شب برات قرآن وسنت کی روشنی میں

شب برات قرآن وسنت کی روشنی میں

شب برات قرآن وسنت کی روشنی میں

اللہ تعالی نے فرمایا:

الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا (المائدة : 3)

آج میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنا انعام پورا کر دیا، اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضا مند ہو گیا۔
ایک دوسرے مقام پر اللہ عز وجل نے فرمایا:

أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُمْ مِنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَنْ بِهِ اللَّهُ (الشورى:21)

کیا ان لوگوں نے اللہ کے لئے ایسے شریک مقرر کر “ رکھے ہیں جنہوں نے ان کے لئے ایسے دینی احکام مقرر کر دیئے ہیں جو اللہ تعالی کے فرمائے ہوئے نہیں ہیں۔
سیدناعائشہ رض سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ فِيهِ، فَهُوَ رَدُّ

جس نے ہمارے دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی جس کا تعلق دین سے نہیں ہے تو وہ مردود ہے(صحیح البخاری : ۲۶۹۷)

سیدنا جابر بن عبد اللہ رض سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خطبہ جمعہ میں فرمایا کرتے تھے:

أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ خَيْرَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللهِ، وَخَيْرُ الْهُدَى هُدَى مُحَمَّدٍ، وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ

اما بعد : یقینا بہترین بات اللہ کی کلام ہے اور بہترین راستہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا راستہ ہے اور بدترین امور اس کی بدعات ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ صحیح مسلم: 867
مذکورہ بالا اس مضمون کی دیگر آیات واحادیث سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالی نے اس امت کے لیے دین کو مکمل فرمادیا اور اسپر اپنی نعمت پوری کر دی اور اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت وفات دی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دین کو پورے طور پر پہنچادیا اور اس امت کے لیے اللہ کی جانب سے مشروع ہو قول و فعل کو واضح کر دیا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی واضح فرمادیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو قول و عمل بھی لوگ گھڑ کر اسلام کی جانب منسوب کریں گے، وہ سب بدعت کے زمرے میں ہوگا ، اگر چہ گھڑنے والے کی نیت کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام اور ان کے بعد کے علماء اسلام نے بدعات کی قباحت اور سنگینی کومحسوس کیا اس لئے وہ بدعات کا انکار کرتے اور ان سے ڈراتے رہے۔ جیسا کہ تعظیم سنت اور انکار بدعت کے موضوع پر مصنفین کرام نے سختی کے ساتھ بدعات کی مذمت کی ہے۔
انہی نو ایجاد کردہ بدعات میں شب برات کی بدعت بھی ہے جو شعبان کی پندرہویں شب منعقد کی جاتی ہے، جس کی شب میں لوگ جشن مناتے ہیں اور دن میں روزے رکھتے ہیں جبکہ اس بارے میں کوئی قابل اعتماد دلیل نہیں ہے اور اس شب کی فضیلت اور اس میں نوافل کے اہتمام کے بارے میں وارد احادیث یا تو ضعیف اور یا پھر موضوع ہیں ، جیسا کہ بیشتر اہل علم نے لوگوں کو اس سے آگاہ کیا ہے۔

شب برات کی فضیلت سے متعلق دلائل

چونکہ شب بارات کی فضیلت کے حوالے سے کوئی بھی صحیح روایت نہیں، تاہم اس حوالے سے کافی روایات ضعیف ہیں، ان میں سے چند ایک کا مع تجزیہ مختصر تذکرہ :

پہلی دلیل :

ارشاد باری تعالی ہے:

إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُبَارَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنْذِرِينَ فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ (الدخان:4_3) :

بے شک ہم نے اسے برکت والی رات میں اتا را بیشک ہم ڈر سنانے والے ہیں۔ اس میں بانٹ دیا جاتا ہے ہر حکمت والا کام۔
مجموعی طور پر ان آیات سے یہ بات بخوبی سمجھ میں آجاتی ہے کہ وہ مبارک رات جو زیر تفسیر آیت میں ذکر ہوتی ہے، شب قدر ہے جو ماہ رمضان المبارک میں ہے۔
مولانا اشرف علی تھانوی صاحب اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے رقمطراز ہیں :
و بعض نے لیلۃ مبارکہ کی تفسیر شب برات سے کی ہے کیونکہ اس کی نسبت بھی یہ آیا ہے کہ اس میں سالانہ واقعات کا فیصلہ ہوتا ہے لیکن چونکہ کسی روایت سے قرآن کا اس میں نازل ہونا معلوم نہیں ہوا اور شب قدر میں نازل ہونا خود قرآن میں مذکور ہے۔“
(تفسیر بیان القرآن صفحه (1026)
سید ابوالاعلی مودودی اسی آیت کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
یہ رمضان کی وہی رات ہے جسے لیلتہ القدر کہا گیا ہے”
تفهيم القرآن صفحه (560)
حافظ صلاح الدین یوسف صاحب کی تفسیر میں اس آیت کی تفسیر یہ بیان کی گئی ہے :
قرآن پاک کا نزول شب قدر میں ثابت ہے تو اس سے شب برات مراد لینا کسی طرح بھی صحیح نہیں۔

دوسری دلیل :

سیدہ عائشہ صدیقہ رض سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْزِلُ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَغْفِرُ لِأَكْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعْرِ غَنَم كَلْبٍ

اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرھویں رات کو آسمان دنیا پر اترتے ہیں اور بنو کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ تعداد میں لوگوں کی مغفرت فرماتے ہیں۔

امام ترمذی فرماتے ہیں کہ :

حَدِيثُ عَائِشَةَ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ الحَجَّاجِ، وَسَمِعْتُ مُحَمَّدًا يُضَعِفُ هَذَا الحَدِيثَ، وَقَالَ : يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ لَمْ يَسْمَعُ مِنْ عُرْوَةَ، وَالحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ

عائشہ رض کی اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، اور میں نے امام بخاری رح سے سنا ہے کہ وہ اس حدیث کو ضعیف کہتے ہیں۔ امام بخاری رح فرماتے ہیں کہ یحیی بن کثیر نے عروہ سے اور حجاج نے یحیی بن کثیر سے کوئی حدیث نہیں سنی۔ ( یعنی ان کی ملاقات ثابت نہیں )(سنن الترمذى: 739)

اس حدیث کا ضعف امام ترمذی نے خود ہی بیان فرما دیا ہے، باقی بھی تمام ماہرین فن نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔

تیسری دلیل :

سید نا علی رض سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَقُومُوا لَيْلَهَا وَصُومُوا نَهَارَهَا، فَإِنَّ اللَّهَ يَنْزِلُ فِيهَا لِغُرُوبِ الشَّمْسِ إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَقُولُ : أَلَا مِنْ مُسْتَغْفِرٍ لِي فَأَغْفِرَ لَهُ أَلَا مُسْتَرْزِقٌ فَأَرْزُقَهُ أَلَا مُبْتَلًى فَأَعَافِيَهُ أَلَا كَذَا أَلَا كَذَا، حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ (سنن ابن ماجه باب ما جاء في ليلة النصف من شعبان)

جب نصف شعبان کی رات آئے تو اس رات کو قیام کرو اور دن کو روزہ رکھو، اس رات اللہ تعالی سورج کے غروب ہوتے ہی پہلے آسمان پر نزول فرما لیتا ہے اور صبح صادق طلوع ہونے تک کہتا رہتا ہے: کیا کوئی مجھ سے بخشش مانگنے والا ہے کہ میں اسے معاف کر دوں؟ کیا کوئی رزق طلب کرنے والا ہے کہ اسے رزق دوں؟ کیا کوئی (کسی بیماری) میں مبتلا ہے کہ میں اسے عافیت عطا فر مادوں؟۔

یہ حدیث سخت ضعیف ہے۔ اس میں ایک راوی ابن ابی سبرہ ہے جس کہ بارے میں امام احمد بن حنبل اور یحیی بن معین کہتے ہیں کہ یہ احادیث گھڑتا تھا ، ابن مدینی اور امام بخاری رحمہ اللہ اسے منکر الحدیث لکھتے ہیں اور امام نسائی اسے متروک کہتے ہیں۔

چوتھی دلیل :

سید نا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ نے رسول اللہ صلی علیم سے روایت بیان کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

إِنَّ اللَّهَ لَيَطَّلِعُ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لِجَمِيعِ خَلْقِهِ إِلَّا لِمُشْرِكٍ أَوْ مُشَاحِنٍ. (سنن ابن ماجه باب ما جاء في ليلة النصف من شعبان)

اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات اپنے بندوں پر ) نظر فرماتا ہے، پھر مشرک اور (مسلمان بھائی سے دشمنی رکھنے والے کے سوا ساری مخلوق کی مغفرت فرما دیتا ہے۔
اس حدیث کا ایک راوی عبد الرحمن بن عزرب مجہول ( جس کے حالات کا علم نہ ہو ) ہے۔
اور دوسرا راوی الضحاک بن ایمن بھی مجہول ہے۔
(تقریب صفحه (590)

پھر بعض علماء نصفِ شعبان کی فضیلت کیوں بیان کرتے ہیں؟

یہاں ایک اہم اصولِ حدیث آتا ہے:
ضعیف حدیث اگر:
1. شدید ضعف والی نہ ہو
2. متعدد طرق (routes) سے مروی ہو
3. کسی صحیح اصول کے خلاف نہ ہو
تو وہ فضائلِ اعمال میں قابلِ قبول سمجھی جاتی ہے۔
اسی بنیاد پر بعض محدثین نے کہا کہ:
مجموعی طور پر نصفِ شعبان کی رات کی ایک اصل (basis) بنتی ہے، اگرچہ ہر روایت اکیلے قابلِ احتجاج نہیں۔

شب برات آئمہ، اسلاف کی نظر میں

علامہ شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن حبان کی حدیث جو سید نا علی رض سے مروی ہے کہ جب شعبان کی پندرہویں شب ہو تو رات میں نمازیں پڑھو اور دن میں روزہ رکھو ) ضعیف ہے۔

علامہ شوکانی رح مزید فرماتے ہیں :
مسند دیلمی وغیرہ میں وارد یہ روایت شعبان کی پندرہویں شب کو سو رکعت نماز پڑھنا اور اس کی ہر رکعت میں سورہ اخلاص دس مرتبہ پڑھنا اپنے بے شمار فضائل کے ساتھ موضوع ہے، یہ حدیث تین سندوں سے وارد ہوئی ہے اور تینوں ہی سندوں میں اس کے بیشتر راوی مجہول الحال اور ضعیف ہیں ، اسی طرح بارہ رکعت میں تیس مرتبہ سورہ اخلاص پڑھنے والی روایت موضوع ہے، اور جس روایت میں چودہ مرتبہ پڑھنے کا ذکر ہے وہ بھی موضوع ہے۔

المختصر للشوكانی
امام نووی رحمه الله :
اپنی کتاب (المجموع ) میں لکھتے ہیں :
وہ نماز جو صلاة الرغائب کے نام سے مشہور ہے جو رجب کی پہلی جمعرات کو مغرب اور عشاء کے در میان بارہ رکعت اور اسی طرح پندرہویں شعبان کی نماز جو اس کی شب میں سو رکعت پڑھی جاتی ہے، یہ دونوں نماز میں بدعت خلاف شرع ہیں۔
علامہ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
لوگوں کے ایجاد کردہ بدعات میں سے پندرہویں شعبان کی رات میں جشن منانے اور اس دن کو روزے کے لئے خاص کرنے کی بدعت ہے۔ اس سلسلہ میں کوئی ایسی دلیل نہیں ہے جس پر اعتماد کیا جا سکے ، اس کی فضیلت کی بابت کچھ احادیث وارد ہیں جو لائق استناد نہیں ہیں ، اس رات میں نماز پڑھنے کے تعلق سے جو کچھ وارد ہے وہ سب موضوع ہے، جیسا کہ اکثر اہل علم نے اس پر متنبہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں اہل شام وغیرہ میں سے کچھ سلف سے بھی آثار وارد ہیں ، مگر جس امر پر جمہور علماء کا اتفاق ہے وہ یہ کہ اس رات جشن منانا بدعت ہے، اور اس کی فضیلت کے سلسلے میں وارد تمام احادیث ضعیف ہیں ، اور کچھ موضوع ہیں ، جن علماء نے اس پر متنبہ کیا ہے ان میں حافظ ابن رجب ہیں ، انہوں نے اپنی کتاب لطائف المعارف وغیرہ میں بیان کیا ہے کہ ضعیف احادیث پر عبادات کے باب میں تبھی عمل کیا جائے گا جب اس کی [ کچھ نہ کچھ ] حقیقت صحیح دلیلوں سے ثابت ہو، مگر پندرہویں رات میں جشن منانے کی کوئی حقیقت ہی نہیں ہے، کہ اس مسئلے میں ضعیف احادیث کو بطور دلیل قبول کر لیا جائے۔

علامہ ابن رجب رح :
نصف شعبان کی رات اور اس کی فضیلت کے بارے میں کوئی حدیث بھی قابل اعتماد نہیں اور نہ ہی اس رات میں موت کے فیصلے کی منسوخی کے متعلق کوئی صحیح حدیث ہے، لہذا آپ ان نا قابل اعتما د روایات کی طرف ذرہ بھی التفات نہ فرمائیں۔

سلف صالحین کا طرزِ عمل

تابعین میں سے بعض (مثلاً مکحول، خالد بن معدان) اس رات کی انفرادی عبادت کرتے تھے لیکن اجتماعی عبادات، چراغاں، مخصوص نمازیں سلف سے ثابت نہیں
امام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں:
نصفِ شعبان کی رات کی فضیلت کے بارے میں متعدد آثار وارد ہوئے ہیں، لہٰذا اس رات انفرادی عبادت کرنا درست ہے، مگر بدعات درست نہیں۔
صحیح علمی موقف کیا بنتا ہے؟
اس رات کو بالکل بے اصل کہنا درست نہیں۔
اور اسے عید یا لازمی عبادت بنا لینا بھی درست نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں