بیمار کی عیادت کرنے کے آداب
بیمار کی عیادت کرنے کے آداب
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعِ : ((عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَاتَّبَاعِ الْجَنَائِرِ وَتَشْمِيْتِ الْعَاطِسِ، وَنَصْرِ الضُّعِيفِ، وَعَوْنِ الْمَظْلُومِ، وَأَفْشَاءِ السَّلَامِ، وَأَبْرَارِ الْمُقْسِمِ )۱)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات باتوں کا حکم دیا، ایک مریض کی عیادت کرنا ، دوسرے جنازوں کے پیچھے چلنا، تیسرے چھینکنے والے کے الحمد للہ کہنے کے جواب میں یرحمک اللہ کہنا، چوتھے کمزور آدمی کی مدد کرنا، پانچویں مظلوم کی امداد کرنا ، چھٹے سلام کو رواج دینا ، ساتویں قسم کھانے والے کی قسم کو پورا کرنے میں اس کی مدد کرتا۔
بیمار پرسی ایک عبادت ہے
سب سے پہلی چیز جس کا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا وہ ہے مریض کی عیادت کرنا اور بیمار کی بیمار پرسی کرنا۔ مریض کی عیادت کرنا یہ مسلمان کے حقوق میں سے بھی ہے۔
سنت کی نیت سے بیمار پرسی کریں
مثلاً آپ ایک شخص کی عیادت کرنے جا رہے ہیں اور دل میں یہ خیال ہے کہ جب ہم بیمار پڑیں گے تو یہ بھی ہماری عیادت کے لئے آئے گا۔ لیکن اگر یہ ہماری عیادت کرنے کے لئے نہیں آئے گا تو پھر آئندہ ہم بھی اس کی عیادت کے لئے نہیں جائیں گے۔ ہمیں اس کی عیادت کی کیا ضرورت ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ عیادت بدلے کے لئے ہو رہی ہے، لیکن جب عبادت کرنے سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہو تو اس صورت میں آدمی یہ نہیں دیکھتا کہ میں جب بیمار ہوا تھا۔ اس وقت یہ میری عیادت کے لئے آیا تھا یا نہیں؟ بلکہ وہ یہ سوچتا ہے کہ اگر یہ نہیں بھی آیا تھا تب بھی میں اس کی عیادت کے لئے اس کے پاس جاؤ نگا کیونکہ حضور اقدس ﷺ نے عیادت کا حکم دیا ہے، اس سے معلوم ہو جائے گا کہ یہ عیادت خالصتا اللہ کے لئے کی جا رہی ہے۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پوری کرنے کے لئے کی جا رہی ہے۔
بیمار پرسی کی فضیلت
یہ عبادت بھی ایسی عظیم الشان ہے کہ ایک حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
ان المُسْلِمَ إِذَا عَادَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ لَمْ يَزَلُ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ حَتَّى يرجع.
یعنی جب ایک مسلمان دوسرے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے، جتنی دیر وہ عیادت کرتا ہے، وہ مسلسل جنت کے باغ میں رہتا ہے۔ جب تک وہ واپس نہ آجائے.
ایک دوسری حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَعُودُ مُسْلِمًا غُدْوَةً إِلَّا صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُمْسِي وَإِنْ عَادَهُ عَشِيَّةٌ إِلَّا صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُصْبِحَ وَكَانَ لَهُ خَرِيفٌ فِي الْجَنَّةِ۔
یعنی جب کوئی مسلمان بندہ اپنے مسلمان بھائی کی صبح کے وقت عیادت کرتا ہے تو صبح سے لیکر شام تک ستر ہزار فرشتے اس کے حق میں مغفرت کی دعا کرتے رہتے ہیں، اور اگر شام کو عیادت کرتا ہے تو شام سے لیکر صبح تک ستر ہزار فرشتے اس کے حق میں مغفرت کی دعا کرتے رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ جنت میں اس کے لیے ایک باغ متعین فرما دیتے ہیں۔
اگر بیمار سے ناراضگی ہو تو
اگر وہ بیمار ار ایسا شخص ہے جس کی طرف سے تمہارے دل میں کراہیت ہے اس کی طرف سے دل کھلا ہو انہیں ہے، طبیعت کو اس سے مناسبت نہیں ہے، پھر بھی عیادت کے لئے جاؤ گے تو ان شاء اللہ اللہ دوہرا ثواب ملے گا، ایک عیادت کرنے کا ثواب اور دوسرے ایک ایسا مسلمان جس کی طرف سے دل میں انقباض تھا۔ اس انقباض کے ہوتے ہوئے تم نے اس کے ساتھ ہمدردی کا معاملہ کیا۔ اس پر علیحدہ ثواب ملے گا، لہذا مریض کی عیادت معمولی چیز نہیں ہے، خدا کے لئے رسم بنا کر اس کے ثواب کو ضائع مت کرو، صرف اس نیت سے عیادت کرنا کہ یہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے، آپ کی سنت ہے اور اس پر اللہ تعالیٰ اجر عطا فرماتے ہیں۔
مختصر عیادت کریں
حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے عیادت کے بھی کچھ آداب بیان فرمائے ہیں، زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جس کی تفصیل آپ نے بیان نہ فرمائی ہو، چنانچہ عیادت کے آداب بیان کرتے ہوئے آپ نے فرمایا:-
(مَنْ عَادَ مِنْكُمْ فَلْيُخَفِّفَ)
جب تم کسی کی عیادت کرنے جاؤ تو ہلکی پھلکی عیادت کرو یعنی ایسا نہ ہو کہ ہمدردی کی خاطر عیادت کرنے جاؤ، اور جا کر اس مریض کو تکلیف پہنچا دو بلکہ وقت دیکھ لو کہ یہ وقت عیادت کے لئے مناسب ھے یا نہیں۔
عیادت کے لئے مناسب وقت کا انتخاب کرو
اپنا شوق پورا کرنے کا نام عیادت نہیں اور عیادت کا یہ مقصد ہے کہ اسکے ذریعہ برکت حاصل ہو، یہ نہیں کہ بڑی محبت سے عیادت کے لئے گئے اور جا کر دوسرے کو تکلیف پہنچادی ۔ محبت کے لئے عقل درکار ہے، ایسی محبت محبت نہیں ہے بلکہ وہ دشمنی ہے، وہ نادان دوست کی محبت ہے، لہذا عیادت میں اس بات کا لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ جس شخص کی عیادت کے لیے گئے ہو اس کو تکلیف نہ ہو یا مثلاً آپ رات کو بارہ بجے عیادت کے لیے پہنچ گئے جو اس کے سونے کا وقت ہے یا دو پہر کو آرام اور قیلولے کے وقت عیادت کے لئے پہنچ گئے اور اس کو پریشان کر دیا۔ اس لئے عقل سے کام لو سوچ سمجھ کر جاؤ کہ تمہارے جانے سے اس کو تکلیف نہ پہنچے تب تو عیادت سنت ہے ورنہ پھر وہ رسم ہے۔ بہر حال حضور اقدس امام نے عیادت کا پہلا ادب یہ بیان فرمایا کہ ہلکی پھلکی عیادت کرو۔
نکتہ:-
بے تکلف دوست زیادہ دیر بیٹھ سکتا ہے
البتہ بعض لوگ ایسے بے تکلف ہوتے ہیں کہ ان کے زیادہ دیر بیٹھنے سے بیمار کو تکلیف کے بجائے تسلی ہوتی ہے اور راحت حاصل ہوتی ہے تو ایسی صورت میں زیادہ دیر بیٹھنے میں کوئی حرج نہیں۔
حصول شفا کا ایک عمل اگر موقع مناسب ہو اور اس عمل کے ذریعہ مریض کو تکلیف نہ ہو تو یہ عمل کرے کہ مریض کی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر یہ دعا پڑھے:
اللَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ أَذْهِبِ الْبَأْسَ أنْتَ الشَّافِيُّ لَا شَافِي إِلَّا أَنتَ لَا يُغَادِرُ سَقَمًا)) (۲)
اے اللہ ، جو تمام انسانوں کے رب ہیں ، تکلیف کو دور” کرنے والے ہیں، اس بیمار کو شفا عطا فرما، آپ شفا دینے والے ہیں، آپ کے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں۔
اور ایسی شفا عطا فرما جو کسی بیماری کو نہ چھوڑے یہ دعا جس کو یاد نہ ہو اس کو چاہئے کہ اس کو یاد کر لیں اور پھر یہ عادت بنالیں کہ جس بیمار کے پاس جائیں موقع دیکھ کر یہ دعا ضرور پڑھ لیں۔
ہر بیماری سے شفا
ایک اور دعا بھی حضور اقدس صلى الله عليه وسلم سے منقول ہے جو اس سے بھی زیادہ آسان اور مختصر ہے اس کو یاد کرنا بھی آسان ہے اور اس کا فائدہ بھی حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑا عظیم بیان فرمایا ہے وہ دعا یہ ہے:
(أَسْأَلُ اللهَ الْعَظِيمَ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يُشْفِيكَ)(1)
عظمت والے اللہ، اور عظیم عرش کے مالک سے دعا” کرتا ہوں کہ وہ تم کو شفا عطا فرمادے:
حدیث میں ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو مسلمان بندہ دوسرے مسلمان بھائی کی عیادت کے وقت سات مرتبہ یہ دعا کرے تو اگر اس بیمار کی موت کا وقت نہیں آیا تو پھر اس دعا کی برکت سے اللہ تعالی اس کو صحت عطا فرما دیں گے ہاں اگر کسی کی موت ہی کا وقت آچکا ہو تو اس کو کوئی نہیں ٹال سکتا۔
عیادت کے وقت زاویہ نگاہ بدل لیں
اور ان دعاؤں کے پڑھنے میں تین طرح سے ثواب حاصل ہوتا ہے ایک ثواب تو اس بات کا ملے گا کہ آپ نے مریض کی عیادت کے دوران حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کیا اور وہ الفاظ کہے جو عیادت کے وقت حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے، دوسرے ایک مسلمان بھائی کے ساتھ ہمدردی کرنے کا ثواب حاصل ہو گا ، تیسرے اس کے حق میں دعا کرنے کا ثواب حاصل ہوگا۔ اس لئے کہ دوسرے مسلمان بھائی کے لئے دعا کرنا باعث اجر و ثواب ہے، گویا کہ اس چھوٹے سے عمل کے اندر تین ثواب جمع ہیں، لہذا مریض کی عیادت تو سب کرتے ہی ہیں لیکن عیادت کے وقت ذرا زاویہ نگاہ بدل لیں، اور اتباع سنت کی نیت کرلیں، اور اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کی نیت کر لیں، اور عیادت کے جو آداب ہیں اس پر عمل کر لیں یعنی مختصر وقت کے لئے عیادت کریں، اور عیادت کے وقت حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی دعائیں پڑھ لو، تو پھر ماشاء اللہ عیادت کا یہ معمولی ساعمل عظیم عبادت بن جائے۔