یہی وجہ ہے کہ سید نا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ

تم میں سے جو کسی برائی کو دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے روکنے کی کوشش کرے اور اگر اپنے ہاتھ سے نہ روک سکے تو اپنی زبان سے روکے اور اگر اپنی زبان سے بھی روکنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو (کم از کم اس برائی کو اپنے دل میں برا جانے اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔ صحیح مسلم: 49
پوری اُمت مسلمہ اس مقصد کے لیے بنائی گئی ہے امر بالمعروف کے ذریعہ معاشرے میں تمام واجبات رائج ہو سکتے ہیں اور نہی عن المنکر کے ذریعے تمام برائیوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر صرف ایک اخلاقی ذمہ داری نہیں، بلکہ یہ اسلام کا بنیادی ستون ہے، اگر امت مسلمہ اپنی اس ذمہ داری کو ادا کرے، تو وہ دنیا میں سر بلند ہوگی اور آخرت میں اللہ کی رحمت کا مستحق ٹھہرے گی۔

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ بہترین صدقہ

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

إِنَّهُ خُلِقَ كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْ بَنِي آدَمَ عَلَى سِتِّينَ وَثَلَاثِمِائَةِ مَفْصِلٍ، فَمَنْ كَبَّرَ اللهَ، وَحَمِدَ اللهَ، وَهَلَّلَ اللهَ، وَسَبَّحَ اللهَ، وَاسْتَغْفَرَ اللهَ، وَعَزَلَ حَجَرًا عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ، أَوْ شَوْكَةً أَوْ عَظْمًا عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ، وَأَمَرَ بِمَعْرُوفٍ أَوْ نَهَى عَنْ مُنْكَرٍ، عَدَدَ تِلْكَ السِّتِّينَ وَالثَّلَاثِمِائَةِ السَّلَامَى، فَإِنَّهُ يَمْشِي يَوْمَئِذٍ وَقَدْ زَحْزَحَ نَفْسَهُ عَنِ النَّارِ

ہر انسان کی تخلیق تین سو ساٹھ جوڑوں کے ساتھ ہوئی ہے۔ تو جو شخص ایک دن میں اپنے جسم کے ان تین سو ساٹھ جوڑوں کی تعداد کے برابر اللہ اکبر ، الحمد لله لا إله إلا الله ، سبحان اللہ اور استغفر اللہ کہتا ہے، لوگوں کے راستے سے پتھر یا کانٹے یا ہڈی کو ہٹا دیتا ہے، نیکی کا حکم دیتا ہے یا برائی سے روکتا ہے، تو اُس دن وہ اس طرح چل رہا ہوتا ہے کہ اس نے اپنے آپ کو آتش جہنم سے بچالیا۔ صحیح مسلم: 1007

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ سے آزمائشوں سے نجات

سید نا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَوَلَدِهِ وَجَارِهِ، تُكَفِّرُهَا الصَّلَاةُ وَالصَّوْمُ وَالصَّدَقَةُ، وَالْأَمْرُ وَالنَّہي۔

انسان کی آزمائش اس کے اہل وعیال ، اس کے مال اور اس کے پڑوس ( کے معاملات ) میں ہے جس کا ازالہ نماز ، خیرات و صدقات، ( دوسروں کو ) اچھی بات کا حکم دینے اور بری بات سے روکنے میں مضمر ہے۔ صحیح البخاری : 525، صحیح مسلم: 144

نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کی مثال

سید نا نعمان بن بشیررض بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

مَثَلُ المُدْهِنِ فِي حُدُودِ اللَّهِ، وَالوَاقِع فِيهَا ، مَثَلُ قَوْمٍ اسْتَهَمُوا سَفِينَةً، فَصَارَ بَعْضُهُمْ فِي أَسْفَلِهَا وَصَارَ بَعْضُهُمْ فِي أَعْلَاهَا ، فَكَانَ الَّذِي فِي أَسْفَلِهَا يَمُرُّونَ بِالْمَاءِ عَلَى الَّذِينَ فِي أَعْلَاهَا، فَتَأَذَّوْا بِهِ، فَأَخَذَ فَأْسًا فَجَعَلَ يَنْقُرُ أَسْفَلَ السَّفِينَةِ، فَأَتَوْهُ فَقَالُوا : مَا لَكَ، قَالَ : تَأَذَّيْتُمْ بِي وَلَا بُدَّ لِي مِنَ المَاءِ، فَإِنْ أَخَذُوا عَلَى يَدَيْهِ أَنْجَوْهُ وَنَجَّوْا أَنْفُسَهُمْ، وَإِنْ تَرَكُوهُ أَهْلَكُوهُ وَأَهْلَكُوا أَنْفُسَهُمْ۔

اللہ تعالی کی حدود کے بارے میں نرمی برتنے والے اور ان میں مبتلا ہونے والے کی مثال ان لوگوں جیسی ہے جنہوں نے کشتی میں ( سفر کرنے کے سلسلے میں ) قرعہ اندازی کی تو بعض کے حصے میں نیچے والی منزل آئی اور بعض کے حصے میں اوپر والی۔ پس نیچے والوں کو پانی کے لیے اوپر والوں کے پاس سے گزرنا پڑتا تھا تو اس سے اوپر والوں کو تکلیف ہوتی تھی ۔ (چنانچہ اس خیال سے کہ اوپر کے لوگوں کو ان کے آنے جانے سے تکلیف ہوتی ہے ) نیچے والوں میں سے ایک شخص نے کلہاڑا لیا اور کشتی کے نچلے حصے میں سوراخ کرنے لگا۔ اُوپر والے اس کے پاس آئے اور کہا: تجھے کیا ہو گیا ہے؟ اُس نے کہا: تمہیں میری وجہ سے تکلیف ہوتی تھی اور پانی کے بغیر میرا گزارہ نہیں ۔ پس اگر انہوں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا تو اسے بھی بچالیا اور وہ خود بھی بچ گئے لیکن اگر انہوں نے اسے (سوراخ کرنے کیلئے اس کی مرضی پر چھوڑ دیا تو اسے بھی ہلاک کر دیا اور اپنے آپ کو بھی ہلاک کر ڈالا۔ صحیح البخاری: 2686

راستوں میں بیٹھنے کے حقوق

ابو سعید خدری رضی اللہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ عَلَى الطَّرْقَاتِ ، فَقَالُوا : مَا لَنَا بُد، إِنَّمَا هِيَ مَجَالِسُنَا نَتَحَدَّثُ فِيهَا، قَالَ : فَإِذَا أَبَيْتُمْ إِلَّا المَجَالِسَ، فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهَا ، قَالُوا : وَمَا حَقُّ الطَّرِيقِ؟ قَالَ : غَضُّ البَصَرِ، وَكَفُّ الأَذَى وَرَدُّ السَّلَامِ، وَأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ، وَنَهْي عَنِ المنكر۔

راستوں میں بیٹھنے سے بچتے رہنا ۔ صحابہ کرام رض نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہمیں ایسی جگہوں پر بیٹھنے کے سوا چارہ کار نہیں کیونکہ ہم بیٹھ کر بات چیت کرتے ہیں۔ فرمایا: اگر تمہارا راستوں میں بیٹھنا ضروری ہے تو راستے کا حق ادا کر دیا کرو۔ صحابہ کرام رض نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! راستے کا حق کیا ہے؟ فرمایا : نظریں نیچی رکھنا، تکلیف دہ چیز کا ( راستہ سے ہٹا دینا، سلام کا جواب دینا، اچھی باتوں کا حکم دینا اور بری باتوں سے منع کرنا۔ صحیح البخاری: 2465، صحیح مسلم: 2121
ان تمام احادیث مبارکہ سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی فضیلت واضح ہوتی ھے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں