ماحولیاتی آلودگی کا تدارک کیسے ممکن ہے؟
ماحولیاتی آلودگی کا تدارک کیسے ممکن ہے؟
اسلامی تعلیمات کی روشنی میں
اس وقت پوری دنیا میں ماحولیاتی آلودگی کا مسئلہ سنگین نوعیت اختیار کر گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان نے زندگی کے مختلف شعبوں میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی بدولت ترقی کی دوڑ میں ماحولیات کو نظر انداز کر دیا ہے اور تعیش پسندی میں انہماک ، مال کو کسی بھی طریقے سے کمانا، پیداوار کو غیر فطری طور پر تیز رفتاری سے بڑھانے کی آرزو اور ذاتی خواہشات کو معاشرہ کے مفاد پر اور جلدی حاصل ہونے والے فوائد کو دیرپا فوائد پر ترجیح دینا، اس کا شیوہ بن گیا ہے۔ اس کی بنا پر ہوا، پانی اور زمین کی طبعی ، کیمیائی اور حیاتیاتی خصوصیات میں ناپسندیدہ اور نامناسب تبدیلیاں پیدا ہوگئی ہیں اور زمین کے درجہ حرارت میں نقصان دہ حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔
انسان کو روئے زمین پر اللہ کا نائب بنایا گیا ہے۔ قدرت کی تخلیق میں اللہ تعالیٰ نے توازن رکھا ہے۔ انسان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس کے کسی بھی عمل سے قدرت کے توازن میں کوئی خلل نہ پڑے۔
ماحول کیا ہے؟
ماحولیاتی تحفظ کا مطلب ہے قدرتی ماحول کی حفاظت، جیسے کہ پانی، ہوا، زمین اور حیاتیات کا تحفظ۔ اس کا مقصد ہے کہ موجودہ اور آنے والی نسلوں کیلئے ماحول کو محفوظ اور صحت مند رکھا جائے ۔ اسلام میں زمین کی حفاظت اور اس کا احترام بہت اہمیت رکھتا ہے۔ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں زمین کے وسائل کا صحیح استعمال اور اس کی حفاظت کی تعلیمات اس بات پر زور دیتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو انسانوں کیلئے ایک نعمت بنایا ہے اور اسے غلط استعمال کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:
الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ فِرَاشًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَأَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثمَرَاتِ رِزْقًا لَكُمْ فَلَا تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَنْدَادًا وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ (سورة البقرة : 22)
جس نے تمہارے لیے زمین کو فرش بنایا اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے پانی اتارا پھر اس سے تمہارے لیے پھل پیدا کیے جو تمہارے لیے رزق ہیں تو اللہ کیلئے شریک نہ ٹھہراو حالانکہ تم جانتے ہو۔ ایک اور جگہ پر اللہ تعالیٰ نے زمین کی حفاظت کے بارے میں ارشاد فرمایا :
ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُمْ بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ (الروم : 41)
خشکی اور تری میں فساد پھیل گیا ہے لوگوں کے ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے تا کہ اللہ ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے تا کہ وہ باز آجائیں۔
اس آیت کریمہ میں زمین پر فساد پھیلانے کی ممانعت کی گئی ہے، بعض مجتہدین کے نزدیک قدرتی وسائل کو برباد کرنا بھی فساد کے زمرے میں آسکتا ہے۔ اللہ تعالی نے لوگوں کو ان کے اعمال کا نتیجہ دیکھنے کیلئے زمین پر فسادات کی علامات دکھا ئیں تا کہ وہ صحیح راہ پر آئیں۔
ما حولیاتی چیلنجز
اس وقت ماحول کو جو جدید چیلنجز درپیش ہیں، ان میں نمایاں ترین چیلنج ذیل میں ذکر کیے جاتے ہیں۔ اس مختصر اشاریے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس وقت انسانیت اور خود اس پوری کا ئنات کو کتنے هولناک مسائل کا سامنا ہے۔
1: سمندر ۱۹۰۰ ء سے لے کر اب تک ۱۹ سینٹی میٹر اپنی سطح بلند کر چکا ہے جس کے نتائج سمجھنا کسی ذی شعور کے لیے مشکل نہیں ، مگر سب سے واضح نتیجہ یہ ہے کہ دنیا بھر میں اس کے نتیجے میں بیسیوں جزیرے صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہیں۔
2: جنگلات تیزی سے ختم ہو رہے ہیں، جن کی وجہ سے جنگلی حیات کو بھی خطرات لاحق ؟ ہیں۔ فضائی آلودگی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، زمینیں بھی بنجر ہو رہی ہیں اور انسان کے لیے صاف فضا میں سانس لینے سے لے کر خوراک تک کے بحران جنم لے رہے ہیں اور سب سے بڑھ کر ماحول میں تپش اور گرمی کا تناسب بڑھ رہا ہے۔
3: بعض خطوں میں جانور مسلسل کم ہو رہے ہیں۔ جانوروں، چرند، پرند، آبی حیوانات، زمین پر رینگنے والے حشرات ، نباتات اور بہت سے پودوں کی قسمیں ناپید ہو چکی ہیں بل کہ اور بہتسی اختتام کے آخری مرحلے میں ہیں ، کسی بھی وقت نابود ہو سکتی ہیں۔
4: ما حولیاتی کثافت مسلسل بڑھ رہی ہے جس کی وجہ سے ہوا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار میں مسلسل اضافہ نوٹ کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک خطرناک علامت ہے اور اس کے نتیجے میں حیاتیاتی اجناس کو سخت خطرات لاحق ہیں۔
5: دنیا بھر میں پانی کا بحران سر پر ہے۔ موجودہ پانی کی بڑی مقدار صنعتی اور دیگر فضلات کی وجہ سے آلودہ اور بعض صورتوں میں زہریلی ہو چکی ہے۔
6: صنعتی اور مشینی ترقی نے اس کا ئنات کو سب سے بڑے خطرات سے دو چار کر دیا ہے اور صنعتوں سے خارج ہونے والی گیسوں اور دیگر فضلات کی وجہ سے اوزون کی تہہ میں شگاف پڑ گیا ہے۔ یہی سبب ہے کہ
7: اب سورج کی مضر اور سخت نقصان دہ شعائیں بہ راہ راست زمین پر پڑ رہی ہیں اور اس کے نتیجے میں کینسر اور دیگر بیماریاں تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہیں۔
ما حولیاتی آلودگی کا تدارک کیسے ہو سکتا ہے؟
ماحول ہی کی وجہ سے انسان جسمانی اور روحانی طور پر متاثر ہوتا ہے اگر معاشرہ اپنی اخلاقی اقدار کھو بیٹھے تو اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی لڑائی جھگڑے کی وجہ سے ہر طرف خوف و ہراس پھیل جاتا ہے جہاں پر شرفاء اور غرباء کے لیے ایام زندگی گزارنا مشکل ہو جاتے ہیں اور اگر معاشرہ اپنی طبعی اور احساسی اقدار کھو بیٹھے تو ہر گلی و کوچہ غلاظت اور گندگی کا ڈھیر بن جائے۔ پورا شہر ہر جگہ کھڑے بد بودار پانی کی وجہ سے فلڈ ایریا کی صورت اختیار کرلے تو پھر ایسی جگہ پر طبعی اور طبی لحاظ سے انسانی زندگی گزارنا ناممکن ہو جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ اسلام نے ہر قسم کی ماحولیاتی آلودگی ختم کرنے کی تعلیم دی ہے تا کہ انسان ذہنی، فکری اور جسمانی لحاظ سے محفوظ اور پر سکون زندگی گزار سکے۔
ماحولیاتی تحفظ میں پانی کا کردار
پانی کو ضائع کرنے کی ممانعت
پانی اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے اس کو محفوظ کیا جائے اور ہر ممکن اسے ضائع ہونے سے بچایا جائے۔
یہ تو واضح ہے کہ پانی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے اسے کسی صورت بھی ضائع نہیں کرنا چاہیے کیونکہ روز قیامت اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کی بابت ہم سے سوال کرنا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:
ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ (التكاثر : 8)
پھر یقینا تم اس دن نعمتوں کے بارے میں ضرور پوچھے جاؤ گے۔
پانی کے تحفظ کی احتیاطی تدابیر
ہرممکن پانی کو ضائع ہونے سے بچایا جائے چند مقامات ایسے ہیں جہاں سے پانی کو محفوظ کیا جا سکتا ہے مثلا : غسل کرنے اور ہاتھ منہ دھونے کیلئے صابن کے استعمال کے وقت ٹوٹی کو کھلا نہ رکھا جائے۔ برتن، کپڑے یا گھر کی صفائی کے لئے کسی بالٹی میں پانی ڈال کر استعمال کرنا چاہیے کیونکہ پائپ سے پانی زیادہ ضائع ہو جاتا ہے۔ اسی طرح مسواک اور وضو کرنے کے لئے بھی پانی لوٹا یا کسی برتن میں ڈال کر استعمال کرنا چاہیے تا کہ حد درجے تک پانی کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔ اور گھر کے استعمال شدہ پانی کو گلیوں میں فضول نہیں چھوڑ نا چاہیے کیونکہ ایک تو کھڑے پانی سے گلی، محلے پانی میں کا ماحول خراب ہوتا ہے اور دوسرا اس سے جراثیم و بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ اس لئے اسے فصلوں ، کھیتوں یا کسی طریقے سے کارآمد بنانا چاہیے۔ اسی طرح ملکی سطح پر بھی بارشوں کے پانی کو محفوظ کرنے کے لئے بڑے بڑے ڈیم اور بند قائم کیے جائیں اور اسے کارآمد بنایا جائے۔
زمینی اور فضائی آلودگی کا تدارک
زمینی اور فضائی آلودگی سے نجات پانے کا ایک ذریعہ شجر کاری بھی ہے جو کاربن ڈائی آکسائیڈ کے خاتمے اور آکسیجن کی افزودگی کا بہترین ذریعہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شجر کاری کی صحابہ کرام رض کو ترغیب بھی دلائی اور درخت لگانے پر اجر ملنے کا مژدہ بھی سنایا۔
سیدنا جابر بن عبد اللہ رض سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعُهَا، فَإِنْ لَمْ يَزْرَعُهَا، فَلْيُزْرِعُهَا أَخَاهُ
جس کے پاس زمین ہو اسے چاہیے کہ وہ اس میں کاشت کاری کرے اور اگر وہ نہیں کرتا تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے بھائی کو دے دے ( تا کہ وہ اس میں کھیتی باڑی کر سکے ) ۔ صحیح مسلم: 1536
بلا وجہ درختوں کو نا کاٹو
سید نا علی رض فرماتے ہیں کہ جب بھی رسول اللہﷺ کسی لشکر کو جہاد کے لیے روانہ فرماتے ، تو اسے یہ نصیحت فرماتے:
وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا طِفْلًا، وَلَا امْرَأَةً، وَلَا شَيْخًا كَبِيرًا، وَلَا تُغَوِّرُنَّ عَيْنًا، وَلَا تَعْقِرُنَّ شَجَرَةً إِلَّا شَجَرًا يَمْنَعُكُمْ قِتَالًا أَوْ يَحْجِزُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ، وَلَا تُمَثلُوا بِآدَمِي وَلَا بَهِيمَةٍ، وَلَا تَغْدِرُوا، وَلَا تَغُلُّوا
کسی بچے کو قتل نہ کرنا کسی عورت کو قتل نہ کرنا کسی بوڑھے کو قتل نہ کرنا ، چشموں کو خشک و ویران نہ کرنا ، جنگ میں حائل درختوں کے سوا کسی دوسرے درخت کو نہ کاٹنا، کسی انسان کا مثلہ نہ کرنا کسی جانور کا مثلہ نہ کرنا ، بد عہدی نہ کرنا اور چوری و خیانت نہ کرنا۔ سنن الكبرى للبيهقي : 18155
کھیتی باڑی کو تباہ کرنے والوں کی مذمت
کھیتی باڑی اور درختوں کی کاشت داری اتنا بڑا عمل ہے، کہ ان میں خرابی ڈالنے والے کے کے بارے میں رب تعالی کی ناپسندیدگی ہے۔ جیسا کہ رب تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَإِذَا تَوَلَّى سَعَى فِي الْأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ (البقرة: 205)
جب وہ لوٹ کر جاتا ہے تو زمین میں فساد پھیلانے کی اور کھیتی اور نسل کی بربادی کی کوشش میں لگا رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ فساد کرنا پسند کرتا ہے۔“
سایہ دار رخت کاٹنے کی سزا
عبد اللہ بن حبشی رض کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :
مَنْ قَطَعَ سِدْرَةً صَوَّبَ اللَّهُ رَأْسَهُ فِي النَّارِ
جو شخص ( بلا ضرورت) بیری کا درخت کاٹے گا اللہ اسے سر کے بل جہنم میں گرادے گا۔
هَذَا الْحَدِيثُ مُخْتَصَرٌ، يَعْنِي مَنْ قَطَعَ سِدْرَةً فِي فَلَاةٍ يَسْتَظِلُّ بِهَا ابْنُ السَّبِيلِ، وَالْبَهَائِمُ عَبَثًا، وَظُلْمًا بِغَيْرِ حَقٌّ يَكُونُ لَهُ فِيهَا صَوَّبَ اللَّهُ رَأْسَهُ فِي النَّارِ
یہ حدیث مختصر ہے، پوری حدیث اس طرح ہے کہ کوئی بیری کا درخت چٹیل میدان میں ہو جس کے نیچے آکر مسافر اور جانور سایہ حاصل کرتے ہوں اور کوئی شخص آکر بلا سبب بلا ضرورت ناحق کاٹ دے ( تو مسافروں اور چوپایوں کو تکلیف پہنچانے کے باعث وہ مستحق عذاب ہے ) اللہ ایسے شخص کو سر کے بل جہنم میں جھونک دے گا۔ سنن ابی داود : 5239، قال البانی: صحیح
وسائل کے استعمال میں اعتدال و توازن
ماحولیاتی تبدیلیوں اور موسمیاتی تغیرات کے نقصانات سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم قدرتی وسائل اور اللہ کی طرف سے ملنے والی نعمتوں کو اعتدال و توازن کے ساتھ استعمال کریں ۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ (الاعراف: (31)
اور کھاؤ اور پیو اور حد سے زیادہ خرچ نہ کرو کہ بے شک وہ بے جا خرچ کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا ۔ اور ایک دوسری جگہ فرمان الہی ہے :
وَلَا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ (الانعام: (11)
اور حد سے تجاوز نہ کرو، اللہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔
قرآن کی نظر میں ہر وہ چیز جو صلاح و درستگی سے دور ہو جائے اور نفع کی صلاحیت کو کھودے وہ فساد ہے، اگر چہ اس کا غالب استعمال عقیدہ اور عمل کی خرابی کے لئے ہوتا ہے، لیکن کسی چیز کے نظام توازن اور اعتدال (Moderation) کو بگاڑنے پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے، جس سے اس کی حقیقی افادیت آہستہ آہستہ ختم ہو جائے۔
اللہ تعالی نے اپنی معرفت ، قدرت کاملہ اور ربوبیت کی شناخت اور ادراک کے لئے دو سے زائد آیتوں کے اندر زمین، ہوا، پانی، زندہ اور مردہ مخلوقات شجر، حجر، پہاڑ ، سمندر اور دیگر عجائبات عالم میں غور کرنے کی دعوت دی ہے اور کائنات کے اس نظام توازن تو ازن کی طرف اشارہ فرمایا فرمایا ہے، چنانچہ ارشاد ہے:
صُنْعَ اللَّهِ الَّذِي أَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ إِنَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَفْعَلُونَ (النمل:)
یہ اس اللہ کی کاریگری ہے جس نے ہر چیز کو محکم کیا ہے ۔“
ان تمام دلائل سے یہ سبق ملتا ہے کہ حرص و ہوس مذموم ہے اور ہر چیز میں اعتدال مطلوب ہے اور یہ ظاہر ہے کہ اگر اعتدال اور میانہ روی کے ساتھ دنیا ترقی کی راہ پر گامزن رہے تو نظام توازن بھی برقرار رہے گا اور ماحولیات کا بھی تحفظ ہوگا اور ساتھ ہی ترقی بھی حاصل ہوتی رہے گی۔
راستوں اور گزرگاہوں کی صفائی
ما حولیاتی تحفظ میں صفائی وستھرائی کا بہت اہم کردار ہے۔ اور دین اسلام طہارت پر بہت زور دیتا ہے۔ طہارت نصف ایمان ہے، اس کے برعکس گندگی اور پلیدگی شیطانی صفت ہے۔ اللہ تعالیٰ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو ہی پسند فرماتا ہے ۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رض سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا :
إِنَّ اللهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ، الْكِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ، وَغَمْطُ النَّاسِ
اللہ تعالیٰ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے، غرور اور گھمنڈ یہ ہے کہ انسان حق بات کو رد کر دے اور لوگوں کو حقیر سمجھے۔ سنن ابن ماجه: 328
راستوں میں قضائے حاجت کرنا ؛ موجب لعنت
سیدنا معاذ بن جبل رض سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :
اتَّقُوا الْمَلَاعِنَ الثَّلَاثَ : الْبَرَازَ فِي الْمَوَارِدِ، وَالظَّلِّ، وَقَارِعَةِ الطَّرِيقِ
تین ایسی چیزوں سے بچو جو لعنت کا سبب بنتی ہیں : مسافروں کے وارد ہونے کی جگہوں پر،سایہ دار درختوں کے نیچے اور عام راستوں پر قضائے حاجت کرنے سے۔ [صحیح مسلم: 91]
گھر کے سامنے والے حصے کی نظافت کا حکم
بعض لوگ گھر کی صفائی کر کے کچرہ گھر سے باہر گلی میں ڈال دیتے ہیں، اس بارے میں ایک حدیث ہے:
إِنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ يُحِبُّ الطَّيِّبَ، نَظِيفٌ يُحِبُّ النَّظَافَةَ، كَرِيمٌ يُحِبُّ الكَرَمَ، جَوَادٌ يُحِبُّ الجُودَ، فَنَظِفُوا – أَرَاهُ قَالَ – أَفْنِيَتَكُمْ وَلَا تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ
اللہ طیب ( پاک ) ہے اور پاکی (صفائی وستھرائی) کو پسند کرتا ہے۔ اللہ مہربان ہے اور مہربانی کو پسند کرتا ہے۔ اور اللہ سخی و فیاض ہے اور جو دوسخا کو پسند کرتا ہے، تو پاک وصاف رکھو۔ ( میرا خیال ہے کہ انہوں نے اس سے آگے کہا ) اپنے گھروں کے صحنوں اور گھروں کے سامنے کے میدانوں کو، اور یہود سے مشابہت نہ اختیار کرو۔ سنن الترمذى: 2799.
اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ راستوں کی صفائی اور نظافت کا لحاظ نہ رکھنے سے معاشرے میں بہت سی بے اعتدالیاں جنم لیتی ہیں، انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی ، سماج پر ہر اعتبار سے اس کے برے اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔ جسمانی بیماریاں، اعصابی امراض، ذہنی تناؤ اور تھکاوٹ ، طبیعت پر بوجھ اور ان جیسے دیگر امراض کی اہم وجہ اگر گلی کوچوں کی گندگی اور راستوں پر پڑے کوڑے کے ڈھیر وغیرہ کو قرار دیا جائے تو بے جا نہیں ہوگا۔
ماحول سے متعلق اسلامی احکامات سے آگہی
اگر مسلمانوں کو ماحول کے تحفظ کے لیے بیدار کرنا ہے، تو دور حاضر کے علمائے اسلام کو چاہیے کہ وہ لوگوں کو ان قرآنی احکامات سے آگاہ کریں جن کا تعلق ماحول کی اہمیت اور تحفظ سے ہے۔ اب دنیا کے مسائل ہزاروں سال پرانی دنیا کے مقابلے میں ، جب کہ صنعتی انقلاب کا نام ونشان تک نہ تھا اور نہ زمین کے وسائل پر اس قدر بار تھا، بہت زیادہ پیچیدہ ہو گئے ہیں۔ ماحول سے متعلق کچھ اسلامی قوانین جو اسلامی تہذیب کے زمانہ عروج میں مرتب کیے گئے تھے، موجودہ دور کے تقاضوں کے لیے ناکافی ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ انسان کے بنائے ہوئے قوانین صرف وقتی تقاضوں کے مطابق ہوتے ہیں مگر قانون قدرت ہر دور کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے۔ قرآن کہتا ہے :
ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِى النَّاسِ لِيُذِيقَهُمْ بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ (الروم : 41)
خشکی اور تری میں فساد بر پا ہو گیا ہے لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے تا کہ مزہ چکھائے اُن کو ان کے بعض اعمال کا ، شاید کہ وہ باز آئیں ۔
مفہوم یہ ہے کہ جب قدرتی وسائل کا غیر اخلاقی اور ناجائز استعمال شروع ہو جاتا ہے تو قدرتی ماحول کی تباہ کاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ مسلم علما اور سائنس دانوں کے لیے ایک بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ قرآنی تعلیمات کی روشنی میں ایسے قوانین وضع کریں جو موجودہ دور کے ماحولیاتی تقاضوں کو پورا کریں اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے سیلاب، خشک سالی اور غربت کے تدارک ، تہذیب و تمدن کے تحفظ اور گرین ہاؤس، تیزابی بارش اور نیوکلیائی تباہ کاریوں کو روکنے میں مؤثر اور کارگر ہو سکیں۔
قرآن کی تعلیم کو مد نظر رکھتے ہوئے انسان اپنی ضروریات کی تکمیل کے لیے دوسری مخلوقات کی جائز ضروریات کو پامال نہیں کر سکتا۔ اپنی حاجات کے حصول کے لیے انسان کا انحصار اس دنیا پر ہے جس کا خالق وہ نہیں، اللہ ہے۔ لہٰذا اس کو تباہ کرنے کا اسے کوئی حق نہیں ہے۔ دنیاوی زندگی کی پیچیدہ راہ میں قدرت کی ایک معمولی شے بھی اہمیت رکھتی ہے۔ صرف اپنے ذاتی مفاد کے لیے قدرت کی چیزوں پر انسان کی ملکیت کا کی پر کی اسلام میں کوئی تصور اور جواز نہیں۔