امر بالمعروف و نہی عن المنکر کو ترک کرنے کا گناہ

امر بالمعروف و نہی عن المنکر کو ترک کرنے کا گناہ

امر بالمعروف و نہی عن المنکر کو ترک کرنے کا گناہ

ہر مسلمان کے لیے خیر خواہی کا جذبہ

ایک اور مقام پر فرمایا :

وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ (المائدة: (2)

نیکی اور تقویٰ کے کاموں پر ایک دوسرے سے تعاون کرو، گناہ اور زیادتی کے کاموں پر باہم تعاون نہ کیا کرو۔“
یہ بات واضح ہے کہ جو شخص اپنے مسلمان بھائی میں کوئی برائی دیکھ کر اس کا خیر خواہ نہیں بنتا اور اس کی اصلاح نہیں کرتا تو وہ گویا اس کے جرم اور اس کی تباہی میں یکساں طور پر شریک ہے بلکہ اس کا ممد و معاون ہے، کیونکہ چہ جائیکہ وہ اسے برائی سے روکتا اور اگر وہ باز نہ آتا تو اسے سختی کے ساتھ تنبیہ کرتا لیکن اس نے تو سرے سے اس کے اس بد عمل پر اعتراض ہی نہیں کیا بلکہ اسے برائی پر ہی کار بند چھوڑ دیا اور دین میں ایسی چیزوں کی کوئی جگہ نہیں ہے کیونکہ ایمان کی ایک یہ بھی شرط ہے کہ جو اپنے لیے پسند کرو وہی اپنے مسلمان بھائی کے لیے پسند کرو۔ جریر رض بیان کرتے ہیں :

بَايَعْتُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فَلَقَّنِي فِيمَا اسْتَطَعْتُ وَالنَّصْحُ لِكُلِّ مُسْلِمٍ

میں نے سمع و طاعت پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تو آپ نے مجھ سے میری استطاعت کے مطابق ہر مسلمان کی خیر خواہی کی تلقین فرمائی . ( صحیح بخاری: ۷۲۰۴- صحیح مسلم: ۷۵/۱)

گویا ہر شخص کے لیے اپنے ہر مسلمان بھائی کو خیر و بھلائی کی نصیحت کرنا اور اسے برے کاموں سے روکنا امر واجب ہے کیونکہ انسان کا حقیقی خیر خواہ وہی ہوتا ہے جو اس کی اخروی زندگی سنوارنے کے لیے اس کی تربیت کرتا ہے، جبکہ انسان کا حقیقی دشمن وہ ہے جو دنیوی امور میں تو اس کا بڑا خیر خواہ ہولیکن اخروی معاملات میں اس کی بالکل پرواہ نہ کرتا ہو، بلکہ دنیوی معاملات میں بھی ایسے امور کی طرف اس کی راہنمائی کرے جو اس کے لیے ہلاکت کا باعث ہوں ۔
فرمان باری تعالی ہے :

لَوْلَا يَنْهَاهُمُ الرَّبَّانِيُّونَ وَالْأَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْإِثْمَ وَأَكْلِهِمُ السُّحْتَ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَصْنَعُونَ (المائدة: (63)

انہیں ان کے عابد و عالم جھوٹ باتوں کے کہنے اور حرام چیزوں کے کھانے سے کیوں نہیں روکتے ؟ یقینا وہ کام بہت برا ہے جو وہ کر رہے ہیں ۔
امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
ربانیون } سے مراد عیسائی علماء اور { أحبار } سے مراد یہودی علماء ہیں اور اس آیت سے ثابت ہوا کہ تارک نہی عن المنکر بھی مرتکب منکر کے ہی مانند ہے۔
تفسير القرطبي: ۲۳۷/۲]
یقینا ایسے علماء سوء ہی اس سختی اور سرزنش کے لائق ہیں جو برائی کو ختم کرنے کی بجائے اس کے حمایتی بن جاتے ہیں۔ تو پھر لوگوں کی اصلاح کیونکر ممکن ہو سکتی ہے کہ جب علماء خود ہی جہال کی سی عادات اپنانے لگیں ؟
لوگوں کو ایسے گناہ پر کیسے سرزنش کی جاسکتی ہے کہ جب خود علماء ہی معصیت کو چھوٹا اور حقیر گناہ سمجھنے لگیں ؟
لوگ اطاعت و فرمانبرداری کی طرف کیسے راغب ہوں گے جب خود علماء ہی اطاعت سے دور ہوں؟
حدود کی پاسداری کیونکر ممکن ہوسکتی ہے جب علماء خود ہی حدود سے تجاوز کرنے لگیں؟
لوگ بدعات سے کس طرح پاک ہوں گے جب علماء خود بدعات کو دیکھ کر اس سے لوگوں کو روکنا گوارہ نہ کریں؟

جب علماء خود ہی گمراہ ہو جائیں تو عوام بھی ان کی پیروی میں راہ راست سے بھٹک جاتے ہیں کیونکہ عوام تو علم شریعت سے نابلد ہوتے ہیں، وہ تو جمیع امور میں علماء ہی کو راہنما مانتے ہیں ۔ اسی طرح وہ عالم جو بے عمل ہو، اس کا دیگر لوگوں کی نسبت زیادہ مواخذہ ہوگا.

غلطی دیکھ کر نظر انداز کرنے والے ملعون

فرمانِ باری تعالی ہے :

لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى لِسَانِ دَاوُدَ وَعِيْسَيَ بْنِ مَرْيَمَ ذَالِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ، كَانُوا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُنْكَرٍ فَعَلُوهُ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ (79/78:المائدة)

بنی اسرائیل کے کافروں پر داؤد اور عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کی زبانی لعنت کی گئی ، اس لیے کہ وہ نا فرمان تھے اور حد سے بڑھ جایا کرتے تھے۔ آپس میں ایک دوسرے کو ان برے کاموں سے روکتے نہ تھے وہ جو کرتے تھے، جو کچھ بھی وہ کرتے تھے یقینا بہت برا تھا۔“

یہاں اللہ تعالی بنی اسرائیل کے مورد لعنت ہونے کا سبب امر بالمعروف و نہی عن المنکر کو ترک کر دینا بیان فرما رہا ہے اور اس کے تارکین کو نا فرمان لوگوں اور زیادتی کرنے والوں کی صف میں شامل فرمایا ہے۔

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام نہ دینا باعث ہلاکت عمل

ابن عباس رض بیان کرتے ہیں کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا : اے اللہ کے رسول ! کسی بستی کو نیک لوگوں کی موجودگی کے باوجود بھی ہلاک کیا جا سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ” ہاں ، پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول ! ایسا کیوں؟ آپ نے فرمایا:

بِتَهاوُنِهِمْ وَسُكُوتِهِمْ عَنْ مَعَاصِي اللَّهِ

معصیت الہی کو معمولی سمجھنے اور اسے ہوتا دیکھ کر ان کی خاموش رہنے کی وجہ سے ۔(المعجم الكبير للطبراني: ۲۷۰/۱۱)

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام نہ دینے کی وجہ سے دعاؤں کی قبولیت ختم

حذیفہ رض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ وَلَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ، أَو لَيُؤْشِكَنَّ اللَّهُ أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عِقَابِاً مِنْهُ ثُمَّ تَدْعُوْنَهُ فَلَا يَسْتَجِيبُ لَكُمْ

اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! تم ضرور بہ ضرور اچھائی کا حکم دیتے رہو گے یا لازمی طور پر برائی سے روکا کرو گے، وگرنہ بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنی طرف سے عذاب نازل فرمادے، پھر تم اس سے دعائیں کیا کرو گے تو وہ قبول نہیں فرمائے گا۔ سنن الترمذی : 2169،

ایک دوسری حدیث میں ہے۔ عائشہ رض بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ أَنْ قَدْ حَفَزَهُ شَيْءٌ، فَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ خَرَجَ فَلَمْ يُكَلِّمْ أَحَدًا، فَدَنَوْتُ مِنَ الْحُجُرَاتِ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ : مُرُوا بِالْمَعْرُوفِ، وَانْهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَدْعُونِي فَلَا أُجِيبُكُمْ، وَتَسْأَلُونِي فَلَا أُعْطِيكُمْ، وَتَسْتَنْصِرُونِي، فَلَا أَنْصُرُكُمْ

ایک مرتبہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے۔ میں نے آپ کے چہرۂ اقدس سے جان لیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ فرمانا چاہتے ہیں۔ آپ نے وضو کیا پھر کسی سے کلام کیے بغیر باہر تشریف لے گئے۔ میں حجروں ( کی طرف سے مسجد ) کے قریب ہوئی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اے لوگو! بے شک الله فرماتا ہے : نیکی کا حکم دو اور برائی سے منع کرو قبل اس کے کہ ( وہ وقت آ جائے جب ) تم مجھ سے دعا مانگو اور میں تمہاری دعا قبول نہ کروں ، تم مجھ سے سوال کرو اور میں تم کو عطا نہ کروں اور تم مجھ سے میری مدد طلب کرو اور میں تمہاری مدد نہ کروں ۔ مسند احمد : 25255،

دیکھ کر نہ روکنے والوں کو قریب ہے کہ اللہ اسی عذاب میں مبتلا کر دے

سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوُا الظَّالِمَ فَلَمْ يَأْخُذُوا عَلَى يَدَيْهِ، أَوْشَكَ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ بِعِقَابٍ

جب لوگ ظالم کو ظلم کرتا دیکھیں اور اسے ظلم سے نہ روکیں تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اُن سب کو عذاب میں مبتلا کر دے۔ سنن ابی داود : 4338
ایک دوسری روایت کے الفاظ ہیں :

مَا مِنْ رَجُلٍ يَكُونُ فِي قَوْمٍ يُعْمَلُ فِيهِمْ بِالْمَعَاصِي، يَقْدِرُونَ عَلَى أَنْ يُغَيِّرُوا عَلَيْهِ، فَلَا يُغَيِّرُوا، إِلَّا أَصَابَهُمُ اللَّهُ بِعَذَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَمُوتُوا

جو شخص بھی ایسی قوم میں رہتا ہو جس میں برے کام کئے جاتے ہوں اور لوگ ان کو روکنے کی قدرت رکھنے کے باوجود نہ روکتے ہوں تو اللہ تعالیٰ انہیں ان کی موت سے قبل عذاب میں مبتلا کر دے گا۔ سنن ابی داود : 4339،

طاقت کے باوجود غلطی کو نہ روکنے کا عذاب

سید نا عدی رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:

إِنَّ اللهَ لَا يُعَذِّبُ الْعَامَّةَ بِعَمَلِ الْخَاصَّةِ ، حَتَّى يَرَوْا الْمُنْكَرَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ، وَهُمْ قَادِرُونَ عَلَى أَنْ يُنْكِرُوهُ فَلَا يُنْكِرُوهُ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ، عَذَّبَ اللهُ الْخَاصَّةَ وَالْعَامَّةَ

یقینا اللہ تعالیٰ مخصوص لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے عام لوگوں کو تب تک عذاب میں مبتلا نہیں کرتا، جب تک کہ وہ اپنے درمیان گناہ ہوتا دیکھیں اور وہ روکنے کی قدرت رکھنے کے باوجود بھی اسے نہ روکیں ، جب وہ ایسا کرنے لگیں گے، تو پھر اللہ تعالیٰ کا عذاب خاص و عام سب لوگوں پر آتا ہے۔ مسند احمد : 17720“

بدترین حکمرانوں کا تسلط

سیدنا ابو ہریرہ رض بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ أَوْ لَيُسَلِّطَنَّ اللَّهُ عَلَيْكُمْ شِرَارَكُمْ فَيَدْعُو خِيَارُكُمْ فَلَا يُسْتَجَابُ لَهُمْ

تمہیں ضرور نیکی کا حکم دینا چاہیے اور برائی سے منع کرنا چاہیے ورنہ اللہ تعالی تم میں سے برے لوگوں کو تم پر مسلط کر دے گا۔ پھر تم میں سے جو اچھے لوگ ہیں وہ اللہ تعالیٰ سے ( مدد کی ) دعا کریں گے لیکن ان کی دعا تمہارے حق میں قبول نہیں ہوگی ۔ مسند البزار : 188

اپنا تبصرہ بھیجیں