ماہ شعبان میں مروجہ بدعات
ماہ شعبان میں مروجہ بدعات
یوں تو پندرہویں شعبان کی بہت ساری بدعات ہیں اور صد افسوس کہ دن بدن ان میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے:-
چند ایک مندرجہ ذیل ہیں :-
نصف شعبان کی رات قبرستان کی زیارت
نصف شعبان کی رات بہت سے لوگ قبرستان کی زیارت کرتے ہیں۔ اس رات کے استقبال میں ہمارے بھائی قبرستان کی ٹوٹی پھوٹی قبروں کو سیدھی کرتے ہیں ، چونا گچ کرتے ہیں پھر قبروں پر اگر بتیاں موم بتیاں سلگاتے اور قمقمے سجا کر پورے قبرستان کو منور کرتے ہیں ، حالانکہ جس انسان کی قبر اس کے عقیدہ صحیحہ اور عمل صالح کی روشنی سے منور نہیں اسے اس بجھ جانے والی بناوٹی روشنی سے کیا فائدہ ہوگا؟ تو اس رات لوگ خاص طور پر قبرستان جاتے ہیں اور دلیل کے طور پر ایک روایت پیش کرتے ہیں ،سنن ترمذی میں عائشہ رض سے روایت ہے :
فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَخَرَجْتُ، فَإِذَا هُوَ بِالبَقِيعِ
ایک رات میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پہلو سے غائب پایا ، تلاش کیا تو آپ کو بقیع ( قبرستان ) میں پایا۔ سنن الترمذی : 739، قال الالبانی: ضعیف
یہ روایت نصف شعبان سے متعلق ہے ، اس حدیث کو بنیاد بنا کر پندرہویں شعبان کی رات قبرستان کی صفائی ہوتی ہے، وہاں بجلی و قمقمے لگائے جاتے ہیں اور عورت و مرد ایک ساتھ اس رات قبرستان کی زیارت کرتے ہیں جبکہ مذکورہ حدیث ضعیف ہے۔ اس پر عمل نہیں کیا جائے گا۔ قبروں کی زیارت کبھی بھی مسنون ہے اس کے لئے تاریخ متعین کرنا بدعت ہے اور عورت و مرد کے اختلاط کے ساتھ زیارت کرنا ، قبر پر میلہ ٹھیلہ لگانا بھی بھی جائز نہیں ہے۔
آتش بازی
شعبان میں جس قدر بدعات و خرافات کی انجام دہی پر پیسے خرچ کئے جاتے ہیں اگر اس طرح رمضان المبارک میں صدقہ و خیرات کر دیا جاتا تو بہت سے غریبوں کو راحت نصیب ہوتی اور ذخیرہ آخرت بھی ہو جاتا مگر جسے فضول خرچی یعنی شیطانی کام پسند ہو وہ رمضان کا صدقہ وخیرات کہاں، شعبان میں آتش بازی کو ہی پسند کرے گا ۔ ماہ شعبان شروع ہوتے ہی پٹانے چھوڑ نے شروع ہو جاتے ہیں ذرا تصور کریں اس وقت سے لیکر شعبان بھر میں کس قدر فضول خرچی ہوتی ہوگی ؟ – نصف شعبان کی رات کی پٹاخے بازی کی حد ہی نہیں ، اس سے ہونے والے مالی نقصانات کے علاوہ جسمانی نقصانات اپنی جگہ۔
علامہ عبدالحی لکھنوی فرماتے ہیں :
رجب اور شعبان میں ہونے والے بھی کام ( نماز ، حلوہ، آتشبازی وغیرہ ) بدعات سے ہیں۔ (فتاوی عبدالحی حنفی۱۱۰)
مخصوص پکوان اور روحوں کی آمد
نصف شعبان کی بدعات میں قسم قسم کے کھانے ، حلوے پوری اور نوع بنوع ڈنر تیار کرنا ہے، اسے فقراء و مساکین میں تقسیم کرتے ہیں اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ روحیں آتی ہیں، بایں سبب ان کے لئے فاتحہ خوانی کی جاتی ہے۔ یہ بھی عقیدہ رکھتے ہیں کہ اگر آج حلوہ پوری نہ بنائی جائے تو روحیں دیواریں چاہتی ہیں ۔ کھانا پکانے کے لئے تاریخ متعین کرنا اور متعین تاریخ میں فقراء میں تقسیم کرنا ، اس کھانے پر فاتحہ پڑھنا، فاتحہ شدہ کھانا مردوں کو ایصال ثواب کرنا سب کے سب بدعی امور ہیں ۔ اور یہ جان لیں کہ مرنے کے بعد روح دنیا میں لوٹ کر نہیں آتی ، قرآن میں متعدد آیات وارد ہیں جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے :
كَلَّا إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَائِلُهَا وَمِنْ وَرَائِهِمْ بَرْزَخٌ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ (المومنون: 100)
ہرگز نہیں ، یہ بس ایک بات ہے جو وہ کہہ رہا ہے اب ان سب ( مرنے والوں ) کے پیچھے ایک برزخ حائل ہے دوسری زندگی کے دن تک ۔
شب برات کا تصور
بہت سارے لوگ پندرہویں شعبان کو شب برات کے نام سے موسوم کرتے ہیں حالانکہ پندرہویں شعبان کو شب برات کہنا سراسر غلط ہے، اس بارے میں جو فضائل بیان کئے جاتے ہیں وہ سب ماہ رمضان المبارک میں لیلۃ القدر کے ہیں ، اس رات کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ سال بھر میں جتنے آدمی مرتے اور پیدا ہوتے ہیں اس رات میں لکھے جاتے ہیں ، اس رات میں تمام عالم کی روزی لکھی جاتی ہے، عمریں بڑھائی جاتی ہیں، گناہ بخشے جاتے ہیں اس لئے لوگ اس رات کو جشن منعقد کرتے ہیں رات بھر جاگتے ہیں، خاص قسم کی نماز پڑھتے ہیں اور اس نماز کی فضیلت میں ایک موضوع ومن گھڑت حدیث بھی بیان کرتے ہیں۔
اليلة المبارکہ نصف شعبان کی رات کو نہیں کیا جاتا ہے بلکہ شب قدر کو کہا جاتا ہے ، اللہ کا فرمان ہے:
إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُبَارَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنْذِرِينَ ( الدخان: 3)
یقینا ہم نے اس ( قرآن ) کو بابرکت رات میں نازل کیا ہے کیونکہ ہم ڈرانے والے ہیں۔
اللہ تعالی نے قرآن کو لیلتہ المبارکہ یعنی لیلتہ القدر میں نازل کیا جیسا کہ دوسری جگہ اللہ کا ارشاد ہے :
إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ ( القدر : 1)
ہم نے اس ( قرآن ) کو قدر والی رات میں نازل کیا ہے۔
تقسیم امور یعنی روزی و عمر وغیرہ کی تقسیم بھی شب قدر میں ہی ہوتی ہے نہ کہ نصف شعبان کی رات۔
علماء کرام کے اقوال کی روشنی میں یہ بات واضح ہوگئی کہ رجب کے پہلے جمعہ کی رات یا شعبان کی پندرہویں شب کی فضیلت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رض سے کچھ بھی ثابت نہیں ہے ، تو اس سے پتہ چلا کہ ان دونوں راتوں میں اجتماع و عبادت بدعت ، اسلام میں نئی پیدا کردہ چیز ہے، اسی طرح ستائیسویں رجب جس کے بارے میں بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ اسراء اور معراج کی شب ہے مذکورہ دلائل کی روشنی میں اس رات کو مخصوص عبادتوں کے لئے خاص کرنا اور اس میں جشن منانا جائز نہیں ہے،، اگر چہ یہ معلوم ہو جائے کہ اسراء و معراج کی رات ہے تو چہ جائیکہ یہ رات معلوم ہی ہے کہ یہ رات مہم ، غیر معروف ہے، اور جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ شب معراج ستائیسویں رجب ہے تو ان کا یہ قول باطل ، بے بنیاد ہے، جس کا صحیح احادیث سے کوئی ثبوت نہیں.
ماہ شعبان کی بدعات
پندرہویں شعبان کی رات کو محفلیں منعقد کرنا مسجدوں.
1: میں جمع ہو کر قیام اللیل کرنا اور اجتماعی دعائیں کرنا۔
2:مسجدوں میں مخصوص نماز پڑھنے کیلئے جمع ہونا مثلاً : سورکعتیں ایک ہزار مرتبہ سورہ اخلاص پڑھ کر ادا کرنا۔
3: پندرہویں شعبان کی رات کو مخصوص دعائیں کرنا جیسے اللہم یا ذا المن ولا یمن …. الخ.
4: پندرہویں شعبان کی رات کو خصوصیت کے ساتھ قیام اللیل کرنا اور دن میں روزہ رکھنا۔
5: پندرہویں شعبان کی رات کو قبروں کی زیارت کرنے کیلئے قبرستان جانا۔
6: ماہ شعبان میں مردوں کی روحوں کی طرف سے صدقات و خیرات کرنا۔
7: ماہ شعبان میں ایصال ثواب کی غرض سے قرآن خوانی کروانا۔
8: پندرہویں شعبان سے ایک دو دن پہلے قبروں کو درست کرنا ، لیپنا پوتا۔
9: پندرہویں شعبان کو مختلف قسم کے حلوے پکانا ۔
10: مردوں کی عید سمجھنا، بعض مسلمانوں کا یہ عیقدہ ہ کہ کوئی شخص شب برات سے پہلے مر جائے اور جب تک شب برات میں حلوہ پوری اور چپاتی پر فاتحہ نہ کی جائے وہ مردوں میں شامل نہیں ہوتا ہے۔
11: یہ عقیدہ رکھنا کہ پندرہویں شعبان کو حلوہ وغیرہ نہ بنایا جائے تو مردوں کی روحیں دیواریں چاٹ کر واپس چلی جاتی ہیں۔
12: پندرہویں شعبان کی رات کو اس پر چراغاں روشن کرنا ، پٹانے چلا نا قمقمہ جلانا ، پھول پتیاں چڑھانا، اگر بتیاں جلانا وغیرہ یہ مجوسیوں اور ہندؤں کے رسم ورواج ہیں۔
ان سب برائیوں سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے بس جو اعمال اور انفرادی عبادت شب برات کی احادیث سے ثابت ہے انکے کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔