کردار سازی اور اسکے اصول

کردار سازی اور اسکے اصول

کردار سازی اور اسکے اصول

اللہ تعالیٰ نے انسان کو تعلیمی صلاحیتوں کی بنیاد پر فرشتوں پر برتری عطا کی اور فرشتوں نے آدم علیہ السلام کے سامنے سجدہ ریز ہو کر اس برتری کو عملی طور پر تسلیم کر لیا۔ ساتھ میں تسخیر کا ئنات کی قدرتی صلاحیت دے کر انسان کو دیگر مخلوقات سے جدا کر دیا اور یوں اسے ایک باعزت اور با کرامت مخلوق کے طور پر بھی روئے زمین پر بھیجا گیا۔ ارشاد باری ہے:

وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلًا ( الاسراء: 70)

اور بلاشبہ یقینا ہم نے آدم کی اولاد کو بہت عزت بخشی اور انھیں خشکی اور سمندر میں سوار کیا اور انھیں پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا اور ہم نے جو مخلوق پیدا کی اس میں سے بہت سوں پر انھیں فضیلت دی، بڑی فضیلت دینا۔
اس آیت کریمہ کے مطابق پوری کی پوری انسانیت ، تکریم وعزت کی حامل ہے۔ کیونکہ یہ ایسی کرامت ہے جو انسان کا لازمی جز ہے۔ وہ نیک ہو یا بد، مومن ہو یا کا فرسب میں یکساں پائی جاتی ہے ۔ اس لیے تو قرآن نے یہ نہیں فرمایا کہ ہم نے مومنوں کو کرامت عطا کی ہے بلکہ فرمایا اولاد آدم کو کرامت عطا کی ہے۔ کیونکہ یہ اس عظمت و بلندی کا ذکر ہے جس کے تحت وہ اس کائنات کی خشکی اور تری پر تسلط حاصل کرتا ہے اور پاکیزہ چیزوں کو اپنے استعمال میں لاتا ہے۔۔

نکتہ

اس کرامت ہی سے انسان کی ذمہ داری پر استدلال کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ جتنی انسان کو دیگر مخلوقات پر برتری حاصل ہوگی منطقی طور پر اسی تناسب سے اس کی ذمہ داریوں میں بھی اضافہ ہوگا۔
سیکھنے اور سمجھنے کا یہ عمل انسان کو آگے کی طرف لے جاتا ہے۔ انسان اس کا ئنات میں بہت کچھ سیکھ سکتا ہے، بہت کچھ حاصل کر سکتا ہے۔ بہت کچھ کما سکتا ہے۔ یہی زندگی کی کمائی اس کی انسانیت کا پیمانہ متعین کرتی ہے۔ اور یوں وہ کبھی ” راضیہ “مرضیہ ” کا مصداق بن جاتا ہے، تو کبھی حیوانیت کی حدیں کراس کر جانے کے باعث ” کا الانعام بل هم اضل” بن جاتا ہے۔ قرآن کہتا ہے :

كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ

ہر شخص اپنے اعمال کا گروی ہے۔
تو ماننا پڑے گا کہ انسان کی تعمیر شخصیت اس کے کردار سے جڑی ہے۔ کردار ہی انسان کو حسین بناتا ہے اور کردار ہی انسان کو ذلیل بناتا ہے۔

کردار سازی کے چند اصول

چند ایسے اصول جن سے بلند کرداری کے راستے کھلتے ہیں۔ انسان ان اصولوں کی روشنی میں اپنی شخصیت کی تعمیر کر کے کمال کی راہوں پر گامزن ہو سکتا ہے۔

ذات باری تعالی پر ایمان

اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔

اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ( النور : 35)

وہ اپنے ماننے والوں کو جہالت و گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی دیتا۔ ہے :

اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ (البقرة: 257)

ایمان لانے والوں کا کارساز اللہ تعالیٰ خود ہے، وہ انہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لے جاتا ہے۔
اس لیے تعمیر شخصیت کی اولین ضرورت ذات باری تعالیٰ پر قلبی اعتقاد اور دل سے اس کے وجود کو تسلیم کرنا ہے۔ یعنی انسان اس بات کو اپنے دل میں جگہ دے کہ یہ عظیم کائنات اور اس میں موجود مخلوقات کا ایک اور خالق ہے کہ جس نے اس کا ئنات کو خاص نظم کے ساتھ مخصوص اہداف کے لیے تخلیق فرمایا ہے۔

وَ مَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَ الۡاِنۡسَ اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡنِ

اور میں نے جنات اور انسانوں کو اس کے سوا کسی اور کام کے لیے پیدا نہیں کیا کہ وہ میری عبادت کریں۔ سورہ الذّٰریٰت آیت نمبر 56

موت کی یاد

قرآن کریم نے کئی مقامات پر موت کی یاد دلائی ہے ، سورہ واقعہ میں اس کا تذکرہ کچھ اس انداز میں ہے:

فَلَوْلَا إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ وَأَنْتُمْ حِينَئِذٍ تَنْظُرُونَ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْكُمْ وَلَكِنْ لَا تُبْصِرُونَ فَلَوْلَا إِنْ كُنْتُمْ غَيْرَ مَدِينِينَ تَرْجِعُونَهَا إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ (سورة الواقعه : 83 تا (87)

پس جبکہ روح نرخرے تک پہنچ جائے ۔ اور تم اس وقت آنکھوں سے دیکھتے رہو ہم اس شخص سے بہ نسبت تمہارے بہت زیادہ قریب ہوتے ہیں لیکن تم دیکھ نہیں سکتے ۔ پس اگر تم کسی کے زیر فرمان نہیں۔ اور اس قول میں سچے ہو تو ( ذرا ) اس روح کو تو لوٹاؤ۔
ان آیات میں جہاں انسان کو موت کی یاد دلائی گئی ہے، وہیں اس بے بسی کا تذکرہ بھی ہے جو انسان موت کی نسبت رکھتا ہے۔ آج ٹیکنالوجی کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی موت اتنی ہی نا قابل تسخیر حقیقت ہے، جتنی اس سے قبل تھی۔ اس حقیقت کا سامنا کیسے کرنا ہے؟ اہل ایمان کے لیے موت ایک عظیم کامیابی ہے، جبکہ اہل کفر و الحاد کے لیے ایک بھیانک خواب ۔
سید نا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رات کا تہائی حصہ گزر جاتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے اور فرماتے :

يَا أَيُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوا اللَّهَ اذْكُرُوا اللَّهَ جَاءَتِ الرَّاجِفَةُ تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ جَاءَ المَوْتُ بِمَا فِيهِ جَاءَ الْمَوْتُ بِمَا فِيهِ

اے لوگو! اللہ تعالیٰ کو یاد کرو، اے لوگو! اللہ تعالیٰ کو یاد کرو ( قیامت کا پہلا نفخہ آچکا ، دوسرا نفخہ اس کے تابع ہوگا ، موت اپنی ہولنا کیوں سمیت آ پہنچی ، موت اپنی سختیوں سمیت آچکی۔ سنن الترمذى: 2457

موت و آخرت کو یاد کرنے کا کوئی بھی طریقہ ہو سکتا ہے، بھلے وہ قبرستان کی زیارت ہی کیوں نہ ہو ، جیسا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ ، فَزُورُوهَا ، فَإِنَّهَا تُزَهِدُ فِي الدُّنْيَا، وَتُذَكَّرُ الْآخِرَةَ

میں تمہیں زیارت قبور سے منع کیا کرتا تھا، اب زیارت کیا کرو کیونکہ یہ دنیا میں زاہد بناتی ہے ( دنیا کی دولت سے بے رغبتی پیدا کرتی ہے ) اور آخرت کی یاد دلاتی ہے۔ سنن ابن ماجه: 1571

فکر آخرت

قرآن حکیم نے تقریبا ۱۴۰۰ کے قریب مقامات پر قیامت کا تذکرہ کیا ہے، حالانکہ فقہ اور انسانی زندگی کے احکام سے متعلقہ آیات کی تعداد مشہور قول کی بناء پر سات سو سے آگے نہیں بڑھتی ۔ اس کی ایک وجہ تو خود زمانہ جاہلیت کا عرب معاشرہ بھی ہو سکتا ہے جو قیامت پر اعتقاد نہیں رکھتا تھا بلکہ اسے ناممکن سمجھتا تھا لیکن دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ انسان کے اندر قیامت کا اعتقاد راسخ کرانا اتنا آسان امر نہیں ہے، تیسری بات یہ ہے کہ اخروی زندگی کا تصور د نیاوی زندگی کی کیفیت پر بہت ہی گہرا اثر چھوڑتا ہے۔

ہم میں سے بہت سے لوگ روز عالم آخرت پر اس طرح سے یقین و ایمان نہیں رکھتے جس طرح رکھنا چاہیے ورنہ کون ہے جو یقین کر لے کہ دوزخ کی آگ کا وجود ہے پھر بھی گناہوں پر اصرار کرے؟ جہنم کے شعلوں کی تپش محسوس کر رہا ہو اور پھر بھی اسی میں کو درہا ہو؟ اس کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی سوائے اس کے کہ وہ اس بات کا یقین پیدا نہیں کر سکا کہ اسے ایک دن خدا کے حضور جواب دینا ہے۔

قرآن کریم نے مختلف انداز میں عالم آخرت کا تذکرہ کیا ہے۔ کبھی حساب کی منظر کشی کر رہا ہے، تو کبھی نامہ اعمال ہاتھ میں تھمائے جانے کی بات بھی قبروں سے نکلنے کا تذکرہ تو کبھی شفاعت قبول ہونے یا نہ ہونے کی بات کبھی جہنمیوں کی حسرتوں کا ذکر تو کبھی جنت والوں کی بے انتہا خوشیوں کا تذکرہ۔ یہ سب اپنی جگہ لیکن جس بات کو قرآن نے بہت زیادہ اہمیت دی ہے وہ یہ کہ اس سوال کے جواب کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ آیا قیامت نے ایک دن واقع بھی ہونا ہے یا نہیں ۔

سید نا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مَنْ كَانَتِ الدُّنْيَا هَمَّهُ، فَرَّقَ اللَّهُ عَلَيْهِ أَمْرَهُ، وَجَعَلَ فَقْرَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ، وَلَمْ يَأْتِهِ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا مَا كُتِبَ لَهُ، وَمَنْ كَانَتِ الْآخِرَةُ نِيَّتَهُ، جَمَعَ اللَّهُ لَهُ أَمْرَهُ، وَجَعَلَ غِنَاهُ فِي قَلْبِهِ، وَأَتَتْهُ الدُّنْيَا وَهِيَ رَاغمَةٌ”

جو شخص ہمیشہ دنیا کی فکر میں مبتلا رہے گا اور دین کی پرواہ نہ کرے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کے تمام کام پریشان کر دے گا اور اس کی مفلسی ہمیشہ اس کے سامنے رہے گی اور دنیا اتنی ہی ملے گی جتنی اس کی تقدیر میں لکھی ہے اور جس کی نیت آخرت کی جانب ہوگی تو اللہ تعالیٰ اس کی دلجمعی کے لیے اُس کے تمام کام درست فرمادے گا اور اس کے دل میں دنیا کی بے پروائی ڈال دے گا اور دنیا اس کے پاس خود بخود آئے گی ۔ سنن ابن ماجه: 4105
انسان کو چاہیے کہ ہمیشہ زندگی اس انداز سے گزاریئے کہ آج اس دنیا میں جو کچھ بھی کروں گا، کل کو اللہ کی عدالت میں کھڑے ہو کر اس کا حساب دینا ہے۔ :

رہا یہ سوال کہ قیامت پر یقین کا انسان کی شخصیت سازی سے کیا تعلق ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ انسان ن کی طبیعت میں طغیان ہے یعنی جو نہی وہ آسانی اور بے نیازی محسوس کرتا ہے طغیان پر اتر آتا ہے۔ تھوڑا سا مال کیا ہاتھ آیا غرور نے ڈیرے جما لیے۔ کرسی ، مقام و منصب ، عزت و شہرت وغیرہ سب مختلف عوامل ہیں جو انسان کو غلط راستے پر چلانے کے بہانے ہاتھ میں دے سکتے ہیں۔ کہیں رشوت کی بازی لگی ، کہیں سود خوری شروع ہوئی تو کہیں بے جا سفارش کا سلسلہ؛ یہ سب طغیان ہی کے چہرے ہیں ۔ یہ اس لیے وجود میں آیا کہ وہ بھول گیا کہ ایک دن یہ چیزیں ہاتھ سے جا بھی سکتی ہیں اور وہ یہ بھی بھول گیا کہ ایک دن ان سب نعمتوں کا جواب بھی دینا ہے ۔ وہ لاشعوری طور پر یہ خیال کر لیتا ہے کہ یہ تو اب ہمیشہ میرے پاس رہیں گی۔

اس کا علاج خود قرآن نے یہی تجویز کیا ہے کہ اسے عالم آخرت کی یاد دلاتا ہے۔ اسے اس نکتہ کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ ایک اور دنیا ہے جس کی طرف پلٹنا ہے۔ قرآن نے جہاں انسانی طغیان کا ذکر کیا ہے اس کے بعد بلا فاصلہ قیامت کا تذکرہ کیا۔ ارشاد ہوتا ہے :

كَلَّا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَيَطْغَى أَنْ رَآهُ اسْتَغْنَى (سورة العلق : 7،6)

انسان تو یقینا سرکشی کرتا ہے۔ اس بنا پر کہ وہ اپنے آپ کو بے نیاز خیال کرتا ہے۔
پھر اس کے فورا بعد فرماتا ہے :

إِنَّ إِلَى رَبِّكَ الرُّجْعَى (سورة العلق : 8)

یقینا آپ کے رب کی طرف ہی پلٹنا ہے۔
یعنی طغیان اور سرکشی کرنے والے انسان جان لیں کہ انہیں ایک دن اپنے رب اور خالق کی طرف پلٹنا ہے۔ اگر وہ اپنی زندگی میں اس بات کی طرف توجہ دیں اور قیامت کے دن کو یا درکھیں تو اس طغیان تک نوبت ہی نہ پہنچے گی اور یہاں سے ان کی فلاح و بہبود کا سفر شروع ہو جائے گا اور وہ کمال کی راہوں پر گامزن ہونگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں