رمضان المبارک میں آسانی کے پہلو

رمضان المبارک میں آسانی کے پہلو

رمضان المبارک میں آسانی کے پہلو

اللہ تعالی کا مقصد بندوں کو عبادات کے ذریعے مشقت میں ڈالنا نہیں ہے۔ بلکہ آسانی اور تخفیف دین اسلام کے محاسن میں سے ہے اور مقاصد شریعت بھی۔ دیگر عبادات کی طرح خاص طور پر روزے میں بھی اللہ تعالی نے اپنے بندوں سے آسانی کا ارادہ کیا ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے۔

فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ وَ مَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [البقرة : 185]

جو شخص اس مہینے کو پائے ، اُس پر لازم ہے کہ اس پورے مہینے کے روزے رکھے۔ اور جو کوئی مریض ہو یا سفر پر ہو ، تو وہ دوسرے دنوں میں تعداد پوری کرے ۔ اللہ تمہارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے سختی کرنا نہیں چاہتا۔
امام مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں لفظ الیسر حالت سفر میں روزہ چھوڑنے کی رخصت ، آسانی اور نرمی پر دلالت کرتا ہے۔ لفظ الیسر کے عموم سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دین اسلام کے تمام امور میں آسانی ہے۔ اللہ تعالی نے اس بات کی وضاحت بھی کی ہے کہ میں نے تمہیں حالت بیماری اور سفر میں روزہ چھوڑنے کی رخصت دی ہے اور تمہیں بعد میں روزوں کی قضائی دینے کا حکم دیا ہے، تاکہ تم آسانی میں رہو۔ سیدنا معاذ بن جبل اور ابوموسی اشعری رضی الله عنہما کو جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا:

يَسْرًا وَلَا تُعَسِّرًا، وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفَرَا

آسانی پیدا کرنا سختی پیدا نہ کرنا، خوشخبری دینا نفرت نا پھیلانا

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ فرماتے ہیں ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے ۔ آپ کے سر مبارک سے وضو یا غسل کرنے کی وجہ سے پانی کے قطرے گر رہے تھے۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو لوگ آپ سے سوال کرنے لگے کہ کیا اس میں ہمارے اوپر کوئی حرج ( تنگی ) ہے۔؟
آپ نے فرمایا:

إِنَّ فی دِين اللَّهِ يُسْرا

بلا شبہ اللہ کے دین میں آسانی ہے۔ یہ بات آپ نے تین مرتبہ کہی ۔“ [حسن] مسند أبو يعلى : 6863
یسر کا لفظ مدد اور سہولت کے معنی میں بھی آتا ہے۔ بائیں ہاتھ کو بھی یسری کہتے ہیں۔ کیونکہ کوئی بھی کام کرنے میں دایاں ہاتھ معاونت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ایسے احکام نہیں دیتا جو ان کی طاقت سے باہر ہوں۔ ہمیں قرآن پاک کی نصوص سے معلوم ہوتا ہے، دین نہایت آسان ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے:

وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ [ الحج : 78]

دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی ۔

لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا [البقره :286 ]

اللہ کسی جان کو تکلیف نہیں دیتا مگر اس کی گنجائش کے مطابق ۔

أَنْ يُخَفِّفَ عَنْكُمْ [النساء : 28]

3/6 لہ تم سے بوجھ ہلکا کرے۔

مَا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَى [طه:2]

ہم نے تجھ پر یہ قرآن اس لیے نازل نہیں کیا کہ تو مصیبت میں پڑ جائے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ۔ میرے پاس ایک عورت بیٹھی ہوئی تھی۔ آپ نے پوچھا یہ کون ہے۔؟ میں نے کہا یہ فلاں عورت ہے اور ساتھ ہی اس کی نماز کی پابندی کا ذکر کیا۔
آپ نے فرمایا:

مَهُ عَلَيْكُمْ بِمَا تُطِيقُونَ ، فَوَاللَّهِ لَا يَمَلُّ اللهُ حَتَّى تَمَلُّوا ، وَكَانَ أَحَبَّ الدِّينِ إِلَيْهِ مَا دام

رک جاؤ! تم اپنے ذمے صرف وہی کام لو جو ( ہمیشہ ) کر سکتے ہو۔ اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ ثواب دینے سے نہیں اکتاتا، تم ہی عبادت کرنے سے تھک جاؤ گے۔ اور اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب، اطاعت کا وہ کام ہے جس کا کرنے والا اس پر پیشگی کرے۔“ صحيح البخاری : 43

سید نا حنظلہ الاسدی بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ مجھے ملے اور فرمایا: اے حنظلہ تیرا کیا حال ہے؟ میں نے کہا ، حنظلہ منافق ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا ، سبحان اللہ ! آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ میں نے کہا ، ہم رسول اللہ الے اعلی ایم کے پاس ہوتے ہیں ، آپ ہمیں جنت و جہنم کے بارے بتاتے ہیں تو ( ایمان کی زیادت کی وجہ سے ) گویا ہم (یہ سب کچھ ) آنکھوں سے دیکھ رہے ہوتے ہیں، لیکن جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے نکل آتے ہیں تو بیویوں ، اولادوں اور مال و دولت میں مگن ہو جاتے ہیں تو بہت کچھ بھول جاتے ہیں ، ابوبکر ہی اللہ فرمانے لگے ، اللہ کی قسم ! ہمیں ایسی صورت حال سے سابقہ پڑتا ہے، چنانچہ میں اور ابو بکر بنی اللہ چلے حتی کہ رسول اللہ سے علیکم کی خدمت میں حاضر ہو گئے میں نے عرض کی ، اے اللہ کے رسول !حنظلہ منافق ہو گیا ہے۔ آپ نے فرمایا، کیا معاملہ ہے؟ میں نے عرض کی ، ہم آپ کے پاس ہوتے ہیں ، آپ ہمیں جنت و جہنم یاد دلاتے ہیں تو گویا ہم آنکھوں سے دیکھ رہے ہوتے ہیں لیکن جب ہم آپ کے پاس سے نکل آتے ہیں تو اپنی بیویوں اولادوں اور مال و دولت میں مگن ہو جاتے ہیں تو بہت کچھ بھول جاتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

الَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنْ لَوْ تَدُومُونَ عَلَى مَا تَكُونُونَ عِنْدِي وَفِي الذِّكْرِ لَصَافَحَتْكُمْ الْمَلَائِكَةُ عَلَى فُرُشِكُمْ وَفِي طُرُقِكُمْ وَلَكِنْ يَا حَنْظَلَةُ سَاعَةً وَسَاعَةً ثَلَاثَ مَرَّات

اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔ اگر تم اسی حالت پر رہو جس پر تم میرے پاس ہوتے ہو اور ( ہر وقت ) ذکر کرتے رہو تو تمہارے بستروں اور راستوں پر فرشتے تمہارے ساتھ مصافحہ کریں ، لیکن اے حنظلہ کبھی (ایمان زیادہ ہوتا ہے ) اور کبھی ( ایمان کم ہوتا ہے )، یہ بات آپ نے تین مرتبہ فرمائی ۔2750 :مسلم

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر اپنے صحابہ کرام رض کو نرمی اختیار کرنے کا حکم دیتے مشقت والے امور سے منع کرتے۔ سیدنا ابو مسعود الانصاری رضی اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا میں فلاں امام کی وجہ سے ، جو ہمیں لمبی نماز پڑھاتا ہے صبح کی نماز میں دیر سے آتا ہوں ۔ سیدنا ابو مسعود رضی اللہ فرماتے ہیں کہ اس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اتنے غصہ ہوئے کہ اس سے پہلے میں نے کبھی آپ کو غصہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ آپ نےفرمایا:

يا أيها الناس ، إنَّ منكم مُنَفِّرِين؛ فأيكم ما صلى بالناس فليوجز ، فإنَّ فيهم الكبير والضعيف وذا الحاجة

”اے لوگو! تم میں سے کچھ لوگ نفرت پھیلانے والے ہیں۔ تم میں سے کوئی بھی لوگوں کو نماز پڑھے تو اسے چاہیے کہ وہ اختصار کرے کیونکہ ان میں بڑھے، کمزور اور ضرورت مند ہوتے ہیں ۔مسلم : 466

عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما، قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا عبد اللہ ، ألم أخبر أنك تصوم النهار، وتقوم الليل؟ ، فقلت: بلى يا رسول اللہ قال: «فلا تفعل صم وأفطر، وقم ونم، فإن لجسدك عليك حقا، وإن لعينك عليك حقا، وإن لزوجك عليك حقا، وإن لزورك عليك حقا،

ایسا نہ کرو روزہ رکھو اور چھوڑ بھی دو قیام کرو اور سو بھی جاؤ ۔ بلا شبہ شک تیرے جسم کا تیرے اوپر حق ہے، تیری آنکھوں کا تیرے اوپر حق ہے، تیری بیوی کا تیرے اوپر حق ہے اور تیری اولاد کا تیرے اوپر حق ہے۔ صحيح البخاری:1975

اپنا تبصرہ بھیجیں