حج کے مقاصد
حج کے مقاصد
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا اور اس عبادت کو مختلف صورتوں میں تقسیم کیا، تا کہ بندہ ہر حال میں اپنے رب کے ساتھ تعلق قائم رکھے۔ انہی عظیم عبادات میں سے ایک عظیم الشان عبادت حج ہے، جو اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن ہے اور جس کے ذریعے بندہ اپنے رب کے دربار میں حاضری دیتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے حج کی فرضیت اور اس کی عظمت کو نہایت واضح انداز میں بیان فرمایا، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ۖ وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَلَمِينَ”
اور لوگوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ جو شخص بیت اللہ تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ اس کا حج کرے اور جو شخص انکار کرے تو اللہ تمام دنیا والوں سے بے نیاز ہے۔ “ [ آل عمران: 97]
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو حج کے لیے بلائیں
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَاذْنُ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَ عَلَى كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ
اور لوگوں میں حج کا اعلان کر دے ، وہ تیرے پاس پیدل اور ہر لاغر سواری پر آئیں گے، جو ہر دور دراز راستے سے آئیں گی۔ “ [ الحج : 27]
یہ وہ الہی پکار ہے جو صدیوں پہلے دی گئی، مگر آج بھی دنیا کے ہر گوشے سے لبیک کی صدائیں اسی جذبے کے ساتھ بلند ہو رہی ہیں۔ حج کا تعلق صرف ظاہری اعمال سے نہیں بلکہ یہ دلوں کی کیفیت، اخلاص، اور اللہ کے ساتھ تعلق کی تجدید کا نام ہے۔ اور حج ارکانِ اسلام میں سے ایک اہم رکن ہے ، سید نا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
بُنِيَ فِي الإِسْلامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالْحَقِّ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ
اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم کی گئی ہے۔ گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا اور حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔ صحیح مسلم : 113]
سیدنا ابو ہریرہ رض کہتے ہیں :
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ ، أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ فَقَالَ: إِيمَانُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ قِيلَ : ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ : الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، قِيلَ : ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ : حَجٌ مَبْرُورٌ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ کون سا عمل سب سے افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا۔ “ پو چھا گیا، اس کے بعد کون سا؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ “ پوچھا گیا، پھر کون سا ہے ؟ آپ نے فرمایا: ”حج مبرور ۔ “ صحیح بخاری: 26]
اگر اللہ تعالیٰ نے استطاعت اور صحت سے نوازا ہے تو حج کی ادائیگی میں جلدی کرنی چاہئے، سید نا عبد اللہ بن عباس رض کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تَعَجَّلُوا إِلى الحَجِ ، فَإِنْ أَحَدَكُمْ لَا يَدْرِي مَا يَعْرِضُ لَهُ
حج میں جلدی کرو، کیونکہ تمہیں نہیں پتہ کہ تمہیں کیا پیش آسکتا ہے۔ مسند احمد: 2867]
سید نا عبد اللہ بن عباس رض کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَنْ أَرَادَ الْحَجَّ فَلْيَتَعَجَّلْ، فَإِنَّهُ قَدْ يَمْرَضُ الْمَرِيضُ، وَتَضِلُّ الضَّالَةُ، وَتَعْرِضُ الْحَاجَةُ۔
جو شخص حج کرنے کا ارادہ رکھے اسے جلدی کرنا چاہیے کیونکہ کبھی سفر کے دوران آدمی بیمار پڑ سکتا ہے، کبھی اونٹ گم ہو سکتا ہے یا کبھی کوئی ضرورت پیش آسکتی ہے۔ “ [ ابن ماجہ : 2883
حج وہ عبادت ہے جس میں دنیا بھر کے مسلمان ایک مرکز پر جمع ہوتے ہیں، ایک لباس میں ، ایک صدا کے ساتھ ، ایک ہی رب کے حضور جھک جاتے ہیں۔ یہ اجتماع محض ایک عبادت نہیں بلکہ ایک زندہ مظہر ہے اس حقیقت کا کہ اللہ کے بندے رنگ، نسل، زبان اور علاقے کے فرق سے بالاتر ہو کر ایک امت بن جاتے ہیں۔ یہ وہ مقدس سفر ہے جس میں بندہ اپنے گھر، کاروبار ، آرام اور خواہشات کو چھوڑ کر اللہ کے گھر کی طرف نکلتا ہے۔ یہ وہ عبادت ہے جس میں جسمانی مشقت بھی ہے ، مالی قربانی بھی ہے، اور روحانی وارفتگی بھی۔
اس عظیم عبادت کے مقاصد:
توحید کا عملی اعلان اور شرک سے برآت:1
حج محض ایک عبادت نہیں بلکہ بندے کی طرف سے اپنے رب کے سامنے توحید کا زندہ اور عملی اعلان ہے، جہاں وہ زبان، عمل اور دل، تینوں کے ذریعے یہ گواہی دیتا ہے کہ معبود صرف اللہ ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔ یہ وہ مقدس سفر ہے جس میں انسان ہر باطل سہارے سے کنارہ کش ہو کر خالص اللہ کا ہو جاتا ہے اور اپنے قول و عمل سے شرک سے مکمل براءت کا اظہار کرتا ہے۔ لبیک کی صداؤں میں یہی پیغام گونجتا ہے کہ بندگی، محبت، خوف اور امید سب کچھ صرف ایک اللہ کے لیے ہے اور یہی حج کی روح اور اس کا سب سے پہلا اور بنیادی مقصد ہے۔ سید نا جابر رض اللہ حجۃ الوداع کے متعلق کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید کا تلبیہ پکارا :
لَبَّيْكَ اللَّهمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لا شَرِيكَ لَكَ
حاضر ہوں، اے اللہ میں حاضر ہوں۔ میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں۔ بلا شبہ تمام تعریفیں نعمتیں اور بادشاہی تیری ہے، تیرا کوئی شریک نہیں۔“ [ صحیح مسلم : 2950]
اس تلبیہ سے شرک کا رد ہوتا ہے۔
تلبیہ پکارنے کی فضیلت بہت زیادہ ہے ، سید نا سہل بن سعد رض کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُلَبِّي إِلَّا لَبِّي مَنْ عَنْ يَمِينِهِ، أَوْ عَنْ شِمَالِهِ مِنْ حَجَرٍ أَوْ شَجَرٍ أَوْ مَدَرٍ حَتَّى تَنْقَطِعَ الْأَرْضُ مِنْ هَاهُنَا وَهَاهُنَا
جو مسلمان بھی تلبیہ پکارتا ہے اس کے دائیں یا بائیں پائے جانے والے پتھر ، درخت اور ڈھیلے سبھی تلبیہ پکارتے ہیں، یہاں تک کہ دونوں طرف کی زمین کے آخری سرے تک کی چیزیں سبھی تلبیہ پکارتی ہیں۔ “ ترمذی: 828 ]
سید نا ابو ہریرہ رضی اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
ما أَهَلَّ مُهِلَّ قَطُّ إِلَّا بُشِّرَ ، ولا كَبَّرَ مُكَبِّرُ قَطُّ إِلَّا بُشِّرَ ، قيل : بالجنةِ؟ قَالَ : نَعَمُ
نہیں ہے کوئی تلبیہ پڑھنے والا ، جو تلبیہ پڑھے، مگر اس کو بشارت دی جاتی ہے اور نہیں ہے کوئی تکبیر کہنے والا، جو تکبیر کہے مگر اس کو بھی خوشخبری سنائی جاتی ہے کہا گیا، کیا جنت کی خوشخبری؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ [ سلسلہ صحیحہ : 994]
یوم عرفہ حج کا سب سے عظیم دن ہے ، اور یہی دن توحید کے سب سے بلند اعلان کا دن بھی ھے۔
ذکر الہی کا اہتمام:2
حج محض ظاہری اعمال کا مجموعہ نہیں بلکہ یہ بندے کے دل اور زبان کو اپنے رب کے ذکر سے آباد کرنے کا عظیم موقع ہے، جہاں انسان دنیا کی ہر مصروفیت سے کٹ کر اللہ کی یاد میں ڈوب جاتا ہے۔ یہ وہ مبارک سفر ہے جس میں ہر قدم ، ہر حرکت اور ہر لمحہ ذکر الہی سے جڑ جاتا ہے، اور بندہ عملاً یہ ثابت کرتا ہے کہ اس کی زندگی کا اصل سکون اور مقصد اللہ کی یاد ہی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے حج کے مقصد کو واضح کرتے ہوئے فرمایا:
وَاذْنُ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَ عَلَى كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ لِيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللهِ فِي أَيَّامٍ مَّعْلُومَةٍ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ۔ )
اور لوگوں میں حج کا اعلان کر دے ، وہ تیرے پاس پیدل اور ہر لاغر سواری پر آئیں گے، جو ہر دور دراز راستے سے آئیں گی۔ تاکہ وہ اپنے بہت سے فائدوں میں حاضر ہوں اور چند معلوم دنوں میں ان پالتو چو پاؤں پر اللہ کا نام ذکر کریں جو اس نے انھیں دیے ہیں، سو ان میں سے کھاؤ اور تنگ دست محتاج کو کھلاؤ۔ “ [ الحج: 28-27]
اس آیت میں صراحت کے ساتھ ذکر الہی کو حج کا بنیادی مقصد قرار دیا گیا ہے۔
اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ فَإِذَا أَفَضْتُمْ مِنْ عَرَفْتٍ فَاذْكُرُوا اللَّهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ وَاذْكُرُوهُ كَمَا هَدْاكُمْ وَإِنْ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلِهِ لَمِنَ الضَّالِّينَ .
تم پر کوئی گناہ نہیں کہ اپنے رب کا کوئی فضل تلاش کرو، پھر جب تم عرفات سے واپس آؤ تو مشعر حرام کے پاس اللہ کو یاد کرو اور اس کو اس طرح یاد کرو جیسے اس نے تمھیں ہدایت دی ہے اور بلاشبہ اس سے پہلے تم یقینا گمراہوں سے تھے۔ “ [ البقرہ:198]
اور فرمایا:
فَإِذَا قَضَيْتُمْ مَنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا
پھر جب تم اپنے حج کے احکام پورے کر لو تو اللہ کو یاد کرو، اپنے باپ دادا کو تمھارے یاد کرنے کی طرح، بلکہ اس سے بڑھ کر یاد کرنا۔ “ [ البقرہ:200]
پتہ چلا کہ حج کا ایک مقصد ذکر الہی کا اہتمام بھی ہے۔
حصول تقوی:3
حج کا ایک عظیم مقصد دلوں میں تقویٰ کی کیفیت پیدا کرنا ہے، کہ بندہ اپنے ظاہر ہی نہیں بلکہ باطن کو بھی اللہ کے لیے سنوار لے۔ یہ وہ عبادت ہے جو انسان کو ہر لمحہ یہ احساس دلاتی ہے کہ وہ اپنے رب کی نگرانی میں ہے ، اس کے ہر قول و عمل کا حساب ہے اور حقیقی عزت و قبولیت کا معیار تقویٰ ہی ہے۔ حج کے سفر میں بندہ جب خواہشات کو روکتا، حدود کا خیال رکھتا اور ہر حال میں اللہ کی رضا کو مقدم کرتا ہے تو اس کے اندر وہ تقویٰ جنم لیتا ہے جو اس کی پوری زندگی کو بدل دیتا ہے۔ حج کا مقصد تقویٰ ہے ، ارشاد ربانی ہے :
وَ تَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى
اور زاد راہ لے لو کہ بے شک زاد راہ کی سب سے بہتر خوبی (سوال سے) بچنا ہے۔ “ [ البقرہ: 197
صرف حج ہی نہیں دیگر عبادات کا مقصد بھی تقویٰ ہے،
قربانی کا مقصد تقویٰ کا حصول ہے ،:
لَنْ يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ
اللہ کو ہر گز نہ ان کے گوشت پہنچیں گے اور نہ ان کے خون اور لیکن اسے تمھاری طرف سے تقویٰ پہنچے گا۔ “ [ الج: 37]
الغرض تمام عبادات کا مقصد و محور تقویٰ کا حصول ہے۔
گناہوں کی معافی اور پاکیزگی:4
حج کا ایک مقصد بندے کو گناہوں کی آلائشوں سے پاک کر کے روحانی طہارت عطا کرنا ہے، تا کہ وہ اپنے رب کے حضور ایک نئے اور صاف دل کے ساتھ لوٹے۔ یہ وہ مبارک سفر ہے جس میں انسان سچی توبہ ، عاجزی اور اخلاص کے ساتھ اپنے ماضی کی لغزشوں پر نادم ہو کر اللہ کی رحمت کا طالب بنتا ہے۔ جب بندہ اخلاص کے ساتھ یہ عبادت ادا کرتا ہے تو گویا وہ اپنے گناہوں
کا بوجھ اتار کر پاکیزگی اور نورانیت کی ایک نئی زندگی کا آغاز کرتا ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ رض کہتے
ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَنْ حَجَّ لِلَّهِ فَلَمْ يَرْفُتْ وَلَمْ يَفْسُقُ رَجَعَ كَيَوْمٍ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ
جو شخص محض اللہ کے لیے حج کرے، پھر کسی گناہ کا مر تکب ہو، نہ فحش کام کرے اور نہ ہی فسق و فجور میں مبتلا ہو تو وہ ایسے گناہوں سے پاک واپس ہو گا جیسے اسے آج ہی اس کی ماں نے جنم دیا ہو۔ “ [ صحیح بخاری: 1521]
سیدنا ابو ہریرہ رض کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءُ إِلَّا الْجَنَّةُ
ایک عمرہ دوسرے عمرے تک ان گناہوں کا کفارہ ہے جو ان کے درمیان کیے گئے ہوں اور حج مبرور کی جزا تو جنت ہے۔ “ [ صحیح بخاری: 1773]
اطاعت اور سپردگی کی تربیت:5
حج کا ایک مقصد بندے کے اندر کامل اطاعت اور سپردگی کی روح پیدا کرنا ہے ، کہ وہ اپنے رب کے ہر حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دے، خواہ اس کی حکمت اسے سمجھ آئے یا نہ آئے۔ یہ وہ عبادت ہے جو انسان کو اپنی عقل، خواہشات اور عادات سے بلند ہو کر صرف اللہ کے حکم پر چلنا سکھاتی ہے۔ احرام باندھنے سے لے کر طواف، سعی، و قوفِ عرفہ ، مزدلفہ میں قیام اور رمی جمرات تک ہر عمل اس بات کی عملی تربیت ہے کہ بندہ اپنے رب کے حکم کے آگے خود کو مٹادے اور یہی کہے کہ سَمِعْنَا وَ أَطَعْنَا، قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی اصل پہچان یہی بیان فرمائی، اللہ فرماتے ہیں:
إِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِينَ إِذَا دُعُوا إِلَى اللهِ وَ رَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ أَنْ يَقُولُوا سَمِعْنَا وَ أَطَعْنَا وَ أُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ وَ مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَخْشَ اللَّهَ وَ يَتَّقْهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ۔
ایمان والوں کی بات، جب وہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلائے جائیں، تا کہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے ، اس کے سوا نہیں ہوتی کہ وہ کہتے ہیں ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اور اللہ سے ڈرے اور اس سے بچے تو یہی لوگ کامیاب ہیں۔ “ [ النور : 52-51]
حج اسی کیفیت کو عملی شکل دیتا ہے، جہاں بندہ ہر قدم پر یہی اعلان کرتا ہے کہ اے اللہ !
میں تیرے حکم کے سامنے سراپا اطاعت ہوں۔
حج کے بہت سے اعمال بظاہر عقل میں نہ آنے والے ہیں، مگر ان میں بندے کی اطاعت کا امتحان ہے۔ مثلاً شیطان کو کنکریاں مارنا، ایک خاص ترتیب سے مناسک ادا کرنا، مخصوص جگہوں پر ٹھہرنا، یہ سب اس بات کی تربیت دیتے ہیں کہ بندہ دلیل وحی کے سامنے اپنی عقل کو تابع کر دے۔ حجر اسود کو چومنا یا چھونا محض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں ہے ، نہ کہ اس پتھر میں کسی غیبی تاثیر کا مفہوم ہے۔ سید نا عمر رضی اللہ نے حجر اسود کو بوسہ دیتے وقت فرمایا تھا:
إِنِّي أَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ
اے حجر اسود! میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے، نہ نفع دے سکتا ہے، نہ نقصان۔ اگر میں نے رسول اللہ صلی علیم کو تجھے بوسہ دیتے نہ دیکھا ہوتا تو کبھی تجھے نہ چومتا۔ “ [ صحیح بخاری: 1597]
یہ اطاعت کا وہ مقام ہے جہاں بندہ اپنی رائے کو چھوڑ کر سنت کو اختیار کرتا ہے۔ اسی طرح احرام کی پابندیاں بھی اطاعت کی عملی تربیت ہیں۔ ایک شخص جو عام حالات میں بہت سی جائز چیزوں سے فائدہ اٹھاتا ہے ، وہ محض اللہ کے حکم پر انہیں چھوڑ دیتا ہے۔ نہ خوشبو استعمال کرتا ہے، نہ شکار کرتا ہے، نہ بال کاٹتا ہے ، یہ سب اس بات کی مشق ہے کہ بندہ اللہ کے حکم کے سامنے اپنی خواہشات کو قربان کرنا سیکھے۔
آخرت کی فکر اور دنیا سے بے رغبتی :6
حج کے ارکان میں سب سے عظیم رکن وقوفِ عرفہ ہے اور اس میں میدانِ حشر کی ایک واضح جھلک نظر آتی ہے۔ جس طرح حاجی دنیا کے کونے کونے سے نکل کر عرفات کے وسیع میدان میں کھلے آسمان کے نیچے جمع ہوتے ہیں، اسی طرح ایک دن تمام انسان اپنے رب کے حضور میدان محشر میں اکٹھے کیے جائیں گے۔ وہاں بھی کوئی سایہ نہ ہو گا، کوئی ظاہری سہارانہ ہو گا، ہر شخص اپنے اعمال کے ساتھ اپنے رب کے سامنے کھڑا ہو گا۔ حج کا یہ منظر انسان کو بار بار قیامت کی یاد دلاتا ہے اور اسے اپنے انجام کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
حج کی حالت میں انسان اپنی دنیاوی شان و شوکت کو چھوڑ کر سادہ لباس یعنی احرام میں آ جاتا ہے، جو دو سادہ چادروں پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ منظر انسان کو اس وقت کی یاد دلاتا ہے جب وہ دنیا سے رخصت ہو کر کفن میں لپٹا ہوا اپنے رب کے حضور پیش ہو گا۔ جس طرح حاجی اپنے گھر ، مال اور عزیزوں سے وقتی طور پر الگ ہو کر اللہ کی رضا کے لیے نکلتا ہے، اسی طرح قیامت کے دن بھی وہ اکیلا ہو گا، نہ کوئی مال کام آئے گا اور نہ کوئی رشتہ دار ، بلکہ ہر طرف نفسا نفسی کا عالم ہو گا اور ہر شخص اپنی نجات کی فکر میں ہو گا.
اتفاق و اتحاد:7
اتحاد و یگانگت کا حکم خود اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالی ہے :
وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا ۚ وَكُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا كَذلِكَ يُبَيِّنُ اللهُ لَكُمْ آيَتِهِ لَعَلَّكُمْ تَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُون
اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور جداجدا نہ ہو جاؤ اور اپنے اوپر اللہ کی نعمت یاد کرو، جب تم دشمن تھے تو اس نے تمھارے دلوں کے درمیان الفت ڈال دی تو تم اس کی نعمت سے بھائی بھائی بن گئے اور تم آگ کے ایک گڑھے کے کنارے پر تھے تو اس نے تمھیں اس سے بچالیا۔ اس طرح اللہ تمھارے لیے اپنی آیات کھول کر بیان کرتا ہے، تا کہ تم ہدایت پاؤ۔ “ [ آل عمران: 103]
سید نا ابو موسی اشعری رضی اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِنَّ الْمُؤْمِنَ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا، وَشَبَّكَ أَصَابِعَهُ
ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کی طرح ہے کہ اس کا ایک حصہ دوسرے حصہ کو قوت پہنچاتا ہے۔ “ اور آپ صلی ٹیم نے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کیا۔ [صحیح بخاری: 481]
اسلام کی بنیادی روح میں یہ بات شامل ہے کہ امت منتشر نہ ہو بلکہ ایک جسم کی مانند متحد رہے۔ اسی عظیم مقصد کے پیش نظر حج جیسی عبادت کو فرض کیا گیا، جس میں دنیا بھر کے مسلمان اپنے گھروں، مال و اسباب اور علاقائی شناختوں کو چھوڑ کر ایک ہی رب کے حکم پر ایک مرکز پر جمع ہوتے ہیں۔ ایک ہی لباس، ایک ہی کلمات اور ایک ہی سمت میں کھڑے ہو کر وہ عملاً اس حقیقت کا اعلان کرتے ہیں کہ وہ سب ایک امت ہیں، ان کا دین ایک ہے اور ان کا رب ایک ہے۔
حج در اصل عالم اسلام کے درمیان دینی تعلق کو مضبوط کرنے کا ایک بے مثال ذریعہ ہے۔ مختلف قوموں، زبانوں، رنگوں اور خطوں سے تعلق رکھنے والے مسلمان جب ایک جگہ جمع ہوتے ہیں تو ان کے درمیان اجنبیت ختم ہوتی ہے اور اخوت و محبت کے رشتے پروان چڑھتے ہیں۔