سابقہ امتوں میں عذاب الہی کے مظاہر
سابقہ امتوں میں عذاب الہی کے مظاہر
اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو بے شمار نعمتیں عطا فرمائی ہیں، ان میں سے ایک اہم نعمت یہ بھی ہے کہ اس نے سمندروں کو اس کے لیے مسخر کر دیا ہے۔ لکڑی کی ایک معمولی سی کشتی کے ذریعے وہ سمندر کی پشت پر دندناتا پھرتا ہے۔ وہ اپنے رزق کا ایک بڑا حصہ سمندری مخلوقات سے حاصل کرتا رہا ہے۔ اس سے طرح طرح کے قیمتی موتی اور آرایش و زینت کی دیگر اشیا نکالتا ہے۔ دوسری جانب اس کے روح پرور نظارے اور خوب صورت و دل کش مناظر انسانی طبیعت کو سرور ، خوشی اور راحت سے ہم کنار کرتے ہیں۔ بہت زیادہ وزنی اشیا کے نقل و حمل کے لیے آج بھی سمندر ہی کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے۔
لیکن جب انسان سرکشی پر اتر آتا ہے، اور اس کے نتیجے میں مشیت الہی کارفرما ہوتی ہے، تو یہی سمندر جو ایک لمحہ قبل تک اس کے لیے نفع بخش تھا، اسے ڈبو دیتا ہے، اور اس کی ہلاکت کا باعث بن جاتا ہے۔ اس الہی پکڑ سے اس کو رحمت الہی کے علاوہ کوئی اور نجات نہیں دے سکتا
وَإِنْ نَشَأْ نُغْرِقُهُمْ فَلَا صَرِيخَ لَهُمْ وَلَا هُمْ يُنْقَذُونَ إِلَّا رَحْمَةً مِنَّا (يس: 43 / 44)
ہم چاہیں تو ان کو غرق کر دیں ، کوئی ان کی فریاد سننے والا نہ ہو اور کسی طرح یہ نہ بچائے جاسکیں ۔ بس ہماری رحمت ہی ہے جو انھیں پار لگاتی ہے۔
فرعون نے جب سرکشی اختیار کی تو خدائی کا دعویٰ دار ہوا ، اور موسی علیہ السلام و بارون علیہ السلام کی رسالت کو ماننے سے انکار کیا۔ بنی اسرائیل کو آزاد کرنے سے بھی انکا کر دیا۔ اور حضرت موسی اور بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور بنی اسرائیل کو بحر قلزم میں راستہ دے کر پار کرا دیا، اور اس سمندر میں فرعون اور اس کے ساتھیوں کو غرق کر دیا۔ قرآن نے بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کی یہ عظیم نعمت یاد دلاتے ہوئے بیان فرمایا ہے :
وَإِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ فَأَنْجَيْنَاكُمْ وَأَغْرَقْنَا آلَ فِرْعَوْنَ وَأَنْتُمْ تَنْظُرُونَ (البقره :50)
یاد کرو وہ وقت جب ہم نے سمندر پھاڑ کر تمھارے لیے راستہ بنایا، پھر اس میں سے تمھیں بخیریت گز روادیا، پھر وہیں تمھاری آنکھوں کے سامنے فرعونیوں کو غرقاب کیا۔
قوم نوح
قوم نوح کے عذاب کا جو نقشہ قرآن نے بیان فرمایا ہے، اس سے پتا چلتا ہے کہ ان پر آسمان خوب ٹوٹ کر برسا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا گویا پورا آسمان چھلنی ہو گیا ہے، جس سے پانی برس رہا ہے۔ دوسری جانب زمین سے بھی پانی ابلنا شروع ہو گیا اور پوری سطح زمین ایک چشمہ آب میں تبدیل ہوگئی۔ پانی کی اتنی کثرت ہو گئی کہ وہ فلک بوس پہاڑوں کی چوٹیوں تک جا پہنچا۔ پوری قوم اس میں ڈبو کر ہلاک کر دی گئی ۔ نہ تو ان کے بنائے ہوئے گھر ان کے کام آئے ، نہ اونچے اونچے ٹیلے اور نہ بلند و بالا پہاڑ ۔ صرف نوح علیہ السلام اور ان پر ایمان لانے والے ایک کشتی کے ذریعے حکم الہی اس سے نجات پاسکے:
فَفَتَحْنَا أَبْوَابَ السَّمَاءِ بِمَاءٍ مُنْهَمِرٍ وَفَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُيُونًا فَالْتَقَى الْمَاءُ عَلَى أَمْرٍ قَدْ قَدِرَ وَحَمَلْنَاهُ عَلَى ذَاتِ أَلْوَاجِ وَدُسُرٍ تَجْرِى بِأَعْيُنِنَا جَزَاءً لِمَنْ كَانَ كُفِرَ
تب ہم نے موسلا دھار بارش سے آسمان کے دروازے کھول دیئے اور زمین کو پھاڑ کر چشموں میں تبدیل کر دیا اور یہ سارا پانی اس کام کو پورا کرنے کے لیے مل گیا جو مقدر ہو چکا تھا اور نوح کو ہم نے ایک تختوں اور کیلوں والی ( کشتی پر سوار کرادیا جو ہماری نگرانی میں چل رہی تھی ۔ یہ تھا بدلہ جو انہوں نے کفر کیا ۔
سخت ہوا کا عذاب
جن بنیادی اشیا پر انسانی زندگی کا انحصار ہے، ان میں سے ایک ہوا بھی ہے۔ ہر جان دار سانس کے ذریعے سے اسے اپنے بدن میں داخل کرتا ہے اور اسی ذریعے سے خارج کرتا ہے۔ اگر سانس کی یہ ڈور کٹ
جائے یا سانس لینے کے لیے مناسب ہوا میسر نہ ہو، تو چند لمحوں میں ایک جیتا جاگتا وجود بے جان لاشے میں تبدیل ہو جائے۔ انسانی زندگی کے لیے ہوا، غذا اور پانی سے بھی زیادہ اہم ہے۔
سمندر کی طرح اس کو بھی اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے فائدے کے لیے مسخر کیا ہے۔ ہوا بادلوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ ہانک کر لے جاتی ہے اور بارش کا سبب بنتی ہے ۔ خوش گوار موسم میں جب باد صبا چلتی ہے، تو انسان پر سرور و نشاط کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ انجن کی ایجاد سے قبل سمندری سفر اور کشتیوں کی آمد و رفت کا مکمل انحصار ہوا پر ہی ہوتا تھا۔ آج بھی سمندری سفر کی خوش گواری اور ناخوش گواری میں ہوا کی سازگاری کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ جدید سائنس نے نباتاتی پہلو سے ہوا کے چلنے کے مختلف فوائد دریافت کیے ہیں۔ یہی ہوا مرطوب بن کر فصلوں کو نشود نمادیتی اور پروان چڑھاتی ہے۔ گرم اور خشک ہو کر ان کو پکاتی اور تیار کرتی ہے۔
لیکن یہی ہوا، اگر مشیت الہی چاہے تو انسانوں کی ہلاکت کا پیغام لے کر آتی ہے۔ قوم عاد نے جب اپنے نبی ہود علیہ السلام کی بات ماننے سے انکار کر دیا، تو اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک تیز و تند ہوا بھیجی ، جو مسلسل سات رات اور آٹھ دن ان پر چلتی رہی۔
وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُوا بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَى كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ حَاوِيَةٍ فَهَلْ تَرَى لَهُمْ مِنْ بَاقِيَةٍ (الحاقة : 8/6)
اور لیکن قوم عاد، سو وہ ایک سخت آندھی سے ہلاک کیے گئے۔ وہ ان پر سات راتیں اور آٹھ دن لگا تار چلتی رہی (اگر تو موجود ہوتا ) ، اس قوم کو اس طرح گرا ہوا د دیکھتا کہ گویا کہ گھری ہوئی کھجوروں کے تنے ہیں۔ سو کیا تمہیں ان کا کوئی بچا ہوا نظر آتا ہے۔
سخت آواز کا عذاب
آواز بھی اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے، جو اس نے انسان کو عطا فرمائی ہے۔ جب تک انسان نے لکھنے پڑھنے کا فن نہیں سیکھا تھا، اس وقت تک مافی الضمیر کو ادا کرنے اور باہم رابطے کا ذریعہ صرف آواز ہی تھی۔ فن کتابت کی ایجاد اور آلات رسل و رسائل اور کتابت میں گوناگوں ترقی کے باوجود آج بھی آواز پیغام رسانی اور لوگوں کے درمیان رابطہ پیدا کرنے میں کتابت سے زیادہ فائدہ مند اور زیادہ استعمال ہوتی ہے۔ آواز کے ذریعے سے انسان نہ صرف مختلف جانوروں کے درمیان تمیز کرتا ہے بلکہ وہ ابنائے انسانی کے مختلف افراد کے درمیان امتیاز کا بھی ایک اہم ذریعہ ہے۔ سریلی، شیر یں اور دل کش آواز سے انسان محظوظ ہوتا ہے، اور وجد میں آجاتا ہے۔ دل کش آوازوں کی پسند کی وجہ سے انسان نے مختلف آلات موسیقی اور اشعار کے لیے اوزان ایجاد کیے۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے تو یہی آواز انسان کے لیے ہلاکت کا سبب بن جاتی ہے ۔ قوم ثمود نے جب صالح علیہ السلام کی دعوت کو ٹھکرا دیا اور ان کی قوم کے بد بخت عناصر نے اس اونٹنی کو قتل کر دیا، جو ان کے معجزہ طلب کرنے پر پتھر سے پیدا کی گئی تھی تو اللہ تعالیٰ نے ایک سخت اور ہولناک آواز کے ذریعے پوری قوم کو نیست و نابود کر دیا۔ ان کے وہ مضبوط اور محفوظ گھر جو انھوں نے چٹانوں کو تراش تراش کر بنائے تھے، وہ عذاب الہی کو روک نہ سکے
وَكَانُوا يَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا آمِنِينَ فَأَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ مُصْبِحِينَ فَمَا أَغْنَى عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ (الحجر: 82 / 84)
اور وہ لوگ پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے تھے کہ امن میں رہیں۔ پھر انہیں صبح کے وقت سخت آواز نے آپکڑا۔ پھر ان کے دنیاوی ہنر ان کے کچھ بھی کام نہ آئے۔
موجودہ دور میں، جب کہ ہم دھماکوں اور صوتی آلودگی سے ہونے والے واقعات کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر رہے ہیں، اس عذاب کی نوعیت اور اس کی ہلاکت خیزی کا اندازہ کرنا قطعاً مشکل نہیں۔
سنگ باری کا خوفناک عذاب
جب اللہ تعالی کسی قوم کو تباہ و برباد کرنے کا فیصلہ فرما لیتا ہے، تو آسمان سے پتھر برسنے لگتے ہیں۔ جس جگہ پر سنگ باری ہوتی ہے، وہ پوری طرح تمہیں نہیں ہو کے رہ جاتی ہے۔ قوم لوط علیہ السلام کے گناہوں کا پیمانہ جب لبریز ہو گیا اور انھوں نے لوط علیہ السلام کی تعلیمات پر ایمان لانے سے انکار کیا اور اپنی اخلاقی برائیوں میں مگن رہے یہاں تک کہ جب عذاب الہی کے فرشتے انسانی شکل میں لوط علیہ السلام کے پاس پہنچے تو انھوں نے ان کے ساتھ بھی وہی کچھ کرنا چاہا، جس کے وہ عادی تھے :
وَلَمَّا جَاءَتْ رُسُلُنَا لُوطًا سِي بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَقَالَ هَذَا يَوْمٌ عَصِيبٌ وَجَاءَهُ قَوْمُهُ يُهْرَعُونَ إِلَيْهِ وَمِنْ قَبْلُ كَانُوا يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ قَالَ يَا قَوْمِ هَؤُلَاءِ بَنَاتِي هُنَّ أَظْهَرُ لَكُمْ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَلَا تُغْرُونِ فِي ضَيْفِى أَلَيْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَشِيدٌ قَالُوا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِي بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍ وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ قَالَ لَوْ أَنَّ لِي بِكُمْ قُوَّةً أَوْ أوى إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ (هود: 77 / 80)
اور جب ہمارے بھیجے ہوئے لوط کے پاس پہنچے تو ان کے آنے سے غمگین ہوا اور دل میں تنگ ہوا اور کہا آج کا دن بڑا سخت ہے۔ اور اس کے پاس اس کی قوم بے اختیار دوڑتی آئی، اور یہ لوگ پہلے ہی سے برے کام کیا کرتے تھے، کہا اے میری قوم! یہ میری بیٹیاں ہیں یہ تمہارے لیے پاک ہیں، سو تم اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں میں مجھے ذلیل نہ کرو، کیا تم میں کوئی بھی بھلا آدمی نہیں ۔ انہوں نے کہا البتہ تحقیق تو جانتا ہے کہ ہمیں تیری بیٹیوں سے کوئی غرض نہیں ، اور تجھے معلوم ہے جو ہم چاہتے ہیں۔ کہا کاش کہ مجھے تمہارے مقابلے کی طاقت ہوتی یا میں کسی زبردست سہارے کی پناہ چالیتا۔
تو اللہ تعالیٰ نے ان کی بستیوں کو تاپٹ کر کے رکھ دیا اور ان پر ایسے پتھروں کی بارش برسائی ، جس پرنشان لگے ہوئے تھے :
آگ کا عذاب
جب اصحاب الایکہ نے شعیب علیہ السلام کو جھٹلایا اور ان سے مطالبہ کیا کہ اگر وہ اپنے دعوی میں سچے ہیں تو
ہم پر آسمان کا ایک ٹکڑا گرادیں
فَأَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفًا مِنَ السَّمَاءِ إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ (الشعراء: 187)
تو ہمارے اوپر آسمان کا ایک ٹکر ا گرا، اگر تو سچوں میں سے ہے۔
تو اللہ تعالی نے ان پر بادل کے ذریعے سے آگ کی بارش برسائی :
فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ إِنَّهُ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ (الشعراء: 189)
آخر کار چھتری والے دن کا عذاب ان پر آگیا، اور وہ بڑے ہی خوفناک دن کا عذاب تھا۔
زمین میں دھنسا دینے کا عذاب
اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں انسان کے لیے جو سہولیات مہیا کی ہیں، ان میں زمین ایک نمایاں اہمیت کی حامل ہے۔ اس کو اللہ تعالیٰ نے انسان کے رہنے بسنے کے لائق بنایا۔ زمین پھاڑ کر اس کے لیے رزق کے وسائل فراہم کیے۔ نہ صرف زمین کی پشت پر بلکہ اس کے پیٹ میں بھی انسان کے فائدے کے لیے طرحطرح کی چیزیں رکھیں، تا کہ انسان تلاش و جستجو سے انھیں حاصل کرے اور صحیح مصرف میں استعمال کرے۔ جس طرح زمین کے اوپر اللہ تعالیٰ نے انسان کی عبرت پذیری کے لیے بہت سی نشانیاں رکھی ہیں، اسی طرح خود زمین کو بھی عبرت کا ایک اہم سامان بنایا۔ جب انسانوں کی خودسری اور سرکشی حد سے گزر جاتی ہے، تو اللہ تعالیٰ ایسے انسانوں کو اس زمین میں دھنسا کر اوروں کے لیے عبرت کا نمونہ بنا دیتا ہے۔ اس طرح کی ایک مثال قرآن مجید نے بیان کی ہے۔ قارون جو موسی علیہ السلام کی قوم کا ایک فرد تھا، جسے اللہ تعالی نے بے انتہا مال و دولت سے نوازا تھا۔ جب اس نے اپنی مال داری پر غرور کیا اور اسے اپنی ذاتی لیاقت کا نتیجہ قرار دیا، اور زکوۃ ادا کرنے سے انکار کیا، تو اللہ تعالی نے اس کے خزانوں سمیت اسے زمین میں دھنسا دیا:
فَخَسَفْنَا بِهِ وَبِدَارِهِ الْأَرْضَ فَمَا كَانَ لَهُ مِنْ فِئَةٍ يَنْصُرُونَهُ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِينَ (القصص: 28)
آخر کار ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا۔ پھر کوئی اس کے حامیوں کا گروہ نہ تھا جو اللہ کے مقابلے میں اس کی مدد کو آتا اور نہ وہ خود اپنی مدد آپ کر سکا۔ نہ اسی طرح اللہ تعالی نے کفار مکہ کو بھی اس نوع کے عذاب کی دھمکی سنائی :
أَمِنْتُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ أَنْ يَخْسِفَ بِكُمُ الْأَرْضَ فَإِذَا هِيَ تَمُور ( الملك: 16)
کیا تم اس بات سے بے خوف ہو کہ وہ جو آسمان میں ہے، تمھیں زمین میں دھنسا دے اور یکا یک یہ زمین جھکولے کھانے لگے۔
أَفَأَمِنْتُمْ أَنْ يَخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ ( بنی اسرائیل : 67)
تو کیا تم اس بات سے بالکل بے خوف ہو کہ خدا کبھی خشکی پر ہی تم کو زمین میں دھنسا دے۔