لاس اینجلس اور آگ
لاس اینجلس اور آگ
لاس اینجلس میں لگنے والی آگ کے تناظر میں:-
امریکہ کے شہر لاس اینجلس میں آگ لگی ہوئی ہے۔ جنگل سے اٹھنے والی اس آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے شہر کو جلا دیا۔ امریکی میڈیا کے مطابق 12 ہزار سے زائد فائر فائٹرز ، ساڑھے 1100 فائر انجن، 60 طیارے اور 143واٹر ٹینکر آگ بجھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں، جواب تک آگ پر قابو پانے میں ناکام رہے ہیں۔ جنگل سے اٹھنے والی یہ آگ ہزاروں میل پر پھیل چکی ہے جس کے نتیجے میں سینکڑوں گھر ملبہ کا ڈھیر بن گئے ، دو درجن سے زائد لوگ ہلاک ہو گئے، کوئی دو درجن تک لوگ لا پتہ ہیں اور سینکڑوں لوگ زخمی ہیں جبکہ لاکھوں لوگ اپنے گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں۔ اور اس کی شدت تا حال پہلے کی طرح ہے اگر کسی ایک لمحے کے لیے کم بھی ہوتی ہے تو پھر کسی نا کسی جگہ سے آگ دوبارہ بھڑک اٹھتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ امریکی میڈیا کے مطابق کیلیفورنیا فائر ڈیپارٹمنٹ کے نائب سر براہ نے کہا ہے:ہمیں قدرت کے رحم کی ضرورت ہے۔ یعنی وہ اس بات کو تسلیم کر چکے ہیں کہ یہ آگ کوئی معمولی آگ نہیں ہے، جسے ہم بہت آسانی سے ختم کرسکتے ہیں۔یہ آگ کس نے لگائی؟ کیسے لگی؟ اور کیوں لگائی گئی؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا بظاہر کسی کے پاس کوئی ٹھوس جواب نہیں۔
چند ضروری مسائل اور ان کا حل
کیا کافروں کے لیے بد دعا کی جاسکتی ہے؟
غزوہ خندق کے موقع پر جب دشمن کی یلغار کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عصر کی نماز قضا ہو گئی توآپ نے فرمایا :
مَلَأُ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ نَارًا
اللہ سبحانہ و تعالیٰ ان کافروں کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھر دے۔
امام بخاری نے اس حدیث پر باب باندھا ہے :
باب : الدُّعَاءِ عَلَى الْمُشْرِكِينَ بِالْهَزِيمَةِ وَالزَّلْزَلَةِ
مشرکین پر بددعا کا بیان
کفار کے ہلاک ہونے کی دعا انبیاء کا عمل رہا ہے۔ جیسے نوح علیہ السلام کی دعا:
وَقَالَ نُوحٌ رَبِّ لَا تَذَرُ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا (نوح: 26)
اور نوح نے کہا اے میرے رب ! زمین پر کافروں میں سے کوئی رہنے والا نہ چھوڑ ۔
موسیٰ علیہم اور ہارون علیہ السلام کی دعا:
وَقَالَ مُوسَى رَبَّنَا إِنَّكَ آتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَأَهُ زِينَةٌ وَأَمْوَالًا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُوا عَنْ سَبِيلِكَ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّى يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ (يونس: 88)
اور موسیٰ نے کہا اے رب ہمارے ! تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں آرائش اور ہر طرح کا مال دیا ہے، اے رب ہمارے یہاں تک کہ انہوں نے تیرے راستہ سے گمراہ کر دیا ، اے رب ہمارے ! ان کے مالوں کو برباد کر دے اور ان کے دلوں کو سخت کر دے پس یہ ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ درد ناک عذاب دیکھیں۔
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم امام کعبہ کے سایہ میں نماز پڑھ رہے تھے، تو ابو جہل اور قریش کے کچھ لوگ اٹھے اور مکہ کے کسی کونے سے میں ذبح کئے ہوئے اونٹ کا گوبر ، خون اور اوجھڑی اٹھا کر لائے اور جب یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہ سجدہ میں تشریف لے گئے تو انہوں نے وہ غلاظتیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ڈال دیں، فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں اور ان غلاظتوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر سے ہٹایا، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کر کے اللہ سے دعا کی کہ :
اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ
اے اللہ ! قریش کو ہلاک کر دے ۔ اے اللہ ! قریش کو ہلاک کر دے، اے اللہ ! قریش کو ہلاک کردے۔
ثُمَّ سَمَّى : اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِأَبِي جَهْلٍ، وَعَلَيْكَ بِعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَشَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَالوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ، وَأُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ، وَعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ
پھر ابو جہل بن ہشام ، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ، ابی بن خلف، عقبہ بن ابی معیط کا نام لیا۔
عبد اللہ بن مسعود بھی یہ فرماتے ہیں :
فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَدْ رَأَيْتُ الَّذِينَ عَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صرْعَى فِي القَلِيبِ قَلِيبِ بَدْرٍ
اللہ کی قسم ! میں نے ان سب کو بدر کی لڑائی میں مرا ہوا پایا ۔ صحیح البخاری: 240
ان تمام دلائل سے یہ بات سمجھ میں آئی کہ ایسے کافر جو مسلمانوں کو نقصان پہنچاتے ہیں ایسے کافروں کے لیے بد دعا کرنا انبیائے کرام علیہم السلام کی سنت ہے۔
کیا کافروں کی ہلاکت اور نقصان پر خوشی کا اظہار کرنا جائز ہے؟
اس میں دو باتیں ہیں :
پہلی بات یہ کہ:-
ایسے موقع پر کسی صورت بھی پریشان نہیں ہونا چاہیے اور ناہی کسی غم کا اظہار کرنا چاہیے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ کفار کی قوم پر غم نہ کریں:
فَلَا تَأْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ (المائدة: 68)
سو افسوس نہ کروانکار کرنے والوں کے حال پر۔
اسی طرح موسیٰ علیہ السلام کو فرمایا گیا:
قَالَ فَإِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ أَرْبَعِينَ سَنَةً يَتِيهُونَ فِي الْأَرْضِ فَلَا تَأْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ (المائدة: 26)
فرما یا تحقیق وہ زمین ان پر چالیس برس کے لیے حرام کی گئی ہے، اس ملک میں سرگرداں پھریں گے ، سو تو افسوس نہ کر نا فرمان قوم پر۔
شعیب علیہ السلام نے فرمایا :
فَتَوَلَّى عَنْهُمْ وَقَالَ يَا قَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَاتِ رَبِّي وَنَصَحْتُ لَكُمْ فَكَيْفَ أَسَى عَلَى قَوْمٍ كَافِرِينَ (الأعراف: 93)
پھر ان سے منہ پھیرا اور کہا اے میری قوم! تحقیق میں نے تمہیں اپنے رب کے احکام پہنچا دیے اور میں نے تمہارے لیے خیر خواہی کی ، پھر کافروں کی قوم پر میں کیونکر تم کھاؤں۔
دوسری بات یہ ہے:-
کہ ایسے موقع پر خوشی کا اظہار بھی کیا جا سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید کے ایک مقام پر رومیوں (اپنے وقت میں اپنے آپ کو سپر پاور کہلوانے والوں ) کی ایک لڑائی کا تذکرہ کیا اور پھر اس لڑائی میں اُن کی شکست کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
غُلِبَتِ الرُّومُ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ فِي بِضْعَ سِنِينَ لِلَّهِ الْأَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ (الروم : 4/2)
روم مغلوب ہو گئے۔ نزدیک کے ملک میں اور وہ مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آجائیں گے۔ چند ہی سال میں، پہلے اور پچھلے سب کام اللہ کے ہاتھ میں ہیں، اور اس دن مسلمان خوش ہوں گے۔
اس سے معلوم ہوا کہ کافروں کی اس بار سے مسلمان خوش ہوئے۔
آفت زدہ علاقے میں اگر مسلمان بھی موجود ہوں تو ؟
ایک اہم سوال بہت سارے لوگوں کے ذہنوں میں ہے کہ لاس اینجلس میں جو آگ لگی وہاں بہت سارے مسلمان بھی تو ہیں تو اُن کے بارے میں کیا حکم ہے؟
اس سلسلے میں دو باتیں ہیں :
پہلی بات یہ ہے:-
کہ قطع نظر اس بات سے کہ اُن کا وہاں پر رہنا کیسا ہے؟ ہم یہ کہنا چاہیں کہ مسلمانوں کو ایسے علاقہ سے نکل جانا چاہیے۔ جیسا کہ رب تعالیٰ کا ارشاد ہے :
يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ أَرْضِي وَاسِعَةٌ فَإِيَّايَ فَاعْبُدُونِ ( العنكبوت : 56)
اے میرے وہ بند و جوایمان لائے ہو! میری زمین وسیع ہے، پس تم میری ہی بندگی کرو۔
امام بغوی رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
یہ آیت کریمہ ان مسلمانوں کے بارے میں نازل ہوئی ، جو مکہ مکرمہ میں رہ گئے تھے اور اُنہوں نے ہجرت نہ کی تھی۔
دوسری بات یہ ہے:-
کہ اس علاقہ میں شہید ہونے والے یا نقصان اٹھانے والے مسلمانوں کا معاملہ اللہ کے ساتھ ہے۔ جب عذاب الہی آتا ہے تو اس میں نیک و بد ہر دو طرح کے لوگ شامل ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث مبارکہ سے راہنمائی لی جاسکتی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
يَغْزُو جَيْشُ الكَعْبَةَ، فَإِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ، يُخْسَفُ بِأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ
قیامت کے قریب ایک لشکر کعبہ پر چڑھائی کرے گا۔ جب وہ مقام بیداء میں پہنچے گا تو انہیں اول سے آخر تک سب کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے کہا:
يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ يُخْسَفُ بِأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ، وَفِيهِمْ أَسْوَاقُهُمْ، وَمَنْ لَيْسَ مِنْهُمْ؟
میں نے کہا، یا رسول اللہ ! اسے شروع سے آخر تک کیوں کر دھنسایا جائے گا جب کہ وہیں ان کے بازار بھی ہوں گے اور وہ لوگ بھی ہوں گے جو ان لشکریوں میں سے نہیں ہوں گے ( یعنی مسلمان ہوں گے ) ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“يُخْسَفُ بِأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ، ثُمَّ يُبْعَثُونَ عَلَى نِيَّاتِهِمْ”
ہاں ! شروع سے آخر تک ان سب کو دھنسا دیا جائے گا۔ پھر ان کی نیتوں کے مطابق وہ اٹھائے جائیں گے۔ صحیح البخاری: 2118
اس حدیث مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اہل شر کے ساتھ نیک لوگ ہوں تو اُن کے اوپر بھی عذاب آسکتا ہے اور وہ بھی اس عذاب کی لپیٹ میں آجائیں تو اللہ ان اچھے لوگوں کو اُن کی نیتوں کے مطابق اٹھائے گا۔ اور اُن سے عدل و انصاف کا برتاؤ کرو، بیشک اللہ عدل و انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے. ایسے کافر جنہوں نے مسلمانوں کو گھروں سے نکالا، یا گھروں سے نکالنے والوں کی مدد کی یا کسی طرح مسلمانوں کو نقصان پہنچاتے ہیں یا نقصان پہنچانے والوں کا ساتھ دیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کیساتھ کسی صورت بھی تعاون نہیں کیا جا سکتا۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
إِنَّمَا يَنْهَا كُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ قَاتَلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَأَخْرَجُوكُم مِّن دِيَارِكُمْ وَظَاهَرُوا عَلَى إِخْرَاجِكُمْ أَن تَوَلَّوْهُمْ وَمَن يَتَوَلَّهُمْ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ ( الممتحنة: 9)
اللہ تو محض تمہیں ایسے لوگوں سے دوستی کرنے سے منع فرماتا ہے جنہوں نے تم سے دین (کے بارے میں جنگ کی اور تمہیں تمہارے گھروں (یعنی وطن ) سے نکالا اور تمہارے باہر نکالے جانے پر ( تمہارے دشمنوں کی مدد کی ۔ اور جو شخص اُن سے دوستی کرے گا تو وہی لوگ ظالم ہیں ۔
اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کیجئے
بحیثیت انسان ہم بہت گناہ گار ہیں، اللہ تعالیٰ ہمارے اعمال سے بڑھ کر ہمارے اوپر مہربان ہے، مگر بیچ یہ ہے کہ ہم اللہ کی دی ہوئی ان گنت نعمتوں کے حقدار نہیں ہیں۔ اللہ تعالٰی اگر کافروں کے اوپر اپنا عذاب بھیج سکتا ہے تو ہم نافرمانوں کے اوپر بھی اس کا عذاب اُتر سکتا ہے۔ اس لیے ہمیشہ اللہ تعالی سے عفو اور عافیت کا سوال کرتے رہنا چاہیے۔
سپر پاور صرف اللہ
امریکہ اپنے آپ کو سپر پاور سمجھتا ہے ، ساری دنیا سب سے بڑا تسلیم کرتی ہے، اسے بھی یہ گمان ہے کہ میں جو چاہوں کر سکتا ہوں مگر یہ بات یاد رکھیے گا کہ حقیقی سپر پاور اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اللہ تعالی جب کسی قوم کو تباہ و برباد کرنا چاہیے تو ساری دنیا کی ٹیکنالوجی فیل ہو جاتی ہے اللہ اور اللہ کا امر غالب رہتا ہے۔
قیامت ہر دم یادر ہے
کبھی سوچ سکتے تھے کہ دنیا کے انتہائی ترقی یافتہ میں ملک میں ایسے اچانک آگ بھڑک جائے گی اور ہزار کوششوں کے باوجود بھی وہ بجھنے کا نام نہ لے گی ۔ ایسے ہی ایک وقت آنے والا ہے کہ اچانک صور میں پھونک دیا جائے گا اور قیامت برپا ہو جائے گی ۔ قیامت ایسی نہیں ہوگی کہ تدریجاً آ جائے ، بلکہ یہ دفعتنا ایسے وقت میں آئے گی ، جب لوگ اپنے دنیوی امور میں الجھ رہے ہوں گے۔ اپنی محفلوں میں بیٹھے ادھر ادھر کی باتیں کر رہے ہوں گے، اچانک صور پھونکا جائے گا اور اللہ کی لافانی ذات کے علاوہ سب اس صور سے ہلاک ہو جائیں گے ۔