وحی اوراسکی اقسام

وحی اوراسکی اقسام

وحی اوراسکی اقسام

وحی کی تعریف

(Revelation) وہ پیغام ہے جو اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق تک اپنے منتخب رسولوں کے ذریعے پہنچاتا ہے۔ وحی کا مقصد اللہ کے احکام و ہدایات کو انسانوں تک پہنچانا اور دین کی بنیادوں کو واضح کرنا ہے۔ قرآن و سنت میں وحی کی مختلف اقسام کا ذکر ملتا ہے۔ یہاں وحی کی اقسام اور ان کا تعارف پیش کیا جا رہا ہے:

1: (وحی متلو )قرآنی وحی

تعریف: یہ وہ وحی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے براہ راست قرآن مجید کی صورت میں نازل فرمایا۔ اسے “متلو” (یعنی تلاوت کیا جانے والا) اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے جو قرآن کی صورت میں موجود ہے اور اس کی تلاوت عبادت ہے۔

مثال: قرآن مجید کی تمام آیات وحی متلو میں شامل ہیں۔ یہ وحی لفظ بلفظ اللہ کا کلام ہے، جو حضرت جبرائیلؑ کے ذریعے نبی اکرم ﷺ پر نازل ہوتی تھی۔

2: وحی غیر متلو ( غیر قرآنی وحی)

تعریف: وحی غیر متلو وہ وحی ہے جو قرآن کا حصہ نہیں ہے، لیکن یہ نبی اکرم ﷺ کو اللہ کی جانب سے مختلف احکام اور رہنمائی کی صورت میں دی گئی۔ یہ احکام رسول اللہ ﷺ کے فرامین اور اعمال میں ظاہر ہوتے ہیں اور اسے “سنت” یا “حدیث” کہا جاتا ہے۔
مثال: حدیث قدسی اور نبی ﷺ کے وہ فرامین و افعال جو قرآن کا حصہ نہیں لیکن وحی کے ذریعے آپ کو دیے گئے۔

3: وحی جلی ( واضح وحی)

تعریف: یہ وہ وحی ہے جو نبی پر براہ راست واضح اور صاف طریقے سے نازل ہوتی ہے۔ اس وحی میں کوئی پردہ نہیں ہوتا اور یہ صاف اور کھلی صورت میں اللہ کا پیغام ہوتا ہے۔
مثال: حضرت جبرائیلؑ کا قرآن مجید لے کر آنا یا اللہ کی طرف سے رسول اللہ ﷺ کے دل میں براہ راست کلام کا القا۔

4: وحی خفی ( پوشیدہ وحی)

تعریف: یہ وہ وحی ہے جو نبی کے دل میں القا کی جاتی ہے، لیکن یہ وحی غیر متلو کی صورت میں ہوتی ہے اور قرآن کا حصہ نہیں ہوتی۔ یہ وحی زیادہ تر نبی کے دل میں القا یا خواب کی صورت میں ہوتی ہے۔
مثال: نبی اکرم ﷺ کے وہ احکامات یا رہنمائی جو خواب کی صورت میں دی گئی، جیسے غزوہ بدر یا ہجرت کا خواب۔

5: وحی بذریعہ خواب

تعریف: انبیاء کو اللہ تعالیٰ بعض اوقات خواب کے ذریعے احکام یا ہدایات دیتے ہیں۔ نبی کا خواب وحی کی ایک قسم ہوتا ہے اور ان کے خواب سچے ہوتے ہیں۔
مثال: حضرت ابراہیمؑ کو خواب میں بیٹے حضرت اسماعیلؑ کی قربانی کا حکم دیا گیا۔ اسی طرح نبی اکرم ﷺ کو بھی کئی اہم احکامات خواب کے ذریعے دیے گئے۔

6: وحی بشری (انسانی واسطے سے)

تعریف: اس قسم کی وحی میں اللہ تعالیٰ کسی فرشتے یا پیغامبر کو واسطہ بناتا ہے تاکہ وہ نبی تک پیغام پہنچا سکے۔ فرشتہ کبھی انسان کی صورت میں ظاہر ہو کر نبی کو پیغام دیتا ہے۔
مثال: حضرت جبرائیلؑ کا نبی اکرم ﷺ کے پاس مختلف صورتوں میں آنا، جیسا کہ انسانی شکل میں صحابی دحیہ کلبی کی صورت میں آنا۔

7: وحی الہامی ( دل میں القاء)

تعریف: وحی الہام وہ وحی ہے جو نبی یا کسی اللہ کے برگزیدہ بندے کے دل میں ڈالی جاتی ہے، لیکن یہ براہ راست شریعت کا حصہ نہیں ہوتی۔ بعض اوقات یہ القا انبیاء کے علاوہ دیگر اولیاء اور صالحین کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔
مثال: حضرت موسیٰؑ کی والدہ کے دل میں ان کو دریا میں ڈالنے کا حکم دیا جانا (سورۃ القصص، 28:7)۔

8: وحی بوسیلہ فرشتہ

تعریف: اللہ کا پیغام براہ راست فرشتے کے ذریعے نبی کو پہنچایا جاتا ہے، جیسا کہ قرآن مجید کی وحی میں حضرت جبرائیلؑ کا کردار ہے۔
مثال: حضرت جبرائیلؑ کا نبی اکرم ﷺ کے پاس قرآن لے کر آنا۔

9: وحی بذریعہ وحی کلامی (اللہ کا براہ راست کلام)

تعریف: یہ وحی اس طرح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ براہ راست نبی سے کلام فرماتا ہے، بغیر کسی واسطے کے۔ یہ وحی کی اعلیٰ ترین قسم ہے۔
مثال: حضرت موسیٰؑ کو اللہ تعالیٰ کا کوہِ طور پر براہ راست کلام فرمانا (اسی وجہ سے حضرت موسیٰؑ کو “کلیم اللہ” کہا جاتا ہے)۔

10: وحی بصورت صلصلۃ الجرس

کا مطلب ہے کہ نبی ﷺ پر وحی نازل ہونے کے دوران ایسی آواز محسوس ہوتی جو گھنٹی کی گونج یا بازگشت جیسی ہوتی۔ یہ کیفیت نبی کریم ﷺ کو وحی کے نزول کے سب سے سخت طریقوں میں سے ایک محسوس ہوتی تھی۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “کبھی وحی گھنٹی کی آواز کی طرح آتی ہے، اور یہ مجھ پر سب سے زیادہ سخت ہوتی ہے۔ پھر جب یہ ختم ہوتی ہے، تو میں اسے یاد کر چکا ہوتا ہوں۔”
(صحیح بخاری، حدیث نمبر: 2)
اس طرح کی وحی میں نبی ﷺ پر شدید دباؤ محسوس ہوتا تھا، اور آپ ﷺ کا جسمانی طور پر بھی متاثر ہونا ذکر کیا گیا ہے، جیسے پسینہ بہنا، سرد موسم میں بھی جسم پر پسینہ آ جانا، یا آپ ﷺ کا وزن زیادہ محسوس ہونا۔ یہ طریقہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک خاص حکمت کے تحت تھا، تاکہ وحی کی اہمیت اور گہرائی نبی ﷺ پر واضح ہو اور پیغام مکمل طور پر محفوظ رہے۔ یہ تمام اقسام وحی کی مختلف شکلوں کی وضاحت کرتی ہیں، جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں تک اپنے پیغام کو پہنچانے کے لیے استعمال کیں۔ وحی کی ان مختلف اقسام کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی رہنمائی کی اور دین اسلام کی تکمیل کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں