نظم وضبط اور اس کی بعض معاشرتی صورتیں
نظم وضبط اور اس کی بعض معاشرتی صورتیں
فرد کی زندگی میں نظم
اسلام نے ذاتی زندگی میں بھی صفائی ، خوش لباسی اور ترتیب کی تعلیم دی ہے:
زیب و زینت:
اسلام لوگوں کو گندگی سے بچاتا ہے اور تعلیم دیتا ہے کہ وہ زیب وزینت کا اظہار کریں۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ملاقات کے لیے یا اہم مواقع کے لیے الگ خوبصورت لباس رکھتے اور اسے زیب تن فرماتے۔
صفائی:
دین اسلام اپنے ماننے والوں کو طہارت ، صفائی اور نظافت کا سبق دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں طہارت کا ایک خاص مقام حاصل ہے۔ قریباً تمام عبادات کے لیے طہارت شرط ہے اور یہی نظم ہے۔
اچھا ظاہر:
ہمیں اپنے باطن کے ساتھ اپنے ظاہر کو بھی اچھا بنانا چاہیے ۔ جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
مَنْ كَانَ لَهُ شَعْرٌ، فَلْيُكْرِمْهُ
جس کے پاس بال ہوں تو اسے چاہیئے کہ وہ انہیں اچھی طرح رکھئے۔ سنن ابی داود: 4163، قال الالباني: صحیح
عبادات میں نظم
شریعت اسلامیہ نے تمام عبادات میں نظم وضبط کو ملحوظ رکھا ہے۔
نماز:
صرف نماز پڑھنے کے اوقات کو ہی لے لیجیے۔ نظام صلوۃ با جماعت نماز بھی نظم و ضبط اور اجتماعیت کا و پنج وقتہ درس ہے کہ دن میں پانچ مرتبہ مسلمان مسجد میں جب اکٹھے ہوں تو یہ احساس رہے کہ سارے مسلمان یک جان ہیں، الگ الگ نہیں ہیں اور اس جماعت کی اتنی اہمیت بتائی گئی ہے کہ جنگ کے دوران بھی اس کو ترک کرنے سے گریز کیا گیا۔
إنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَوْقُوتًا (النساء : 103)
بے شک نماز ایمان والوں پر ہمیشہ سے ایسا فرض ہے جس کا وقت مقرر کیا ہوا ہے۔
اور جب نماز کے لیے کھڑے ہو جائیں تو اپنی صفوں کی درستی بھی تنظیم ہی سکھاتی ہے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
سَووا صُفُوفَكُمْ، فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصُّفُوفِ مِنْ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ
اپنی صفوں کو درست کرو، کیونکہ صفوں کی درستگی نماز کی تکمیل کا حصہ ہے۔ صحیح البخاری: 723 ، صحیح مسلم: 433
اور پھر نماز میں نظم قائم رہنے کی صورت بھی بیان فرمائی کہ نظم وضبط امام کی اقتدا میں ہی قائم رہ سکتا ہے۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا
امام اس لیے ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ پس جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو اور جب وہ رکوع میں جائے تو تم بھی رکوع میں جاؤ اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو۔ صحیح البخاری: 378
روزہ:
نظام صوم سال میں ماہ رمضان میں روزے رکھنے کی مشروعیت کی ایک حکمت یہی ہے کہ مالدار آدمی جب پورے دن بھوکا ر ہے تو اس کو احساس ہو کہ غریب اورلاچار لوگ کیسے ساری زندگی ایسے ہی فقر وفاقہ میں گزار دیتے ہیں، شریعت کے مزاج میں یہ بات ہے کہ غریبوں کا احساس کیا جائے ، لا چار و مسکین کا خیال رکھا جائے ، اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب احساس پیدا ہو، اسی احساس کو پیدا کرنے کے لیے شریعت نے روزے کو مشروع قرار دیا، پھر روزے میں اوقات کی تعیین اور دیگر متعلقہ احکام بھی نظم کی افزائش کا باعث ہیں ، گو یا ”صوم بھی اجتماعی نظم کا سبق ہے۔
زکوٰۃ:
نظام زکوۃ اسی طرح زکوۃ کی مشروعیت اس بات کا درس دینے کے لیے ہے کہ مسلمان وہ نہیں جو صرف اپنی دنیا بنانے اور سمیٹنے کی فکر میں لگا ر ہے اور قریب کے دوسرے غریب لوگ فقر وفاقہ میں پڑے رہیں ، اسی بات کا سبق سکھاتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ فَتُرَدُّ فِي فُقَرَائِهِمْ
ان کی دولت مندوں سے زکوۃ لی جائے اور ان کے غریبوں کو دی جائے۔ صحیح مسلم: 19 گو یا زکوۃ ادا کرتے ہوئے بھی مسلمان اجتماعیت کے قیام کی لڑی پرورہا ہوتا ہے۔
حج:
نظام حج جس طرح پنج وقتہ نماز مسلمانوں کو متابعت جماعت کی یاد دہانی کے لیے ہے اور عیدین کا اجتماع بھی اسی یاد دہانی کی کڑی ہے تو بالکل اسی طرح صاحب استطاعت پر زندگی میں ایک مرتبہ حج فرض کر دیئے جانے کی ایک حکمت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ساری دنیا سے مسلمان ایک جگہ جمع ہو جائیں اور اس اجتماع سے مسلمانوں کی یکجہتی کا اظہار ہو۔ حج کی فرضیت میں بھی مخالفت سے اجتناب اور مقارنت جماعت کا پہلو پایا جاتا ہے۔
جہاد:
نظام جہاد اسلامی نظام کی ایک اہم اساس یہ بھی ہے کہ قوموں کے درمیان طاقت کا توازن قائم رہے، ایسا نہ ہو کہ طاقت ور کمزور کو لقمۂ تر بنالے، بلکہ ہر قوم کو اپنے تحفظ ، دفاع اور طاقت کے ناجائز تسلط سے محفوظ رہنے کے لیے طاقت کو یکجا رکھنے اور اس کو نظم و نسق سے استعمال کرنے کے اصول بھی تفصیل سے طاقت یکجا اور اسکو ظلم بتائے ہیں، انہی تفصیلات کا اجمالی عنوان ”جہاد“ ہے۔ جہاد کے لیے تیاری ، صف بندی، عزم وحوصلہ، بندی، عزم و حوصله ثابت قدمی ضعیفوں، کمزوروں، عورتوں اور مذہبی طبقے سے عدم تعرض کے تفصیلی احکام سکھائے ہیں۔ یہ تفصیلات اسلام میں جنگی نظام کے نظم ونسق اور ہمہ جہتی کا مظہر ہیں ۔
وعدوں اور معاہدوں میں نظم
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا (الاسراء: 34)
اور عہد پورا کرو، بے شک عہد کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
حدیث مبارکہ ھے :
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:” آيَةُ النِّفَاقِ ثَلَاثٌ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ”.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نفاق کی تین علامتیں (نشانیاں) ہیں: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے اور جب امین بنایا جائے تو خیانت کرے“۔ [سنن نسائي/حدیث: 5024]
مالی نظم
مال جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو دیا اس میں بھی ایک نظم وضبط کی درس ہے کہ مال کے معاملے میں نہ تو بخل سے کام لیا جائے اور نہ ہی فضول خرچی سے کام لیا جائے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُولَةً إِلَى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطُهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُومًا مَحْسُورًا (الاسراء : 29)
اور نہ اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا کرلے اور نہ اسے کھول دے، پورا کھول دینا، ورنہ ملامت کیا ہوا، تھکا ہارا ہو کر بیٹھ رہے گا۔
سماجی نظم و ضبط
اسلامی ریاست میں فرد کو کھلی آزادی نہیں بلکہ ذمہ دار آزادی دی گئی ہے۔ بدامنی ، قانون شکنی ، اخلاقی انارکی ، اجتماعی بے ترتیبی ، فحاشی، بدامنی ، اور فساد یہ سب اسلامی ریاست میں قابل سزا جرائم ہیں۔ ارشاد باری تعالی ہے:
وَلَا تَبْغ الْفَسَادَ فِي الْأَرْضِ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ (القصص: 77)
اور زمین میں فسادمت ڈھونڈ ، بے شک اللہ فساد کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔
عدالتی و قانونی نظم
عدل کے بغیر نظم ممکن نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ (النحل: 90)
بے شک اللہ تعالیٰ عدل کا حکم دیتا ہے۔
اسلامی ریاست میں سب لوگ ریاستی قوانین کی پابند کرنے والے ہوں، اس قانون کا تعلق کسی بہت اہم معاملہ سے یا ہماری نظر میں اس کی کوئی خاص حیثیت نہ ہو، ہر صورت ہر کسی کے لیے اس کی یا پابندی لازم ہے۔
جنگ اور فوجی نظم
جنگ میں نظم وضبط کامیابی کی کنجی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ (الصف: 4)
بلا شبہ اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں صف باندھ کر لڑتے ہیں، جیسے وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی عمارت ہوں۔
غزوة احد اس کی مثال ہے کہ معمولی سی نظم کی خلاف ورزی اور بے نظمی ظاہری شکست کا سبب بنی۔